نئے صوبے، نئے منصوبے!
- تحریر سہیل وڑائچ
- جمعرات 24 / ستمبر / 2026
کلمونہےکا مدعا الگ، قیل وقال اپنی جگہ ، مخالفین کےتحفظات اور اعتراضات بھی موجود مگر معاملہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ گیم از آن۔ نئے صوبے بنانے کے بارے میں سوچ اور موقف قائم ودائم ہے اور اگر کوئی بحران نہیں آتا تو اب نئے صوبوں کے حق میں آواز ہر ضلع سے اٹھائی جائےگی۔
اگلے سال کے شروع تک اس مہم کے کامیاب نتائج کی توقع بھی باندھ لی گئی ہے۔ اس حوالے سے منصوبہ سازی ہوچکی، اگلے ہفتوں میں یہ مہم زور و شور سے چلے گی۔ یہ تجزیہ نہیں خبر ہے۔ پچھلے چند دنوں سے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ نئے صوبے بنانے کی مہم کو اتحادی جماعتوں کی مخالفت یا پر اسرار خاموشی کی وجہ سے چھ نہروں اور سی ایس آئی ایف کی طرح فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ اس تجویز کو ملتوی یا نظر انداز کرنے کے بارے میں سوچا تک نہیں گیا بلکہ اس پر عملدرآمد کیلئے تیزی پیدا کرنے کی تیاری جاری ہے۔
فی الحال پیپلے سندھ میں نئے صوبے بنانے سے انکاری ہیں، اِس تجویز کے منظر عام پرلانے سے پہلے اونچی پہاڑی پر بیٹھے شخص کو پنجاب کے 2جنوبی صوبوں میں اس کی پارٹی کی حکومت لانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ مگر دونوں باپ بیٹا اڑ گئے کہ سندھ میں نئے صوبے بنانا ان کی انا نہیں سیاسی بقا کا معاملہ ہے۔ فی الحال اونچی پہاڑی پر براجمان سندھی بابا اور اس کے ’متفاخر‘ بیٹے سے اسلام آباد و راولپنڈی کی ہوائیں ناراض لگتی ہیں۔ نونی پہلے خاموش رہے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پہلی لڑائی پیپلز پارٹی لڑے۔ اندرونی ذرائع اب یہ انکشاف کر رہے ہیں کہ نون کے اندر نئے صوبے بنانے کے حوالے سے دو مضبوط اور مخالف آرا سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک رائے نونی ٹیکنوکریٹ اور بیوروکریٹ مشیروں کی ہے جبکہ دوسری رائے سیاست کے اولڈ اسکول کی ہے۔
نونی مشیر اپنی قیادت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ نئے صوبوں کی مخالفت کی بجائے صوبوں کی تقسیم کو قبول کر لیا جائے۔ کیونکہ نون اور مقتدرہ کے بیشتر اہداف مشترک ہیں۔ اس لئے صوبوں کے مسئلے پر اختلاف پیدا کرکے خوامخواہ اپنے لئے، مقتدرہ کیلئے اور ملک کیلئے مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ ان ٹیکنوکریٹ مشیروں کو اسلام آباد کی ہواؤں اور فضاؤں کی نہ صرف مکمل آگاہی ہے بلکہ ان کی آپس میں گہری شناسائی بھی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مقتدرہ میں جو فاصلے پیدا ہوچکے ہیں، ان میں نون کو پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے مقتدرہ کے ساتھ جم کرکھڑا ہونا چاہئے۔ یہ مشیران نونی قیادت کو پیغام دے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا تصادم ہو تو ہو نون کا سیاسی فائدہ حکومت میں رہنے اور مقتدرہ کا ساتھ دینے میں ہے۔
پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے ان مشیران کی رائے ہے کہ نون پہلے سے ہی پنجاب میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے نئے صوبے بنانے پر متفق ہوچکی ہے۔ اب نئی اسکیم کے تحت پنجاب کے پانچ یا چھ حصے بھی ہو جائیں تب بھی سب سے طاقتور، مالدار اور بااثر صوبہ لاہور تونون کے پاس ہی رہے گا۔ اس لئے نون کواس مسئلے پر بڑی لڑائی لڑنے سے گریز کرنا چاہے۔ نون کے اندر سیاست کا اولڈ اسکول اپنی قیادت کو یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں کسی بھی صورت نئے صوبوں کا آئیڈیا قبول نہیں کرناچاہیے۔ اولڈ اسکول کا خیال ہے کہ نئے صوبے انتظامی وجہ سے نہیں دویا تین جماعتوں کا اثر توڑنے کی وجہ سے بنائے جارہے ہیں تاکہ ملک بھر میں کوئی بڑی سیاسی جماعت نہ رہے۔ صرف علاقائی گروپ رہ جائیں اور دوسرا مقصد صوبوں کی طرف سے معدنی وسائل اور وفاقی محاصل میں نیشنل فنانس کمیشن کا جو حصہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے یقینی بنایا گیا ہے، اسے ختم کرکے پھر سے وفاق کو مضبوط بنانا ہے۔
اس سیاسی تجربہ کار اولڈ گروپ کا مشورہ یہ ہے کہ اگرنون نئے صوبوں پر رضامند نہیں ہوتی تو یہ آئیڈیا ناکام ہوجائے گا اور یوں پیپلز پارٹی اور نون کا اتحاد قائم رہے گا اگریہ اتحاد ٹوٹا تو لازمی نتیجہ مقتدرہ اور اتحادیوں دونوں کی کمزوری کا باعث ہوگا۔ جس دن پیپلز پارٹی، نون یا مقتدرہ کے3رکنی اتحاد میں سے کوئی ایک بھی نکلا، یہ مشترکہ زوال کا نقارہ ہوگا۔ تاریخ اسی بات کی گواہ ہے اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔ اولڈ اسکول اپنی نونی قیادت کو یہ مشورہ دے رہا ہے کہ نئے صوبے ایک دلدل ہیں جن میں سیاست اور ملکی استحکام دھنس کر ہار جائے گا۔ جمہوریت کی بجائے جبر مضبوط ہوگا ، دونوں بڑی بلکہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کا اقتدار ختم ہوجائے گا اور پھر سےوفاق اپنی مرضی سے ریاست کو چلایا کرے گا۔
اطلاعات یہ ہیں کہ پہلے نون کی اکثریتی رائے اولڈ اسکول کے قریب تھی۔ سب سے بڑے نونی کی خاموشی بھی یہی نشاندہی کرتی تھی۔ مگر اب ٹیکنو کریٹ مشیران اپنے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں کو ایسے دلائل سے مسلح کررہے ہیں کہ وہ نئے صوبوں کی اسکیم کو مان لیں۔ لاہور اور اسلام آباد میں نئے صوبوں کے حق میں پتے ہلنے کی وجہ میں وزیر اعلیٰ کے خلاف یکایک سامنے آنے والی میڈیا مہمات کا عمل دخل بھی ہوسکتا ہے۔ ٹیکنوکریٹ مشیران کا خیال ہے کہ یہ میڈیا مہمات اس خلا کی وجہ سے زور پکڑ رہی ہیں جو مقتدرہ اور نون کے درمیان صوبوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور مخالفین اس خلا سے فائدہ اٹھانے اور اسے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مشیران کی رائے ہے کہ خلا ختم ہوگا تو مخالفت بھی اپنی موت آپ مرجائے گی۔
