اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے
- تحریر آصف محمود
- منگل 22 / ستمبر / 2026
اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے۔ پچھلی مرتبہ ریاست کو ماں جیسا سمجھ کر غلطی کر بیٹھے تھے، اس بار تیاری کے ساتھ آئیں گےاور منہ توڑ کر رکھ دیں گے۔ آزادی لیں گے یا شہادت ، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔
خان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ خان نہیں تو ہمیں یہ ملک نہیں چاہیے۔ جن لوگوں کے پاس حکومت ہےا س سے بہتر ہے ملک پر ایٹم بم مار دیا جائے۔ اس سے تو اچھا ہے ہم افغانستان چلے جائیں ۔۔۔ یہ وہ بیانیہ ہے جو پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار سے محرومی کے بعد تشکیل دیا ہے۔ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ یہ ایک سیاسی جماعت کا بیانیہ ہے یا یہ کسی عشق مجہول کے ملنگ ہیں جو دنیا سے بے نیاز حالت رقص میں ہیں۔
یہ سیاسی آزادیوں اور حقوق انسانی کا مقدمہ ہی نہیں۔ یہ ہمارے سامنے کی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف نے حقوق انسانی سے لے کر آئینی آزادیوں تک ہر اس تصور کو ویپنائز کر دیا ہے جو سیاست ، دستور اور جمہوریت سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج سیاست کا حصہ ہےا ور گاہے اس میں اشتعال بھی آ جاتا ہے لیکن یہ وقتی کیفیت ہوتی ہے۔ یہ کیفیت اگر مسلسل ہی طاری رہے تو پھر اس کا شافی علاج تلاش کرنا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی بھی معاشرہ اس ہمہ جہت ہیجان، نفرت ، اشتعال اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
احتجاج کی آزادی جتنی اس جماعت کو ملی ، پارلیمانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آزادی رائے کا جتنا سوئےا ستعمال اس جماعت نے کیا کوئی دوسرا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ڈی چوک میں مہینوں، قبریں کھود کر اور ریاست کی عملداری کو تماشا بنا کر جو احتجاج ہوتا رہا، وہ اپنی مثال ہے۔ اس معاشرے میں ہر فرد کی جس طرح پگڑی اچھالی گئی اور ہر مخالف کو جس طرح رسوا کیا گیا آزادی رائے کے ایسے اودھم کی بھی کوئی مثال کہیں دستیاب نہیں ہے۔ اسی عدم توازن نے انہیں یہ دن دکھائے ہیں ۔ اب ان کے ساتھ جو ہورہا ہے، وہ اسی رویے کا جواب آں غزل ہے۔ یہ ایسا نہیں ہے، یہ ایسے کو تیسا ہے ۔ یہ سیر نہیں ہے یہ سیر کو سوا سیر ہے۔ یہ تنگ آمد بجنگ آمد ہے۔ ان کے مسلسل احتجاج ، ہیجان ، نفرت اور اشتعال پر مبنی سیاست کے ان مظاہر کے بعد یہ سب ہونا ہی تھا۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ سیاست اور احتجاج ایک چیز ہے اور ریاست پر دھاوا بول دینا بالکل دوسری چیز ہے۔ بلوائیوں کے جتھوں کو کوئی نیشن سٹیٹ برداشت نہیں کرسکتی۔
ان کا بیانیہ دیکھیں، بجائےا س کے کہ یہ کہیں ہم پر امن لوگ ہیں، پر امن احتجاج کرتے ہیں اور لوٹ جاتے ہیں، یہ اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی دیتے ہیں، یہ آزادی اور شہادت کا نعرہ لگاتے ہیں۔ یہ ریاست اور حکومت کا فرق بھول جاتے ہیں۔ ان کا کپتان اقتدار میں نہ ہو تو گویا ریاست بھی ان کے لیے ولن ہے۔ یہ دنیا کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنا بیانیہ اور اپنے کارکن اور اپنی حکمت عملی سب کچھ سوشل میٖڈیا کے طفلان خود معاملہ کے حوالے کر رکھا ہے۔ سیاسی بصیرت کہیں نظر نہیں آتی۔ ہیجان، تخریب، نفرت اور اشتعال ان کا تعارف بن چکا ہے۔ اس کے بعد کیا وفاق میں انتظامی مشینری ان کے لیے پھول لے کر کھڑی ہو گی؟
یہ جمہوری رویہ نہیں ہے، یہ کلٹ اور فاشزم ہے۔ جمہوریت دوسروں کے وجود کو برداشت کرنے کا نام ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ عدم اعتماد ہو جائے تو یہ اسے پانی پت کا میدان بنا دیتے ہیں۔ یہ اپنےسوا کسی کے روادار نہیں۔ یہ کلٹ خود کو ہی معیار حق سمجھتا ہے۔ ساری جہاں کی آلائشیں دامن میں لے کر کوئی ان کی صف میں آ جائے تو وہ مرد قلندر قرار دیا جاتا ہے اور جو ان کی صف میں نہیں ہے، وہ دنیا کا سب سے بڑا خائن، بے ایمان اور چور ہے۔ تصادم، نفرت ، اشتعال اور انتشار کی سیاست نے نہ تحریک انصاف کو کچھ دیا ہے یا اس کے کارکنان کو۔ صرف ’یوٹیومرز‘ کا دھندا چمکا ہے جو الگوردم کے مشکوک کھیل میں باقاعدہ ویپنائز ہو چکا ہے۔
اب بھی وقت ہے۔ سیاست میں دھوپ چھاؤں آتی رہتی ہے مگر اس کا حل سیاسی بصیرت سے ہی نکلتا پے۔ غیر سیاسی وکلا کے لشکر جمع کر لینا سیاسی تجربے اور بصیرت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی ’یو ٹیومرز‘ کوئی معقول سیاسی بیانیہ پیش کر سکتے ہیں۔ سیاسی جماعت کی پالیسی کے خدوخال وضع کرنے کا کام اہل سیاست ہی کو زیبا ہے۔ یہ مشتعل مزاج ناتراشیدہ چھوکروں کا کام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سمجھدار اہل سیاست کہاں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ان کی صف میں جو رہنما معقول بات کرتا ہے وہ اپنی ہی جماعت میں زیر عتاب آ جاتا ہے۔
سیاست کے دامن میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ ہر مسئلے کا حل نکال سکے۔ سیاست بند گلی سے راستہ نکالنے کا نام ہے۔ خود کو اور اہنے کارکنان کو بند گلی میں دھکیلنے کا نام سیاست نہیں ہے۔ تحریک انصاف کو بند گلی سے باہر نکلنا چاہیے۔
(بشکریہ: وی نیوز)