وائٹلی ویلیز: سرے کی ہریالی میں چھپا ایک صدی پرانا خواب
- تحریر فہیم اختر
- جمعہ 25 / ستمبر / 2026
یوں تو میں لندن کے علاقے ویمبلڈن میں گزشتہ بیس پچیس برس سے مقیم ہوں۔ زندگی کے کئی موسم یہاں گزرتے دیکھے، لندن کی گہما گہمی، اس کی مصروف سڑکیں، ثقافتی سرگرمیاں اور مختلف رنگوں سے بھرپور زندگی کا حصہ بھی رہا، لیکن ایک عجیب سی بات ہے کہ آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع سرے کا وہ خوبصورت علاقہ، جو قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور پرسکون ماحول کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے، اب تک میری نظروں سے اوجھل رہا۔
کام کی مصروفیات، روزمرہ کی ذمہ داریاں اور زندگی کے دیگر لوازمات انسان کو اکثر اپنے قریب موجود خوبصورتیوں سے بھی دور کر دیتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سرے کے سرسبز میدانوں اور خوبصورت دیہات کا ذکر سنا، ارادہ بھی کیا کہ کبھی وہاں جاؤں گا، لیکن وقت کی رفتار نے اجازت نہ دی۔ دل میں ایک ملال ضرور تھا کہ اتنے برس لندن میں رہنے کے باوجود اپنے گھر کے اتنے قریب چھپی ہوئی اس خوبصورتی کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔لیکن کہتے ہیں نا کہ ہر سفر کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں میری کام کی ساتھی ہیلینا کی وجہ سے یہ خواہش پوری ہوئی اور مجھے سرے کے خوبصورت تاریخی گاؤں وائٹلی ویلیزجانے کا اتفاق ہوا۔
صبح تقریباً گیارہ بجے میں ہیلینا کے ہمراہ گھر سے روانہ ہوا۔ موسم نہایت خوشگوار تھا۔ لندن کی شہری فضا سے نکلتے ہی منظر بدلنے لگا۔ بلند عمارتوں اور مصروف سڑکوں کی جگہ سرسبز کھیتوں، درختوں کی قطاروں اور کھلے آسمان نے لے لی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے چند ہی لمحوں میں شہر کی رفتار پیچھے رہ گئی ہو اور ہم فطرت کی آغوش میں داخل ہو گئے ہوں۔راستے بھر ہیلینا سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ کبھی کام کے تجربات زیرِ بحث آتے، کبھی برطانیہ میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے نظام پر بات ہوتی، کبھی مختلف ثقافتوں اور معاشرتی رویوں پر تبادلہ خیال ہوتا۔ ہیلینا کی گفتگو میں ایک خاص اپنائیت تھی۔ وہ راستے کے مختلف مقامات کی نشاندہی بھی کرتی جاتی اور ساتھ ساتھ وہاں کی تاریخ اور خصوصیات سے آگاہ کرتی جاتی۔
میں کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سرے کے حسن کو محسوس کر رہا تھا۔ واقعی انگلستان کی اصل خوبصورتی شاید ان ہی دیہی علاقوں میں پوشیدہ ہے۔ میلوں تک پھیلی ہوئی ہریالی، قدیم درخت، چھوٹے چھوٹے تالاب، خوبصورت مکانات اور خاموش راستے انسان کو ایک عجیب سا سکون دیتے ہیں۔ سرے کی زمین پر سبز رنگ کے اتنے مختلف انداز نظر آتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے قدرت نے یہاں رنگوں کی اپنی ایک الگ دنیا آباد کر رکھی ہے۔تقریباً دوپہر کے وقت ہم وائٹلی گاؤں پہنچے۔ پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی عام بستی نہیں بلکہ ایک خاص مقصد کے تحت آباد کی گئی ایک تاریخی کمیونٹی ہے۔ہیلینا نے بتایا کہ وائٹلی گاؤں کی بنیاد ایک عظیم مقصد کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ ولیم وائٹلی ایک کامیاب کاروباری تھے۔ 1907میں ان کے انتقال کے بعد انہوں نے دس لاکھ پاؤنڈ کی خطیر رقم وصیت کی تاکہ ’بڑھاپے میں ضرورت مند غریب لوگوں‘ کے لیے ایسے گھر تعمیر کیے جائیں جہاں وہ عزت، سکون اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
