حکمتِ عملی ہو تو ایسی

اور بوکھلاہٹ ہو وہ بھی ایسی۔ جماعتِ معتوب نے محض اعلان کیا کہ دارالحکومت پر چڑھائی فلاں تاریخ سے شروع ہو گی۔ اور سرکارِ نامدار کے پیسنے چھوٹ گئے۔ کنٹینروں کی پکڑ دھکڑ، ہر چوراہے اور موڑ پر کنٹینروں کی آہنی دیوار۔ پولیس کی کمک آس پاس کے اضلاع سے طلب۔

 احتجاجیوں کے محاصرے سے پہلے سرکار نے دارالحکومت کا محاصرہ کر ڈالا۔ آنے جانے کے راستے بند، ٹریفک معطل حتیٰ کہ جی ٹی روڈ جس کا احتجاج سے واسطہ اتنا قریب نہیں اُس پر بھی رکاوٹیں۔ ہمارے ایک دوست جن کا سبزیوں کا بڑا کاروبار ہے۔ بتا رہے تھے کہ بند گوبھی کی قیمت اعلانِ احتجاج سے پہلے اتنی تھی اور کنٹینروں کے کھڑے ہونے کے بعد چار گنا زیادہ ہو گئی۔ مزے کی بات البتہ یہ کہ پہلی بار احتجاجی جماعت کو کچھ عقل آئی اور اس نے احتجاج مؤخر کر دیا یعنی 27ستمبر سے احتجاج چار اکتوبر تک کر دیا گیا ہے۔ کنٹینر وہیں کھڑے ہیں اور ان کی تعیناتی میں اب مزید توسیع کرنی پڑے گی۔ 27ستمبر کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اسلام آباد پولیس نے 82کروڑ کی درخواست کی تھی، صرف 82کروڑ۔ چار اکتوبر کی توسیع کے بعد خرچہ دگنا ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر عطا تارڑ جو کہ اپنی دانشوری کیلئے مشہور ہیں نے للکرا مارا ہے کہ احتجاجی جماعت دوڑ گئی، بھاگ گئی۔ ایک دو مرتبہ اور ایسی بھاگی تو حکومت کا کام ہو جائے گا۔

احتجاج دیگر ممالک میں بھی ہوتے ہیں اور حکومتی ردِعمل بھی ہوتا ہے۔ لندن اور امریکی شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ ایک طرف ریلی نکلتی ہے اور دوسری طرف معمول کی زندگی جاری رہتی ہے۔ کنٹینروں والا ناٹک وہاں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہ اسلامی جمہوریہ کا منفرد اعزاز ہے کہ کسی ریلی یا مارچ کا اعلان ہو اور اسلام آباد کے گرد ایک دیوارِ چین نہیں بلکہ متعدد کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ اور یہ تو احتجاج کی بات ہے، جب یہاں ایران امریکہ مذاکرات کروائے جا رہے تھے تو کنٹینروں والا ناٹک اتنا دور تک پھیلایا گیا کہ تقریباً آدھا ملک مفلوج ہو گیا۔ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا اعلان ہوا اور گو نہ ایرانی آئے نہ امریکی بدقسمت دارالحکومت کو پھر سے بند کر دیا گیا۔ بعد میں خبریں آئیں کہ اس مشق پر اتنے کروڑ روپے لگے اور حکومت سے اضافی گرانٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کہا گیا کہ مذاکرات سے پاکستان کا پروفائل اونچا ہو گیا، قومی وقار میں اضافہ ہوا۔ ضرور ہوا ہوگا لیکن جو خرچہ اسلامی جمہوریہ پر پڑا وہ پورا کرنے کیلئے کوئی آگے نہ آیا۔ بہرحال جہاں قومی عزت بڑھ رہی ہو وہاں خرچے کے حساب کتاب میں کیا جانا۔

