خواتین اور کالج اساتذہ کی نمائندگی

پنجاب پروفیسر اینڈلیکچررز ایسوسی ایشن صوبے میں کالج اساتذہ کی تنظیم ہے۔ جب تک میں پروفیسر تھا اس تنظیم میں کسی نہ کسی حوالے سے شامل رہتا تھا۔ ایک زمانے میں پروفیسر تنویر احمد شاہ ملتان سے اس کے جنرل سیکرٹری ہوتے تھے۔پروفیسر خالد حمید ملتان ڈویژن کے صدر تھے۔

بڑی فعال تنظیم تھی اور اساتذہ کے حقوق کے لئے سرگرم رہتی تھی۔ اب اس کے انتخابات ہونے والے ہیں۔  کل میں نے گورنمنٹ گرلز کالج کوٹ مومن کی پرنسپل پروفیسر منزہ احتشام گوندل کی ایک پوسٹ دیکھی، جس کا عنوان انہوں نے  ’بائیکاٹ‘ لکھا تھا، وہ لکھتی ہیں  ’اتحاد ہو یا تحریک، میں اس بار ذاتی طور پرکسی بھی پارٹی کو اپنا قیمتی ووٹ نہیں دوں گی۔ میں جو بھی کام کررہی ہوں یا میری جو بھی خدمات ہیں وہ پروفیسر کمیونٹی کی سیاسی پارٹیوں کے بڑے بڑے کانوں کو سنائی دیتی ہیں نہ بڑی بڑی آنکھوں کو دکھائی دیتی ہیں جو سیاست صرف بلڈنگ اور رقبے کے لحاظ سے بڑے کالجوں کے لئے ہے، جہاں سٹاف سرپلس ہے مگر برسوں سے ان کے نتائج بورڈ اور یونیورسٹی کے مجموعی نتائج سے نیچے آ رہے ہیں۔ پھر بھی وہ صوبے کے بہترین کالج ہونے کا سرٹیفکیٹ لے لیتے ہیں ۔وہاں ووٹ دینا اپنے ووٹ کی حرمت کو پامال کرنا ہے تو جن باڈیز کے لئے میرے جیسے لوگ وجودہی نہیں رکھتے وہ باڈیز میرے لئے بھی وجود نہیں رکھتیں‘۔

 ایک ایسی پرنسپل کی طرف سے جو مضافات کے ایک کالج کو بڑی کامیابی سے چلا رہی ہیں اور جن کے کالج کا نتیجہ اس بار 93.58فیصد رہا ہے۔ ایک ایسے موقع پر انتخابات کا بائیکاٹ کہ جب صدارت کے لئے اتحاد اساتذہ اور تحریک اساتذہ نے خواتین کو امیدوار نامزد کیا ہے، میرے لئے حیرت کا باعث بنا۔ پروفیر منزہ احتشام گوندل بھی غلط نہیں کہتیں۔ ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہ وتیرہ رہا ہے کہ صوبائی یا قومی سطح کے ادارے بھی چند بڑے شہروں تک محدود ہوجاتے ہیں۔ ووٹ انہیں پورے پاکستان یا پورے پنجاب سے چاہیے ہوتا ہے لیکن ان کی آنکھ  میں صرف چند ادارے ہی پورے نظام کے چہیتے ہوتے ہیں۔ خیر یہ ایک اور موضوع ہے۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ پنجاب پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن جس پر ایک عرصے تک مرد اساتذہ کی عملداری رہی، اب خواتین اساتذہ کی دسترس میں آ گئی ہے۔ پچھلے انتخابات میں اتحاد اساتذہ پاکستان کی طرف سے پروفیسر فائزہ رعنا صدر کا انتخاب جیت گئی تھیں۔ انہوں نے اپنے مخالف صدر کے مرد امیدوار کو شکست دی تھی۔ اس بار اتحاد اساتذہ نے پروفیسر فائزہ رعنا کو دوبارہ امیدوار نامزد کیا تو شاید تحریک اساتذہ کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ مرد امیدوار اس بار بھی شکست نہ کھا جائے، اس لئے تحریک اساتذہ کی طرف سے بھی ایک خاتون پروفیسر ڈاکٹر فاخرہ نورین کو مرکزی صدر کے لئے میدان میں اتارا گیا ہے۔ یوں کالج اساتذہ میں مردوں کی تعداد خواتین سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود اس بار بھی ان کی نمائندگی کوئی خاتون ہی کریں گی۔ پروفیسر فائزہ رعنا کا تعلق لاہور جبکہ ڈاکٹر فاخرہ نورین کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ دونوں کالج کمیونٹی کی معروف شخصیات ہیں اور توقع کی جا رہی ہے مقابلہ سخت ہوگا۔

