ذرا سنبھل کے
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 24 / ستمبر / 2026
زندگی ایک کھیل تماشا ہے تو ہمیں پاکستانی سیاست کو بھی ایک تماشا ہی سمجھنا چاہیے۔ بعض باتوں پر ہم چونک جاتے ہیں اور بال کی کھال نکالنا شروع ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ہر بات کا اپنا ہی مزا ہے اور ہمیں مزے سے سب واقعات کو دیکھنا چاہیے۔
جماعت اسلامی نے اگر اچانک ملتان میں پہنچ کر اپنا لانگ مارچ ختم کر دیا ہے تو اس میں کیڑے نہ نکالے جائیں۔ وزیراعظم شہبازشریف سے ایک فون کال پر حافظ صاحب کی اگر گفتگو کے نتیجے میں لانگ مارچ کو اکتوبر تک موخر کر دیا گیا ہے تو اس میں اچھی بات یہ تلاش کرنی چاہیے کہ جماعت اسلامی اور حکومت میں کس قدر گہرے روابط اور انڈرسٹیڈنگ ہے۔ کوئی کم عقل اگر یہ سوچتا ہے چالیس دن سے زائد جاری دھرنے اور لانگ مارچ کا نتیجہ اگر ایک فون کال ہی تھی تو وہ پہلے کیوں نہ ہوئی۔
امریکہ سے وزیراعظم شہبازشریف کی ساری مصروفیات میں رخنہ ڈال کر کیوں یہ بات کی گئی اور پھر مان بھی لی گئی۔ارے بابا کبھی لائن کٹ جاتی ہے تو کبھی جڑ بھی سکتی ہے ناں۔ بس لائن جڑ گئی اور بات بن گئی۔ اب کچھ لوگ اس کامیاب رابطے کی بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ شاید تحریک انصاف سے بھی کوئی ایسی لائن مل جائے اور آخر وقت پر لانگ مارچ کو ملتوی کر دیا جائے۔ بلے بلے ہوجائے گی۔ یہ خواہش فی الوقت ایک خواب لگتی ہے، مگر صاحب جب اس وطن عزیز میں کچھ ہونے کو آئے تو ہو کر رہتا ہے۔ پھر بس حیرت کا سامان ہی باقی رہ جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن جیسا صلح جو اور بیبا لیڈر واقعی اس وقت کوئی اور نہیں، اس لئے وہ جوش میں بھی ہوش رکھتے ہیں مگر معجزے تو کسی وقت بھی ہو سکتے ہیں۔ جب من میں سودا سما جائے تو بات بنتے دیر نہیں لگتی۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ تحریک انصاف کے پاس اس وقت کوئی حافظ نعیم الرحمن نہیں۔ اس میں لیڈروں کی بھرمار ہے مگر فیصلہ کس نے کرنا ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ لے دے کے بات سہیل آفریدی پر آجاتی ہے اور وہ خاصے جذباتی اور جوشیلے نوجوان ہیں۔ شاید پارٹی میں موجود دیگر رہنما ان کی باتوں سے متفق نہ ہوں، اس لئے ابھی تک ابہام موجود ہے کہ 27ستمبر کو کیا ہونا ہے۔ حکومت بھی ضد لگائے بیٹھی ہے کہ اڈیالہ جیل میں بیٹھے بندے سے بات نہیں کرنی، کنٹینرز لگا کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ میں تو کہتا ہوں اس معاملے میں بھی حافظ نعیم الرحمن کو ڈال دیا جائے وہ کوئی راہ نکالیں، کوئی لائن ملا دیں تاکہ ملک اس وقت جس ہیجان میں مبتلا ہے اس سے نکل آئے۔
یہ باتیں شاید خواب و خیال کے ضمن میں آتی ہیں کیونکہ حل کسی اور طرح نکالا جا رہا ہے۔ وطن عزیز میں معاملہ حل ہونے پر آئے تو چند منٹ نہیں لگتے، نہ حل ہونے پر آئے تو بات بڑے تصادم تک چلی جاتی ہے۔ اندر سے سب چاہتے ہیں معاملہ یا مسئلہ حل ہو جائے مگر باہر کی فضا، انا کے جھکڑ ایسا کرنے نہیں دیتے۔ یہ سیاست بھی کیا غضب کی شے ہے، اس میں لچک پیدا ہو جائے تو پہاڑ بھی موم ہو جاتے ہیں۔ لچک پیدا نہ ہو تو روئی بھی پہاڑ بن جاتی ہے۔ تاریخ میں کئی بار دیکھا گیا ہے کہ پاکستان بحرانوں میں مبتلا نہ ہوتا اگر وقت پر اچھے فیصلے کر لئے جاتے۔ کئی مارشل لا نہ لگتے،اگر سیاستدانوں نے مارشل لاکو آنے کا موقع نہ دیا ہوتا۔ پھر لائن کٹ جانے کا شکوہ کیا جاتا ہے، حالانکہ لائن کو ملائے رکھنا ہی کامیابی ہے۔