اس سے پہلے احتجاجی جماعت ڈی چوک والی جھَک مارتی تھی کہ وہاں تک ہم نے ضرور پہنچنا ہے اور وہیں پڑاؤ ڈالنا ہے۔ کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے اور ڈی چوک پر پہنچنے سے کس مقصد کے حصول کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایک عدد بار قافلے خیبرپختونخوا سے چلے اور حکومت خوب پریشر میں آئی۔ نومبر 26والا جو اسلام آباد مارچ تھا اچھا خاصا کامیاب رہا۔ کے پی کے سے آئے قافلے دارالحکومت کے باہر سنگجانی تک پہنچے۔ اسلام آباد سے باقی ملک کو ملاتی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔ اسلام آباد میں سبزیوں پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیا کی قلت کی بات ہونے لگی۔ اسلا م آباد کے باہر ہی رہتے اور ڈی چوک والا ٹارگٹ نہ رکھا جاتا تو حکومت نے مزید پریشان ہونا تھا۔ لیکن کس کے کہنے پر یہ نہیں معلوم، قافلے اسلام آباد کی طرف چل پڑے اور پھر ڈی چوک میں وہ ہوا جو دنیا جانتی ہے۔ اس بار ایسی حرکت کیا کرنی تھی، مارچ شروع ہی نہیں کیا گیا،کے پی کے میں کوئی اکٹھ ہوا ہی نہیں اور پھر جب کنٹینروں کی دیواریں ہر جگہ کھڑی ہو چکی تھیں، پولیس والوں کی تھکاوٹ بھی شروع ہو گئی تھی، ایڈمنسٹریشن پریشر میں تھی، مارچ کے مؤخر ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ نہ کوئی لاٹھی چلی نہ کوئی ربڑ گولی فائر کرنے کی نوبت آئی۔ حکومت حیران پریشان اور احتجاجی جماعت نے خوبصورت چال چل دی۔ یعنی جو بخار حکومت پر پہلے ہی چڑھ چکا تھا اُس کو مزید لمبا کر دیا گیا، بغیر اپنی جیب سے کچھ خرچہ کیے۔ سَن زو ، جس کا تعلق چین سے تھا اور جو تاریخ میں بہت بڑا ملٹری سٹریٹجسٹ سمجھا جاتا ہے، نے کہا تھا کہ بہترین فتح وہ ہوتی ہے جو بغیر کچھ جارحیت کیے، کچھ فائر کیے حاصل ہو جائے۔ یعنی آپ کی حکمتِ عملی ایسی ہو کہ مدِمقابل خود سے ہی پسپا ہو جائے۔ اس بار احتجاجی جماعت نے کچھ یوں ہی کیا ہے کہ اسلا م آباد پر مارچ کی صرف کال دی، کچھ اور نہیں کیا اور سرکار کی حالت ایسی کہ دیکھ کر فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہنسا جائے یا رویا جائے۔ بہتوں سے پھر سہیل آفریدی سیانا ہی نکلا۔ کوئی خاص بڑھک بھی نہیں ماری اور حکومت کی طرف سے مزاحیہ پروگرام پورا ہو گیا۔ راہِ عشق میں امتحان ابھی اور بھی ہیں دیکھتے ہیں چار اکتوبر تک کیا ہوتا ہے۔

وزیراعظم ظاہر ہے نیویارک کے دورے پر ہیں۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب فرمایا، کچھ ملاقاتیں ہوئیں جن کے بارے میں کہنا مشکل ہے کہ حاصل کیا ہوا کیا نہ ہوا۔ بہرحال وزیراعظم اکثر دوروں پر ہی رہتے ہیں۔ کبھی یہاں گئے کبھی وہاں پائے گئے۔ اسی اثنا میں ان کی طرف سے خبر آئی ہے کہ محمود اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔ کچھ مقصد حاصل کرنے کے حوالے سے ہمارے داخلی مذاکرات کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ ایران اور امریکہ کے رابطے۔ امیدیں بہت لگائی جاتی ہیں لیکن نکلتا ان میں سے کچھ نہیں۔ وزیراعظم کیا بات کریں گے محمود اچکزئی سے۔ ان کے پاس دینے کو ہے کیا کیونکہ ہماری حکمرانی کی نزاکتیں سب سمجھتے ہیں کہ فیصلہ سازی کہاں اور کیسی ہوتی ہے۔ پھر بھی کچھ نہ ہونے سے مذاکرات کی دعوت بہتر ہے۔ کچھ دن تبصرے چلیں گے،قیاس آرائیاں ہوں گی، دور کی کوڑیاں لائی جائیں گی اور پھر ظاہر ہے بیچ میں سے کچھ نہیں نکلے گا۔ یہاں سیاسی کہانی بس کہیں پھنسی ہوئی ہے۔ پہل تو سرکار کو کرنی چاہیے، سب کچھ اس کے پاس ہے، کنٹینروں سے لے کر مرضی کی آئین سازی تک۔ لیکن تحفظات ہیں کہ یوں کیا تو یہ ہو جائے گا، کچھ ایسا کیا تو فلاں نتائج برآمد ہو جائیں گے۔ ایسے وسوسوں کی ماری پوری قوم ہے۔ جسے رجیم چینج کہتے ہیں وہ تو چار ساڑھے چار سال پہلے ہو گئی لیکن سیاسی حوالے سے اُس کے بعد کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ آگے کیا کرنا ہے، کون سا قدم اٹھانا ہے۔ اس لیے سب کچھ منجمد پڑا ہے۔ بیرونی دورے جاری ہیں، آنیاں جانیاں ختم نہیں ہوتیں اور سب مزے میں ہیں۔

ایک نیا دردِ سر یمن کے کمبخت حوثیوں نے بنایا ہوا ہے۔ ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی تو کم از کم حوثیوں والا محاذ ٹھنڈا پڑا تھا لیکن انہوں نے اب اس محاذ کو ایسا گرم کیا ہے کہ دوست ممالک پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف برادر سعودیوں کا معاملہ جن پر حوثیوں کے حملے جاری ہیں اور دوسری طرف یہ اندیشہ کہ کچھ نہ کریں تو مصیبت کچھ کریں تو پیچیدگیاں۔ اس ساری صورتحال کا موجب تو امریکہ ہے لیکن جہاں دنیا بھر کو ہم نصیحت کر سکتے ہیں امریکہ کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ امریکہ نے ہمیں دیا کچھ نہیں نہ وہاں سے کچھ ملنے کی توقع ہے لیکن تھپکی تو دی ہے،تعریفی کلمات ادا کیے ہیں اور ہم لاچاروں کیلئے یہی کافی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)