کالج کمیونٹی شعبہ تعلیم کا ایک ایسا حصہ ہے جسے ہمیشہ محروم طبقہ سمجھا گیا ہے۔ سکول اور یونیورسٹی کے اساتذہ کو ہمیشہ نوازا گیا، ان کی جلد ترقیاں بھی ہوتی ہیں، پوسٹیں بھی زیادہ ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے کالج اساتذہ کی ترقیوں کے حوالے سے کچھ صورتِ حال بہتر ہوئی ہے وگرنہ ایک گریڈ سے دوسرے میں جانے کے لئے دس سے پندرہ سال لگ جاتے تھے۔ یہ یقینا ًپنجاب پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی جدوجہد کا نتیجہ ہے تاہم پچھلے دو برسوں میں کالج اساتذہ پر پنشن، لیو انکیشمنٹ، گریجویٹی اور دیگر حوالوں سے جو ظلم ڈھایا گیا۔ اس کے خلاف ایسوسی ایشن کو کامیابی نہیں مل سکی۔ ایک اور مسئلہ کالج اساتذہ کے لئے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے سکالرشپ کا ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ کو بہت زیادہ مواقع ملتے ہیں، حالانکہ اب کالجز میں بھی پی ایس پروگرام جاری ہیں اور کالج اساتذہ کو بھی اعلیٰ تعلیم کے مواقع ملنا چاہئیں۔ پھر یہ مطالبہ بھی جائز ہے کہ یونیورسٹی کی طرز پر بی ایس پروگرام کی وجہ سے کالج اساتذہ پر بھی کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے، انہیں اس حوالے سے خصوصی ٹیچنگ الاؤنس ملنا چاہیے۔

 پروفیسر فائزہ رعنا کے دور میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کالج کمیونٹی نے اپنی انفرادی شناخت کو پنجاب کے ملازمین کی تحریک میں ضم کرکے کھو دیا۔ میرا ذاتی خیال ہے کالج اساتذہ کو اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھنی چاہیے۔ ان کا ایک اپنا وزن ہے اور اگر اسے صحیح معنوں میں بروئے کار لایا جائے تو کوئی بھی اتھارٹی انہیں نظر انداز نہیں کر سکتی۔ پروفیسر منزہ احتشام گوندل نے بالکل درست کہا ہے کہ کالج کے اساتذہ کی نمائندگی کرنے والوں کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ چھوٹے شہروں کے کالجز کن مسائل کا شکار ہیں۔ ان کی مسنگ سہولتوں کو اعلیٰ حکام کے علم میں لا کر مہیا کیا جانا چاہیے۔ پھر اگر مضافاتی کالجز میں سے کوئی کالج تعلیم کے معاملے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کے لئے تعریف و ستائش کا اہتمام بھی کیا جانا چاہیے ناکہ صرف بڑے شہروں کے بڑی عمارتوں والے کالجوں کو ایسے انعامات یا گولڈ میڈلز دیئے جائیں، چاہے ان کی کارکردگی کمتر ہی ہو۔

کالج کے اساتذہ کی اس وقت دو تنظیمیں ہیں۔ اتحادِ اساتذہ پاکستان اور تحریک اساتذہ پاکستان، پنجاب پروفسیر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے انتخابات مرکز سے لے کر ضلعی عہدیداروں تک کے ہوتے ہیں۔ یوں اسے ایک بڑا انتخابی عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بار ایسوسی ایشن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دونوں تنظیموں نے خواتین کو مرکزی صدارت کے لئے نامزد کیا ہے۔ چہ میگوئیاں یہ ہیں کہ اگر تحریک اساتذہ ڈاکٹر فاخرہ نورین کو امیدوار نامزد نہ کرتی تو اتحاد اساتذہ کی طرف سے بھی کوئی مرد امیدوار سامنے آتا،کیونکہ بعض اساتذہ کی رائے یہ ہے کہ پروفیسر فائزہ رعنا کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ مگر چونکہ تحریک اساتذہ نے ڈاکٹر فاخرہ نورین کو میدان میں اتارا تو مقابلے میں اتحادِ اساتذہ کی طرف سے پروفیسر فائزہ رعنا کو لانا ضروری ہو گیا۔

ایسا نہیں کہ ڈاکٹرفاخرہ نورین انتخابی سیاست میں پہلی بار آ رہی ہیں۔وہ راولپنڈی ڈویژن میں سرگرم کردار ادا کرتی آئی ہیں اور سخت اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرتی رہی ہیں۔ خواتین ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اور ان شعبوں میں بھی کہ جو مردوں اجارہ داری سمجھے جاتے تھے جس طرح کہاجاتا ہے کہ بیورو کریسی میں خواتین کی تعداد بڑھنے سے اس میں بھی تبدیلی  نظر آنا چاہیے اسی طرح کالج کمیونٹی بھی توقع کر رہی ہے کہ اس بار خاتون پروفیسر صدر بن کر کمیونٹی کے لئے انقلابی کام کریں گی۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)