منصفانہ عالمی نظام کا تقاضہ کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق کی بات بھی کی جائے!

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ’بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر ایک ایسے عالمی نظام کے قیام کے لیے مل کر کام کرے جو انصاف اور مشترکہ انسانی ارادے پر قائم ہو‘۔ جنگ کا سامنا کرنے والے ایک ملک کے صدر کی طرف سے یہ ایک نیک اور قابل قدر پیشکش ہے۔ تاہم جب تک کسی بھی لیڈر کے الفاظ اس کے عمل سے مترشح نہ ہوں تو ایسی باتوں کو اچھائی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔

صدر پزشکیان سے ایک دن پہلے امریکی صدر نے بھی اپنی توصیف اور دنیا میں امن کے لیے  اقدامات کے بارے میں بھاری بھر کم  اسم ہائے صفات سے بھرپور کچھ ایسی ہی تقریر کی تھی۔ اور یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو وہ اسے تباہ و برباد کردیں گے۔ البتہ دونوں ملکوں کے صدور میں چند بنیادی تضادات موجود ہیں۔  ڈونلڈ ٹرمپ بااختیار لیکن کسی حد تک امریکی عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ جبکہ ایرانی صدر بے اختیار ہیں اور نہ ہی  انہیں پاسداران کے علاوہ کسی کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے پزشکیان کی باتیں عمدہ اور خوشگوار ہونے کے باوجود  ان میں وزن محسوس نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ وہ ایک ایسے ناقص اور جابرانہ نظام کا  پرزہ ہیں جس میں ایک انتہا پسند ٹولہ ملک کو یرغمال بنا کر اس کی تباہی کا سبب بنا ہؤا ہے۔ لیکن پزشکیان سمیت ملک کی ساری منتخب قیادت اس ٹولے کا’ بھونپو‘ بننے کے سوا کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ پزشکیان اپنی تمام تر نجابت و شرافت کے باوجود خود کو اس المناک صورت حال سے لاتعلق رہنے اور صدر ہونے کے باوجود جنگ زدہ ایرانی عوام کی سہولت کے لیے کچھ کرنے کے اہل نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی وہ صدارت کے منصب جلیلہ پر فائز ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ جنگ بند کرانے میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل ہیں۔ ایسے میں ان کی باتیں  ایک سخت گیر  ملک کے آمرانہ نظام کے پروپیگنڈے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔

اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے  مسعود پزشکیان نے امریکی و اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی اور معصوم بچوں کی ہلاکت کی تصاویر دکھا کر عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش ضرور کی۔ ایران میں ہونے والی تباہی و بربادی کے بارے میں ان کا بیان کردہ مرثیہ کچھ غلط بھی نہیں ہے لیکن ایرانی لیڈروں کو خود بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ   امریکی جارحیت کے بارے میں جو نکتہ وہ ایران میں ہونے والی تباہی کی تصاویر کے ذریعے دنیا کے سامنے لانا چاہ رہے  تھے، اسے تو خود امریکہ کے حلیف ممالک کا میڈیا بلکہ بڑی حد تک متعدد امریکی  میڈیا ہاؤسز بھی پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن  مسعود پزشکیان اس تصویر کا وہ رخ دکھانے کے قابل نہیں تھے جس کا تعلق ایرانی عوام کے ساتھ ایک جابرانہ نظام حکومت میں برتے جانے والے سلوک سے ہے۔   امریکی حملہ کو تو دنیا کے ہر انسان دوست شخص اور ہر مہذب حکومت نے غلط قرار دیا ہے لیکن کیا کسی ایرانی لیڈر نے بھی  سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں تبدیلی کے لیے احتجاج کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے  کے وقوعہ پر بھی شرمندگی یا شرمساری کا اظہار  کیا ہے۔ امریکہ  کے تمام تر استعماری رویہ کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ وہاں کسی حد تک آزادی رائے  حاصل ہے اور ملکی میڈیا اسے بلادریغ استعمال کرنے کی کوشش بھی  کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی بمباری کے منفی اثرات، میناب میں بچوں کی ہلاکت یا  کسی امریکی حکومت کے غلط فیصلوں پر تنقید اور نکتہ چینی سے بھرپور رپورٹیں  اور تبصرے پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ مسعود پزشکیان کو  یہ جواب دینا چاہئے کہ کیا ایرانی میڈیا کو بھی پاسداران اور مذہبی رجعت پسند لیڈروں کی مرضی کے خلاف کوئی خبر یا رائے  سامنے لانے کا حق حاصل ہے؟  جو صدر خود اپنے عوام کے بنیادی  حقوق کی حفاظت نہ کرسکتا ہو بلکہ انہیں سلب کرنے والی قوتوں کا نمائندہ بنا ہؤا ہو، اس کی باتوں کے زیر اثر دنیا کیوں کر ایک ایسے عالمی نظام پر  اتفاق کرلے گی جس میں انصاف کا بول بالا ہو؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے  مسعود پزشکیان  نے کہا’ہمیں یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ  ہمارا عہد دوبارہ اس دور میں تبدیل ہو جائے جہاں صرف طاقتور ممالک کی مرضی چلے اور بالادستی قائم کرنے والی قوتیں دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کریں۔ ہمیں ایسی دنیا نہیں بنانی چاہیے جہاں فوجی طاقت ،حق و انصاف کی جگہ لے لے ، دہشت گردی سیاست اور مذاکرات کا متبادل بن جائے۔ اور جنگ مکالمے اور سفارت کاری کی جگہ اختیار کر لے‘۔انہوں نے عالمی برادری کو تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ دعوت کمزوری کے باعث نہیں بلکہ اپنی طاقت اور ثابت قدمی پر پختہ یقین کے ساتھ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے دنیا سے کہا کہ وہ ایک باوقار، بہتر اور سب کے لیے قابل احترام مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرے۔