اب خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے،کسی بھی پاکستانی کا دل اس پر خوش نہیں۔ گورننس کا ایک عجیب بحران وہاں سر اُبھار رہا ہے۔ایک اسمبلی ہے جو اختیار مانگ رہی ہے، ایک وزیراعلیٰ بھی دیکھ رہا ہے کہ صوبے کا انسپکٹر جنرل اس کی بات نہیں مان رہا۔ ایسی صورت حال کو کیا کہاجائے۔ واضح طور پر ایک بہت بڑا خلا اور بہت بڑی دوری ہے جس نے صوبے میں پڑاؤ ڈال دیا ہے۔یہ وہ صوبہ ہے جسے ہم دہشت گردی کا شکار صوبہ کہتے ہیں۔ جہاں آئے روز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں ہماری فورسز کے جوان و افسر اور عام شہری دہشت گردوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس صوبے میں اگر چیف آف کمانڈ ابہام اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے تو فائدہ کون اٹھائے گا؟ چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے والا معاملہ تو نہیں ہونا چاہیے۔ اُدھر منظر دیکھو تو سیاست میں ڈیڈ لاک ٹوٹتے رہتے ہیں۔ ایرانی صدر امریکہ پہنچتے ہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لہجے میں بھی لچک پیدا ہو جاتی ہے۔ دل یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ایرانی صدر سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ ان کی اس بات سے دنیا میں کتنا احساسِ تحفظ پیدا ہوا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔ ملاقاتیں ہی انسانوں کی زندگی کو آگے بڑھاتی ہیں۔ تالے لگا کر اپنے اپنے مورچوں میں بیٹھ جانا مسائل کا حل نہیں۔ راہیں نکالنا ہی اصل کامیابی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کے فیصلے پر چاہے لوگ کتنی ہی تنقید کریں مگر ان کے فیصلے کی حکمت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اسلام آباد کے جوحالات ہیں، پورا شہر کنٹینروں کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ کیا جماعت اسلامی اپنا لانگ مارچ لے کر پہنچتی تو وہاں امن و امان برقرار رہتا۔ جماعت اسلامی کے دھرنوں کی وجہ سے ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا، مگر اسلام آباد میں تو فضا کشیدہ ہے۔ وہاں اس کے لانگ مارچ میں اگر شرپسند بھی شامل ہو جاتے تو کون روکتا۔ جس قسم کے بیانات چل رہے ہیں ان کی موجودگی میں تو کچھ بھی بعید نہیں، اس لئے یہ فیصلہ بہت بروقت کیا گیا ہے کہ اس صورت سے خود کو علیحدہ کرلیا ہے۔
سب یہی تو سوچ رہے تھے ادھر سے جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا اُدھر سے تحریک انصاف خیبرپختونخوا سے اپنا لانگ مارچ شروع کرے گی تو کیا بنے گا۔ تو صاحبو! فیصلے کرتے ہوئے ہوش کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بعد میں لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، یہ بات ان سب فریقین کو یاد رکھنی چاہیے جو اس وقت بعض معاملات میں ہوش سے بے نیازہو کر فیصلے کررہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)