ایک شخص کی یہ سوچ اور سخاوت آج ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی زندہ ہے۔ وائٹلی صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں بزرگ افراد تنہائی کا شکار ہونے کے بجائے ایک فعال اور باوقار زندگی گزارتے ہیں۔گاؤں میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ خوبصورت تاریخی عمارتیں، کشادہ راستے، باغات، درخت اور ہر طرف پھیلا سکون اس جگہ کو منفرد بناتے ہیں۔ تقریباً 225 ایکڑ پر پھیلا یہ خوبصورت اسٹیٹ ایک شاندار ورثہ ہے، جہاں آرٹس اینڈ کرافٹس طرزِ تعمیر کی گریڈ II درج تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔ یہ عمارتیں ایک آکٹون کے گرد اس انداز میں تعمیر کی گئی ہیں کہ فنِ تعمیر اور قدرتی ماحول ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔
ہم نے گاؤں کے مختلف حصے پیدل گھوم کر دیکھے۔ وسیع جنگلات، خوبصورت باغات، جھیل اور سبز میدان اس جگہ کو کسی خوبصورت پارک کا منظر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وائٹلی کی اصل خوبصورتی صرف اس کی عمارتیں نہیں بلکہ یہاں بسنے والی کمیونٹی ہے۔یہاں رہنے والوں کو صرف ایک چھت فراہم نہیں کی گئی بلکہ انہیں ایک مکمل زندگی دی گئی ہے۔ گاؤں میں دکان، پوسٹ آفس، لائبریری، لانڈری، ایکٹیویٹی سینٹر، سیکنڈ ہینڈ شاپ، تھراپی پول اور ولیج ہال جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ باہر الاٹمنٹس، بولنگ گرین اور پوٹنگ گرین بھی ہیں۔کلب ہاؤس میں کیفے، خوبصورت کنزرویٹری اور بیرونی کھیلوں کی جگہ موجود ہے۔ یہاں کے رہائشی مختلف کلبوں اور سوسائٹیوں کے ذریعے اپنی دلچسپیاں زندہ رکھتے ہیں۔ کوئی فطرت سے محبت کرتا ہے، کوئی مہجونگ کھیلتا ہے، کوئی دستکاری میں مصروف رہتا ہے، کوئی سنوکر، وسٹ یا تیر اندازی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ منظر اس تصور کو بدل دیتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ زندگی کی سرگرمیاں ختم ہو جاتی ہیں۔وائٹلی میں سینٹ مارکس کا اینگلیکن چرچ بھی موجود ہے، جو اس کمیونٹی کی روحانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہاں عبادات اور مذہبی خدمات کا بھی انتظام ہے۔
مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات یہاں کا رضاکارانہ نظام تھا۔ بہت سے رضاکار خود اسی گاؤں کے رہائشی ہیں جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں، ان کا ساتھ دیتے ہیں اور تنہائی کو کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامی لوگ، اسکول، یونیورسٹیاں اور کاروباری ادارے بھی اس کمیونٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ یہی جذبہ وائٹلی کو صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرہ بناتا ہے۔کافی پیدل چلنے کے بعد بھوک کا احساس ہوا تو ہم نے وہیں لنچ کیا۔ ہیلینا کے ساتھ بیٹھ کر ہم نے ٹونا مچھلی کا سلاد کھایا۔ سادہ، تازہ اور صحت بخش کھانا اس خوبصورت ماحول میں اور بھی لذیذ محسوس ہو رہا تھا۔ کھانے کے دوران بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی سفر کی بات، کبھی کام کی، کبھی زندگی کے تجربات کی۔
