ترقی کی حقیقی بنیاد

اگر کسی کا خیال ہے کہ میں صوبہ پنجاب میں ہونے والی انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کے خلاف ہوں تو یقین کریں ایسا ہرگز نہیں۔ میں ذاتی طور پر پورے پاکستان کے، پنجاب بھر کے اور سب سے بڑھ کر ملتان کے انفراسٹرکچر کی ترقی کا نہ صرف خواہاں ہوں بلکہ اس سلسلے میں لکھتا بھی رہتا ہوں اور لکھتا رہوں گا۔

وہ اس لیے کہ بطور قلم کار یہ ہماری اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ ہم ہر ایسی ترقی اور عمل کے شانہ بشانہ اپنی لکھنے کی صلاحیت کو استعمال کریں جو عوام الناس کے فائدے اور سہولت کیلئے ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ملتان تشریف لائیں۔ اسے آپ میری خوش قسمتی کہیں کہ میں ملتان میں نہیں تھا۔ خوش قسمت اس لیے کہ گزشتہ کئی عشروں سے یہ عاجز دیکھ رہا ہے کہ جب بھی حکمران اس شہر کا دورہ کرتے ہیں،دن کا آدھا وقت سڑکوں پر گزارنے والا یہ مسافر ہر دوسرے چوک پر تنگ و پریشان ہوتا ہے۔ سڑکوں کی بندش اور وی آئی پی رُوٹ لگنے سے جو پریشانی اٹھانی پڑتی ہے اسے بدقسمتی کے سوا بھلا اور کیا کہا جا سکتا ہے ؟

میں یہ بات موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے نہیں بلکہ عشروں سے حکمرانوں کے ذہن میں عوام سے بلند تر ہونے کے فتور میں مبتلا ہونے کے حوالے سے کہہ رہا ہوں۔ ہمارے حکمرانوں کے دماغ میں سمایا ہوا کمپلیکس کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس شوق کو بلیوبک کے ضابطوں اور سکیورٹی کے نام پر مزید پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ تاہم یہ ایک علیحدہ موضوع ہے فی الوقت وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ ٔملتان کی بات کر رہا ہوں۔ اس دورے میں وزیر اعلیٰ نے جہاں نشتر ہسپتال میں پی ای ٹی سکین اور کینسر یونٹ کا فیتہ کاٹا وہیں انہوں نے ملتان میں گرین بسوں کے ساٹھ بسوں پر مشتمل فلیٹ اور اس کے روٹس کا افتتاح بھی کیا۔

اب ظاہر سی بات ہے ان الیکٹرک بسوں کی ملتان آمد سے کس طرح اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا بھی نہیں چاہیے۔ بہرحال یہ بسیں ہماری اور آپ کی سہولت کے لیے بھیجی گئی ہیں اور یہ ہمارے ہی کام آئیں گی۔ صاف سی بات ہے کہ جن کے پاس گلف سٹریم جی500 قسم کے جہاز ہوں وہ زمینی مخلوق کی طرح ان بسوں پر کیسے سواری کر سکتے ہیں ؟ چاہے یا نہ چاہے یہ بسیں بہرحال ہمارے ہی لیے دی گئی ہیں اور اس سے ہمیں ہی فائدہ اٹھانا ہے۔ لیکن! معاف کیجیے گا اچھی بھلی گفتگو کے دوران جب لفظ  ’لیکن‘آتا ہے تو اس کے بعد لامحالہ اعتراضات کا دفتر کھل جاتا ہے۔ مجھے بسوں پر کوئی اعتراض نہیں تاہم ترجیحات کے معاملے میں یہ قلم کار اگر کچھ عرض کرے تو اسے تعصب کی نظر سے دیکھنے کے بجائے حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو بہت مناسب ہوگا۔

میری اس تعصب سے مراد دو طرفہ تعصب ہے۔ وہ لکھنے والے کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور پڑھنے والے کی طرف سے بھی۔ لکھنے والے کو وہ سہولت حاصل نہیں جو پڑھنے والے کو حاصل ہے۔ لکھنے والا ایک وسیع تر تناظر میں ساڑھے تیرہ، چودہ سو الفاظ کی پابندی میں رہتے ہوئے کسی واقعے یا صورتحال کے بارے میں لکھتا ہے،جگہ اور الفاظ کی پابندی ،اس واقعے یا صورتحال کے بارے میں اسی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے لکھا جا سکتا ہے اور لکھا جانا چاہیے۔ لیکن پڑھنے والے کے خیال کا سرپٹ گھوڑا جس طرف چاہے منہ کر لے اور جو چاہے فرمائش کر دے۔