نئے صوبوں کا معاملہ ہاکی کے میچ کی طرح ہوگیا ہے۔ ہاکی کا یہ میچ عین اس مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جب میچ میں گیند ڈی میں پہنچنے کا نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر تو پاس صحیح مل جائے اور شارٹ درست نشانے پر لگے تو گول۔ اور اگر کہیں غلطی ہوجائے تو پھر معاملہ دوبارہ گیندکے ڈی میں آنے تک ٹل جاتا ہے۔ یہ معاملہ بقول شخصے اس وقت ہاکی میچ کی ڈی میں ہے۔ پیپلز پارٹی کے کھلاڑی نے پاس مس کردیا ہے۔ اب نونی کو پاس دینے پرساری توجہ ہے۔ انصافی کھلاڑی بھی منتظر ہے۔ پاس کون لے گا اور کون گول کرے گا ؟ بس فیصلہ اسی کا ہونا ہے۔ ماہ ِستمبر میں وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور صدر کا دوہ چین طے تھا۔ وزیر اعظم تو امریکہ چلے گئے اور صدر ٹرمپ سے تعریفیں کروارہے ہیں جبکہ صدر کا دورہ غیر معمولی ملکی حالات کی وجہ سے ملتوی ہوگیا ہے۔ صدر نے یورپ سے واپسی کے بعد چین روانہ ہونا تھا مگر وہ تاریخیں گزر گئیں اور دورہ نہیں ہوسکا۔
ایک طرف خلیل خان فاختہ اڑارہے ہیں اور دوسری طرف جان ومال جوکھوں میں پڑے ہیں۔ اصل میں چوائسز اب بھی قبولیت اور مقبولیت کی ہیں، نونی مشیران قبولیت کو چھوڑ کر مقبولیت کی چوائس اختیار کرنے کومشکل چوائس سمجھتے ہیں۔ کیونکہ مقبولیت کے ساتھ ’معتوبیت‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اپنی بقا کی خاطر مقبولیت کے بدلے معتوبیت کے مشکل آپشن پر مسلسل غور کررہی ہے۔ لیکن فی الحال نونی مشیران اس چوائس کے بارے میں غور بھی کرنے کو تیار نہیں۔ دراصل انہیں علم ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر بہت غور وفکر ہوچکا ، ماہر اور تجربہ کار ٹیمیں اس پرکام کرچکیں ، کچھ لوگ نئے ری سیٹ کوچلانےکیلئے بھی تیار بیٹھے ہیں۔ ضلعی معیشت اور نئی علاقائی معیشتوں پر زوروشور سے کام جاری ہے۔ اسی لئے تو کہا جارہا ہے آریا پار کی چوائس بھی صرف زلزلے یا بحران کی حد تک ہے، وگرنہ معاملہ طے ہے اور وہ توہر صورت میں نَّیا پارہی لگانا چاہتے ہیں۔
حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو نظام کے رائج کردہ اصول ہی نافذ العمل رہیں گے۔ پیپلے قبولیت کو چھوڑ کر مقبولیت توحاصل کرلیں گے اور کربھی چکے ہیں۔ مگر وہ معتوبیت اورمغضوبیت کا شکار ہوں گے۔ نونی قبولیت کی پٹڑی پرہی ٹرین چلانا چاہتے ہیں۔ وہ اس میں موزونیت اور معقولیت تلاش کرچکے ہیں۔ مسئلہ فیثا غورث طے ہوچکا۔ چھوٹے موٹے کلیئے رہ گئے ہیں۔ فارمولا طے ہوگیا تو تفصیلات بھی طے ہوجائیں گی۔
باقی رہ گئی کلمونہے، مٹی کے باوے کے تحفظات اور خدشات کی بات توبقول شخصے سیاست کے اس ’جھوٹے آئین اسٹائن‘ کو بدلتی دنیا کا کیا علم؟ اب قبولیت کا جھنڈا بلند، مقبولیت کا پرچم سرنگوں، حرف اقرار سر بلند حرف انکار مسترد، کچھ کہنا بیکار سب کچھ سننا درکار اور کچھ نیا یا الگ سوچنا فضول اور پھر اس پر بات کرنا نامعقول بن چکا ہے۔ کلمونہے کواسی دنیا میں ہی رہنا ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)