تحریک انصاف کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان

  • جمعہ 25 / ستمبر / 2026

تحریک انصاف کی قیادت نے جمعہ کو اسلام آباد کی طرف اپنے منصوبہ بند لانگ مارچ کو ایک ہفتے سے زیادہ کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ  لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہونا تھا۔

پارٹی 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ اس احتجاج کا مقصد پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا تھا جو اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ تحریک انصاف کے ایک سینئر رہنما نے روزنامہ ڈان  کو بتایا  ہے کہ اب مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔ اس لیڈر نے اخبار کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جلد ہی مارچ ملتوی کیے جانے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ تھی کہ وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تھکا دیا جائے۔ کیونکہ انہوں نے پہلے ہی وفاقی دارالحکومت اور متعدد راستوں کو بند کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف مارچ کے ذریعے جو کچھ حاصل کرنا چاہتی تھی، وہ پہلے ہی حاصل کرچکی ہے۔ انہوں نے سڑکیں بند کردی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تحریک انصاف جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر مارچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس نے وزیراعظم کی درخواست پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف اپنا احتجاجی مارچ مؤخر کردیا ہے تو رہنما نے کہا کہ تحریک انصاف کے فیصلے کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا مارچ خود منعقد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت تحریک انصاف کے ایک رہنما کی جانب سے ایک روز قبل دیے گئے اس اشارے کے بعد سامنے آئی ہے کہ اگر وفاقی حکومت چھ سے آٹھ ماہ کے اندر انتخابات کرانے، عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور 9 مئی اور 26 نومبر کو اپوزیشن جماعت کے خلاف کیے گئے کریک ڈاؤن کی تحقیقات کرانے پر آمادہ ہوجائے تو احتجاجی مارچ مؤخر کیا جاسکتا ہے۔

وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے ڈان کو بتایا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے یہ تینوں یقین دہانیاں کرا دی جائیں تو احتجاج مؤخر کیا جاسکتا ہے۔ تاہم پارٹی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اس بات کی تردید کی تھی کہ پارٹی کے کسی فورم پر ایسی کوئی تجویز زیر بحث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کوئی تجویز سامنے بھی آئے تو فیصلہ صرف عمران خان ہی کرسکتے ہیں۔

ممکنہ لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دیگر احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر راولپنڈی ڈویژن اور وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں زوروں پر ہیں۔

پنجاب میں پہلے ہی 13 روز کے لیے اجتماعات پر پابندی عائد کی جاچکی ہے اور لوگوں کو غیر قانونی اجتماع پر اکسانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 کے تحت دو ماہ کے لیے پابندی نافذ کردی گئی ہے۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہو گا، چاہے یہ سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولی چلائیں۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کا لانگ مارچ ضرورہو گا تاہم انہوں نے لائحہ عمل اور وقت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی میٹنگ ابھی بھی جاری ہے جس کے بعد آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی۔ ہم اس بار نکلیں گے تو اس  کرپٹ نظام کا ہر صورت بندوبست کریں گے۔