 بعض قارئین کی فرمائش ہوتی ہے کہ کل ہونے والے کسی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بات کو جنرل ضیاالحق کے مارشل لا سے پیدا ہونے والی خرابیوں سے شروع کیا جائے۔ کچھ لوگ ان خرابیوں کا آغاز اس سے بھی پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے قومی صنعتوں کو قومیائے جانے سے کرنے کا مطالبہ داغ دیتے ہیں۔ کچھ کے خیال میں ہر خرابی کی جڑ جنرل پرویز مشرف ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر جو مسئلہ درپیش ہے وہ تین پارٹیوں کے رضاکاروں اور تنخواہ داروں کا ہے۔ موجودہ حکومت کی کسی بات پر تنقید کریں تو وہ اس بات پر سیخ پا ہو جاتے ہیں کہ یہی کچھ جب 2018 اور 2022 کے درمیان ہو رہا تھا تو تب آپ کہاں تھے؟ اب بندہ ہر بار ان کے اس احمقانہ اور متعصبانہ اعتراض کا کیا جواب دے؟ اس زمانے کے تمام تر کالم اسی اخبار کی ویب سائٹ کی آرکائیوز میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب ہر اعتراض پر اس سے متعلقہ اس دور کا کالم نکال کر دوبارہ تو شائع نہیں کیا جا سکتا۔ یہی حال یوتھیوں کا ہے۔ اگر کسی واقعے سے متعلق گزشتہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سردار عثمان بزدار جیسے نابغہ وزیر اعلیٰ کا ذکر کر دیا جائے تو تحریک انصاف کے اندھے مقلدین کے پاؤں کے تلوے جلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی برا بھلا کہنے میں ان کا تو کوئی ثانی نہیں لہٰذا غیر جانبدار لکھنے والا ہمیشہ کسی جیالے، متوالے، یوتھیے اور پٹواری کی توپ کی زد میں ہوتا ہے جس پر وہ دھنا دھن اعتراضات کے گولے چلا کر اپنے مرشد سے وفاداری پر مہر ثبت کرتا ہے۔

اپنے گزشتہ کالم میں اس عاجز نے جب حکمرانوں کے جھوٹ اور ڈھٹائی کا ذکر کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے خرید کردہ جہاز کا ذکر کیا تو ایک تنخواہ دار پٹواری نے کمنٹ سیکشن میں لکھا کہ میں نے یہ کالم لکھتے ہوئے فواد چوہدری کو بھلا دیا ہے جو کہتے تھے کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر پر پچپن روپے فی کلومیٹر خرچہ آتا ہے۔ پھر عمران خان کو میرا لیڈر اور مجھے اس کا پیروکار قرار دیا۔ جب پڑھنے والے کی آنکھ میں تعصب کا موتیا اترا ہو یا پیسے کی پٹی بندی ہو تو ایسے میں سچائی دکھائی نہیں دیتی۔ اگر موصوف مجھ پر بے بنیاد الزام عائد کرنے کے بجائے تھوڑی سی تکلیف کر کے روزنامہ دنیا میں فواد چوہدری کے اس بیان کا تیاپانچہ کرنے والا میرا کالم پڑھ لیتے تو اچھا ہوتا۔ لیکن مرید یوتھیا ہو یا پٹواری، اس کو عقل کی بات سمجھانے کی کوشش بذات خود حماقت ہے۔ ایک پنجابی محاورہ ہے کہ منہ تے مکرے تے پانی وچ تھُکے دا کوئی علاج نئیں۔ ترجمہ آپ خود کر لیں۔ محاورے ایسے ہی نہیں بنتے۔

آج کل وزیراعلیٰ پنجاب کا سارا زور الیکٹرک بسوں کی تقسیم پر ہے۔ ان بسوں کی سہولت ایک اچھا قدم ہے لیکن فی الوقت میں اسے ترقی کا کاسمیٹک حل قرار دوں گا۔ جزام کا علاج کرنے کے بجائے چہرے پر میک اپ تھوپنے سے بدصورتی کو وقتی طور پر تو چھپایا جا سکتا ہے مگر یہ اصل بیماری کا علاج نہیں ہے۔ ملک کی ترقی کیلئے جو چیز سب سے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے وہ تعلیم ہے۔ اس میں فنی یا جنرل تعلیم کے درمیان کوئی تخصیص نہیں لیکن ملک کی ترقی بہر صورت تعلیم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ الیکٹرک بسیں،پل، فلائی اوور، انڈر پاس اور اس قسم کے فوری طور پر دکھائی دینے چیزیں بھی اپنی جگہ پر اہم ہیں لیکن ملک کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہوگی تبھی یہ چیزیں بنائی،خریدی اور چلائی جا سکتی ہیں۔ برُی معاشی صورتحال میں ایسی چیزوں کو بنانا، چلانا اور پھر تا دیر قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ہماری حکومتوں کا سارا زور فوری طور پر دکھائی دینے والے کاسمیٹک اقدامات پر ہے۔ تعلیم کا یہ عالم ہے کہ آؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے تازہ ترین صورتحال کے مطابق پاکستان بھر میں دو کروڑ تریپن لاکھ بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ ان میں سے ایک کروڑ سے زائد بچوں کا تعلق پنجاب سے ہے اور پنجاب میں سکول نہ جانے والے بچوں میں جنوبی پنجاب کے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس لسٹ میں ضلع راجن پور 48 فیصد کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں46 اور مظفر گڑھ میں 45فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔

 کل کو پنجاب کے یہ ایک کروڑ غیر تعلیم یافتہ بچے ایک کروڑ خاندان ہوں گے اور ملکی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہوں گے۔ آنے والے والے دنوں کے اس منظر نامے میں ہم نے الیکٹرک بسوں کا اچار ڈالنا ہے ؟

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)