پی ٹی آئی لانگ مارچ کا التوا: عطا تارڑ اور سہیل آفریدی کی تکرار

پاکستان تحریک انصاف نے اگرچہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ایک  ہفتے کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ   تحریک انصاف بزدل ہے، اس لیے وہ احتجاج سے بھاگ گئی ہے۔  دوسری طرف خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ نے آج رات  احتجاج ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ پارٹی کی سیاسی حکمت عملی ہے۔

ان معنوں میں تو یہ حکمت عملی قابل فہم ہے کہ حکومت نے اسلام آباد کو  حصار بند کرلیا تھا اور چاروں طرف کنٹینر اور رکاوٹیں کھڑی کرکے عام شہریوں کے لیے زندگی اجیرن بنائی ہوئی تھی، خصوصی فورسزز کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں اور کسی بھی قیمت پر اس  احتجاج کو روکنے کے دعوے کیے گئے تھے۔   اب اگر تحریک انصاف  لانگ مارچ کو ہر چند روز بعد آگے بڑھانے اور  سیاسی درجہ حرارت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو وفاقی حکومت کے لیے  دارالحکومت کے ’حفاظتی انتظامات ‘کو جاری رکھنا آسان نہیں رہے گا۔ ان انتظامات کی وجہ سے سکیورٹی کے دوسرے شعبے متاثر ہوتے  ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد شاہراہوں کو بند کرنے سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوگی بلکہ کاروبار  کا بھی نقصان   ہوگا جو ملک کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے مزید مالی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

اس تناظر میں تحریک انصاف کی طرف سے عارضی وقفہ خوش آئیند تھا۔ حکومت اس عرصے میں پارٹی کے ساتھ کسی مفاہمت کا اہتمام کرسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے بعض مطالبات ضرور ناقابل قبو ل ہوسکتے ہیں لیکن عمران خان کو قانونی سہولتیں دینے اور سیاسی کارکنوں کو ناجائز طور سے ہراساں کرنے کے ہتھکنڈوں سے گریز کرکے اعتماد  پیدا کیاجاسکتا ہے۔  البتہ سہیل آفریدی کی طرف سے پارٹی کی  سیاسی کمیٹی کے اعلان کے بعد وزیر اطلاعات عطااللہ  تارڑ کی تند و تیز پریس کانفرنس سے حالات بہتر ہونے کی بجائے  مزید تصادم کی طرف جاسکتے ہیں۔ تارڑ نے نہ صرف  تحریک انصاف کو  لانگ مارچ مؤخر کرنے پر ’بزدل‘ قرار دیابلکہ سہیل آفریدی  پر ذاتی حملے  کیے۔  ان کا  کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنا اور ان کی مکمل سہولت کاری پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے۔ اس کے بعد یہ خود کو کس منہ سے سیاسی لوگ کہتے ہیں۔ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی منظور نظر ہے۔ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں پر دہشت گردوں نے حملے کیے لیکن وہ دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے بھی مکمل گریزاں رہتے ہیں حالانکہ امن و امان قائم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے‘۔  عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ کم اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی بھی کوئی تیاری نہیں اور اس لیے یہ اس احتجاج سے بھاگ گئے ہیں۔ ہمت ہے تو آئیں اور کریں مارچ‘۔