یہ سب  باتیں درست  ہونے کے باوجود ایران کی سرکاری پالیسی  میں دکھائی نہیں دیتیں۔ پھر ایرانی صدر باقی ماندہ دنیا کو ان سنہری اصولوں پر عمل کرنے کی  دعوت کس بنیاد پر دے سکتے ہیں؟ ایران نے امریکہ کے ساتھ  ’ اعلان اسلام آباد ‘ پر دستخط کرنے کے باوجود آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے لیے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ۔ اس طرح ایک بار پھر امریکہ نے  ایران پر حملے کیے۔ یوں جو جنگ ختم ہورہی تھی، ایران کے پاسداران نے خود اسے اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے  پھیلانے کا اہتمام کیا۔ اسی پر اکتفا کرنے کی بجائے، یمن میں حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کے خلاف محاذ آرائی شروع  کی گئی اور دنیا کو ایک نئے  مالی اور سفارتی بحران کی طرف دھکیلا گیا۔ اس ماحول میں ایران کی طرف سے امن کی بات بے معنی  اور حقائق سے برعکس ہے۔

ایران  پر حملے تو اسرائیل اور امریکہ نے کیے لیکن اس نے یہ دعویٰ  کرتے ہوئے کہ  یہ حملے عرب ممالک  میں امریکی اڈوں سے کیے جارہے ہیں  ، مسلسل عرب ممالک کو نشانہ بنایا  ہے۔ یہ طرز عمل امن کی بجائے شرارت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران کا خیال ہے کہ  امریکی حملوں میں تو عوام  کا نقصان ہوتا ہے جو ہم  ’برداشت‘ کرسکتے ہیں لیکن عرب ممالک  پر حملوں سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگی جس کا فائدہ ایران  کو ہوسکتا ہے۔ گویا ایرانی حکمران  بھی درحقیقت اسی رویہ کا مظاہرہ کررہے ہیں جو ٹرمپ یا امریکہ کی طرف سے دیکھنے میں آتا  ہے۔ امریکہ اپنی عسکری طاقت کے زعم میں ایران جنگ کے ذریعے دنیا کو مشکل کی طرف دھکیل رہا ہے جبکہ ایرانی    حکام اپنی اسٹریجک پوزیشن اور میزائلوں و ڈرونز کے ذریعے دنیا کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ 

جنگ کے آغاز سے ہی ایران کا یہ دعویٰ  غلط ہے کہ عرب  ممالک میں امریکی اڈوں کی وجہ سے اسے ان ممالک پر حملوں کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت  ہر خود مختار خود یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ  وہ کس ملک کے ساتھ کیسے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ ایران ضرور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کی بحث کو سفارتی ایجنڈے پر لانے کا تقاضہ کرسکتا ہے جیسا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی استبداد کو سفارتی و سیاسی طور سے اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن پالیسی کے اختلاف پر کسی غیرجانبدار ملک کو ’جانبدار‘قرار دے کر جنگ میں گھسیٹنا ناجائز اور غلط ہے۔ ایران بھی جانتا ہے کہ اس کی یہ حکمت عملی نہ امریکہ کے خلاف ہے اور نہ عرب ممالک کو نقصان پہنچانا اس کا مقصود ہے۔ اس حکمت عملی سے درحقیقت دنیا  کی معیشت کو متاثر کرکے ایران کے لیے سپیس حاصل کرنے کی کو شش کی جارہی ہے۔  اس طرح یہ  پالیسی بھی ویسی ہی یک طرفہ اور  جارحانہ   ہے جیسی  امریکہ دوسرے ممالک کے حوالے سے اختیار کرتا رہا ہے۔

ایرانی حکومت ابھی تک امام خمینی کے اس فلسفہ  ولایت فقیہ پر  یقین رکھتی ہے جس کے تحت ایرانی سیاست و مذہبی تفہیم کو دوسرے ملکوں پر مسلط کیا جاتا ہے۔   اسی نظریہ کی وجہ سے عرب ممالک  نے ہمیشہ ایرانی ارادوں سے عدم تحفظ محسوس کیا ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب نے  2023 میں ایران کے ساتھ  سفارتی تعلقات بحال  کرلیے تھے اور ایران کے خلاف امریکی حملوں  میں بھی غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔ ایر انی  حملوں کے باوجود ہر عرب ملک نے ایرانی جارحیت کا جواب نہ دے کر درحقیقت مشرق وسطیٰ کو ابھی تک ایک بڑی اور ہولناک جنگ  کا شکار ہونے سے بچایا ہؤا ہے۔ حالانکہ ایرانی ہتھکنڈوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح جنگ  پھیل جائے اور اس کے تمام ہمسایہ ممالک تباہ و برباد ہوں۔ اس پالیسی  سے نہ امریکہ کا نقصان ہوگا اور نہ اسرائیل تباہ ہوجائے گا بلکہ علاقے میں اسرائیل زیادہ طاقت ور ہوکر ابھرے گا اور اسے چیلنج کرنے والے عرب ممالک کمزور ہوں گے۔

ایرانی صدر کی انصاف  اور مشترکہ انسانی اقدار کی خواہش قابل قدر ہے لیکن یہ حق صرف پاسداران کو  ہی حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ ایران کے عوام کو بھی آزادی رائے، انصاف اور ناجائز سرکاری تسلط سے نجات حاصل کرنے کا حق ملنا  چاہئے۔