شام ہونے لگی تو واپسی کے سفر میں ہم نے کچھ وقت والٹن اپون تھیمز میں گزارا۔ دریائے تھیمز کے کنارے شام کا منظر انتہائی دلکش تھا۔ پانی پر تیرتی بطخوں کے جھنڈ، کنارے کی خاموشی اور شام کی نرم روشنی نے ماحول کو یادگار بنا دیا۔ایک منظر تو ہمیشہ یاد رہے گا۔ بطخوں کا ایک پورا ہجوم آہستہ آہستہ سڑک عبور کرنے لگا۔ گاڑیاں رک گئیں، لوگ خاموشی سے انتظار کرتے رہے اور بطخیں اپنے اطمینان سے راستہ پار کرتی رہیں۔ یہ چھوٹا سا واقعہ دراصل اس معاشرے کے مزاج کی ایک خوبصورت تصویر تھا جہاں انسان صرف اپنی سہولت نہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود مخلوقات کا بھی خیال رکھتے ہیں۔
شام ڈھلنے لگی تو سرے کی خوش گوار ہوا نے ہمیں واپسی کا اشارہ دینا شروع کر دیا۔ دن بھر کی سیر، پیدل چلنے اور خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کے بعد جسم تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا، لیکن دل عجیب سی تازگی سے بھرا ہوا تھا۔ سرے کی ٹھنڈی، صاف اور خوشبو بھری ہوا میں کچھ دیر اور رکنے کو دل چاہتا تھا، مگر وقت کی پابندی نے ہمیں گھر کی طرف روانہ ہونے پر مجبور کر دیا۔واپسی کے راستے میں سورج غروب ہو رہا تھا اور سرے کی ہریالی سنہری روشنی میں نہا رہی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ کبھی کبھی ہمارے قریب موجود خوبصورتیاں بھی ہماری توجہ کی منتظر رہتی ہیں۔ بیس پچیس برس لندن میں رہنے کے باوجود جس سرے کو نہ دیکھ سکا، آج اس کے ایک چھوٹے سے حصے نے ہی دل میں جگہ بنا لی۔وائٹلی کا سفر میرے لیے صرف ایک تفریحی دورہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک سبق بھی تھا۔ ایک فرد کی نیک نیتی، سخاوت اور انسانوں سے محبت کس طرح ایک صدی بعد بھی لوگوں کی زندگیوں میں آسانی اور خوشی پیدا کر سکتی ہے، وائٹلی اس کی بہترین مثال ہے۔
شاید معاشرے کی اصل ترقی بلند عمارتوں اور بڑی شاہراہوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور، بزرگ اور ضرورت مند افراد کے لیے کتنی محبت اور احترام رکھتا ہے۔سرے کی ہریالی، وائٹلی ویلیزکی تاریخ اور والٹن اپون تھیمز کی بطخیں،یہ سب اس دن کی خوبصورت یادوں کا حصہ بن گئے اور یہ سب مل کر اس دن کو میری زندگی کے ان خوشگوار لمحوں میں شامل کر گئے جنہیں انسان مدتوں یاد رکھتا ہے۔کبھی کبھی انسان برسوں کسی جگہ کے قریب رہتا ہے، مگر اس کی اصل خوبصورتی سے واقف نہیں ہو پاتا۔ ویمبلڈن میں اتنے برس گزارنے کے باوجود سرے کا یہ حسین علاقہ میری نظروں سے اوجھل رہا، جس کا ملال آج اس خوبصورت سفر کے بعد کسی حد تک ختم ہو گیا۔والٹن اپون تھیمز کے خوبصورت مناظر، دریائے تھیمز کی روانی، بطخوں کے جھنڈ اور شام کی خاموشی کو یادوں میں سمیٹتے ہوئے ہم واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے۔ راستے بھر آج کے دن کے خوبصورت لمحات ذہن میں گردش کرتے رہے۔
آخرکار ہم تھکے ہارے مگر خوشگوار احساسات کے ساتھ شام تقریباً سات بجے گھر واپس پہنچ گئے۔ جسمانی تھکن ضرور تھی، لیکن ذہن پرسکون اور دل خوش تھا۔ سرے کی آج کی سیر میرے لیے محض ایک تفریحی سفر نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جو میری زندگی کے یادگار لمحات میں شامل ہو گیا۔