ہم سب ڈرتے ہیں
- تحریر امر جلیل
- منگل 22 / ستمبر / 2026
آپ کو ڈر لگتا ہے ؟ کس قدرنامعقول سوال میں نے پوچھ لیا ہے آپ سے۔ کون ہے اس دنیا میں جسے کسی قسم کا ڈرنہیں لگتاہو؟ بڑےبڑے پہلوانوں، بلوانوں، رستموں کو دنیا نے ڈر کے مارے کانپتے ہوئے دیکھا ہے، سناہے۔ ٹارزن بھی ڈرتا تھا۔
چھان بین کے بعد پتا چلا کہ ٹارزن ایک سے زیادہ چیزوں سے ڈرتا تھا۔ ایک صاحب کو آمرانہ نظام لگانے کا شوق تھا، وہ آئے دن آمریت نافذ کیا کرتا تھا خود کو نڈر ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔ مٹھیاں بھینچ کر عوام سے کہتا پھرتا تھا ’میں کسی سے نہیں ڈرتا، اپنی ساس سے بھی نہیں ڈرتا‘۔ ایک روز اس کے باورچی نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا پتا چلا کہ نڈر صاحب کو کاکروچوں سے ڈر لگتا تھا۔ کاکروچ پر نگاہ پڑتے ہی اس کی جان نکل جاتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک صحافی نے اس سے پوچھا کہ سر، کاکروچ کے پاس بم ہے نہ ایٹم بم ہے آپ جانتے ہوں گے کہ مچھر کی طرح وہ کاٹ کر آپ کو ملیریا میں مبتلا نہیں کرسکتا۔ پھر آپ گھٹیا سے کاکروچ سے کیوں ڈرتے ہیں؟ آمریت نافذ کرنے والے حضرت نے کہا کہ اسی بات سے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کاکروچ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیشہ ڈرتے رہو کاکروچ جیسی چیز سے جس کے پاس آپ کو مارنے یا زخمی کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا ۔ یاد رکھو کہ جس کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا وہ خطرناک ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ ایک میٹرک فیل گنجے کے سر پر ہما پرندہ آکر بیٹھا بدبخت ہما کے سر میں بھیجا نہیں ہوتا وہ نہ دیکھ سکتا ہے نہ سوچ سکتا ہے کہ جس شخص کے سر پر وہ بیٹھ رہا ہے، وہ کس لائق ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہما جس جس کے سر پر بیٹھا اس نے تاریخ کے اوراق کو ہمیشہ کے لئے ذلیل کیا۔ سنی سنائی بات سنا رہا ہوں میں آپ کو، یہ کوئی من گھڑت قصہ نہیں ہے۔ میں لاکھ جھوٹا سہی مگر میں سنے سنائے قصوں میں ہیرپھیر نہیں کرتا۔ بات جوں کی توں میں آپ کو سنا دیتا ہوں۔ آپ اس بات کو چھوڑیں کہ وہ میٹرک فیل گنجا شخص کون تھا، کیا کرتا تھا ، اورکس ملک کا باسی تھا ؟ آپ بس اس بات پر توجہ دیں کہ ایک روز ہما پرندہ ایک میٹرک فیل گنجے کے سر پر آکر بیٹھا۔ آپ خود سیانے ہیں ، آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ ہما جس کسی کے سرپر آکر بیٹھے۔ اس شخص کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔
ہما پرندے کے سر پر آکر بیٹھنے کے بعد میٹرک فیل گنجے کے وارے نیارے ہوگئے، گنجا میٹرک فیل آپ کی طرح اور میری طرح گوشت پوست کا بنا ہوا تھا ۔ آپ کی اور میری طرح خطاوار تھا ، آپ کی اور میری طرح وہ بھی ڈرتا تھا۔ آپ فقیر کی بات یاد رکھیں کہ دنیا میں آنے والا ہر شخص ڈرتا ہے۔ میٹرک فیل گنجے کو اندھیروں سے ڈر لگتا تھا اس لئے اس کی عالیشان رہائش گاہ دیوالی کے تہوار کی طرح رات رات بھر جگ مگ کرتی رہتی تھی۔ اس کے بیڈ روم کی بتیاں کبھی نہیں بجھائی جاتی تھیں سورج ڈھل جانے کے بعد روزانہ اس کی عالیشان رہائش گاہ کے اطراف کالے بکروں اور کالے مرغوں کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی ۔
ایک افسر بڑے افسروں میں سب سے بڑے افسر تھے۔ وہ بین الاقوامی معاملات پر نظر رکھتے تھے اور پالیسیاں بناتے تھے وہ سرکارکو مشورے دیتے تھے۔ کس ملک سے سلام دعا ، کس ملک سے دوستانہ کس ملک سے برادرانہ روابط رکھے جائیں ۔ کس ملک کو شک کی نگاہ سے دیکھاجائے،۔ کس ملک سے دشمنی کی جائے چوبیس گھنٹے وہ بین الاقوامی حالات پر نظر رکھے رہتا تھا۔ وہ سب سے بڑے افسر کالی بلی سے ڈرتے تھے۔ ان کی دو چار بہوئیں تھیں۔ وہ سب بلیاں پالتی تھیں۔ بڑے افسر نے گھر پر احکامات جاری کررکھے تھے ان کی کوئی بہو کالی بلی نہیں پالے گی۔ ان کے حکم پر سختی سے عمل کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ بڑے افسروں کے بڑے افسر نے زبردست بین الاقوامی روابط کی پالیسی بنائی اور بتایا کہ اس پر عمل درآمد کرنے سے بین الاقوامی امن کو تقویت ملے گی۔ دشمن ممالک آپس میں جھپیاں پائیں گے، خزاں میں بہار آجائے گی۔ وہ خوب بن سنور کر گھر سے نکلے ، گاڑی کی پچھلی سیٹ پر براجمان ہوئےگاڑی بڑے گیٹ سے باہر نکل رہی تھی کہ اچانک ایک کالی بلی عین گاڑی کےسامنے سے گزر گئی۔ افسروں کے افسر کی جیسے جان نکل گئی ، انہوں نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کے لئے کہا۔ گاڑی رک گئی ، تمام معاملات رک گئے۔ افسران اپنے بڑے افسر کے آنے اور زبردست بین الاقوامی سسٹم کو سمجھنے کی آس لگائے بیٹھے رہے۔ اس روز افسروں کے سب سے بڑے افسر منسٹری نہیں گئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقومی معاملات کو دھچکا لگا۔ دنیا میں بہت کچھ بدل گیا۔ دوست ممالک دشمن ممالک میں بدل گئے۔ بند پڑی ہوئی جنگیں دوبارہ شروع ہونے لگیں۔ ممالک ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے۔
خدا خدا کرکے چوبیس گھنٹے کسی بھی طرح گزر گئے۔ دوسرے روز بڑے افسر سنبھل کر گھر سے نکلے، پھر سے حالات نارمل ہونے لگے۔ ایک کالی بلی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)