عطااللہ  تارڑ کی  پریس کانفرنس کسی ایسی حکومت کے نمائندے کا  بیان معلوم نہیں ہوتی جو ایک مشکل صورت حال سے نمٹنے کے لیے دارالحکومت کو ایسے قلعہ میں تبدیل کرچکی ہے جس میں نہ کوئی غیر متلعقہ شخص داخل ہوسکے اور نہ ہی کوئی باہر جاسکے۔ عمران خان کی تمام بہنوں کے علاوہ متعدد کارکنوں اور لیڈروں  کو گرفتار کرکے تحریک انصاف کا احتجاج ناکام بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم یہی لگتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت کو اسلام آباد کی طرف کسی بڑے دھاوے کا اندیشہ تھا جس میں  جانی و مالی نقصان کا امکان تھا۔ اسی لیے دارالحکومت کو محصور کرکے محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس صورت حال میں تو حکومتی نمائندے کو تحریک انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم کرکے اسے اس احتجاج سے گریز کرنے اور سیاسی مکالمہ کی دعوت دینی چاہئے۔ تاہم  بظاہر ملکی سیاست میں یہ آپشن موجود نہیں ہے۔ اب وزیر اطلاعات نے خیبر پختون خوا  حکومت پر براہ راست دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے ہیں تو سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسی حکومت  کا راستہ روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے کون سے انتظامی یا سیاسی اقدامات کیے ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صوبے میں ’دہشت گرد‘ کی حکومت ہو  اور حکومت محض جمہوریت کے عذر پر اسے کام کرنے کی اجازت دے؟ کیا  تارڑ کی پریس کانفرنس  وفاقی حکومت کی طرف سے کسی سخت اقدام کا نوٹس ہے اور کیا کے پی کے میں گورنر راج لگانے اور تحریک انصاف کے لیے سیاسی سپیس مزید کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے؟ اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا ہے تو کیا اس سے حالات سنور جائیں گے اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی مہم کامیاب ہوجائے گی؟ یا دہشت گردی کو مخصوص سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے نعرے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔  کسی وفاقی وزیر  سے ایسی غیر ذمہ داری کی امید نہیں کی جاسکتی۔  لیکن پاکستان میں سیاست اور حکومت کے تال میل کے ساتھ  جو ماحول پیدا کیا گیا ہے ، اس میں ہر ناممکن بات ممکنات میں شامل ہوچکی ہے۔  مسلم لیگ  (ن) جو مرکز کے علاوہ پنجاب میں بھی برسر اقتدار،  تمام تر اختیار کے باوجود بے بس اور کمزور ہے۔ اس کی  عوامی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ پارٹی شاید  پنجاب  میں اپنے گڑھ میں بھی کسی منصفانہ انتخابات میں کامیاب ہونے کے قابل نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ اس کمزور سیاسی پوزیشن کو دھمکیوں اور  الزام تراشی سے  بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پہلے اسلام  آباد کو بند کرکے اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے ذریعے خود کو نڈر اور  فعال ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور اب سہیل آفریدی کو ’دہشت گرد‘ اور تحریک انصاف کو بزدل قرار دے  غیر ضروری سیاسی بے چینی پیدا کی گئی ہے۔

تحریک انصاف بھی کسی واضح  ایجنڈے کے بغیر وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کا اعلان کررہی ہے۔ اگرچہ اس کا بنیادی مقصد عمران خان کے لیے رعایت حاصل کرنا ہے لیکن یہ مقصد پی ٹی آئی کی صفوں میں اتحاد و یک جہتی پیدا کرکے بھی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ پارٹی کے پاس  پارلیمنٹ میں قابل ذکر نمائیندگی موجود ہے لیکن اسے بھی کسی سیاسی مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکا۔ پارلیمانی کام میں تحریک انصاف کسی حد تک  بے اثر ہوچکی ہے۔ اسی لیے سارا زور اشتعا ل انگیز بیانات اور احتجاج کے  اعلانات  پر صرف کیاجاتا ہے۔    یوں تو پارٹی پر امن احتجاج کی بات کرتی ہے لیکن سہیل آفریدی سمیت کسی لیڈر کے بیانات پر امن احتجاج کی نشاندہی نہیں کرتے۔ آج بھی احتجاج مؤخر کرتے ہوئے پر امن  احتجاج پر زور دیا گیا ہے۔ اگر پارٹی  کا احتجاج پر امن ہی ہوگا تو وہ کس برتے پر   ’سومنات‘  برپا کرنے اور  حکومت کو بھگا دینے کے دعوے کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے 9 مئی 2023 اور 26 نومبر2024 کے احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ تحریک انصاف جب بھی ’انصاف‘ حاصل کرنے کے لیے کارکنوں کو سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کرتی ہے تو درحقیقت وہ تصادم کے ذریعے ملک میں بحران  پیدا کرکے مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔  ان تجربات کے بعد حکومت  پی ٹی آئی پر اعتبار نہیں کرتی اور پارٹی کے لیڈر بھی اپنے پر امن ارادوں کے بارے میں یقین دہانی کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

حالانکہ اس وقت ملک عالمی اور داخلی سطح پر جیسے گوناں گوں مسائل کا سامنا کررہا ہے ، اس کا الزام محض ایک حکومت پر عائد کرکے لوگوں کو  سیاسی تبدیلی کے ذریعے   ہر مشکل پر قابو پانے کی نوید نہیں دی جاسکتی۔ عمران خان اور دیگر سیاسی لیڈروں کی حراست پر بحث ہوسکتی ہے لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ ان کی رہائی سے ملکی مسائل حل ہوجائیں گے۔ پاکستان کے مسائل  قومی پیداوار میں کمی، پانی کی نایابی، آبادی میں اضافے، سیاسی عدم اعتماد کے ماحول اور  عالی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے سامنے آنے والے  متنوع اثرات  کی ایک ایسی طویل فہرست پر مشتمل ہیں  جنہیں ایک حکومت کو گرانےاور کسی پسندیدہ شخص کو اقتدار دلانے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔

اس کے لیے ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں، سب اداروں اور عوام کے تمام طبقات میں  یک جہتی و اتفاق کی ضرورت ہے۔ البتہ عطااللہ تارڑ اور سہیل آفریدی کے بیانات یکساں طور سے واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن ہی  نہیں حکومت  بھی مسائل کی شدت  سمجھنے یا انہیں حل کرنے   کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