جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
- تحریر مجیب الرحمن شامی
- اتوار 27 / ستمبر / 2026
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سالانہ اجلاس سے پُرمغز خطاب فرمایا۔ اُن کی تقریر کے دوران تالیاں گونجتی رہیں،اُنہیں براہِ راست سننے والے داد دیتے رہے، گویا ایک بڑی تعداد کی وہ کامیاب ترجمانی کر رہے تھے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو خطاب کے لئے آئے تو ارکان کی بڑی تعداد واک آؤٹ کر گئی۔انہیں خالی کرسیاں نصیب ہوئیں جو ان پر نفرین بھیجتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وزیراعظم نے پوری مسلم اُمہ کے جذبات کی ترجمانی کی،جب آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں، سعودی عرب پرکسی طور کوئی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کشمیر سے لے کر فلسطین تک، آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک اور غزہ سے لے کر نئی دہلی تک کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس پر انہوں نے اقوام عالم کی توجہ نہ دلائی ہو۔ افغانستان میں جنم لینے والی دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے بجا کہا کہ دنیا میں آج جو اَمن قائم ہے، پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور عوام نے اپنے خون سے اِس کی قیمت ادا کی ہے۔
پاکستان دہشت گردی کے سامنے دیوار بن کر نہ کھڑا ہوتا تو خدا جانے وہ کہاں کہاں اور کس کس کو لہولہان کر چکی ہوتی۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی زندگی جن مشکلات کا شکار ہے اور صدیوں پرانی مسجدوں کو جس طرح تاراج کیا جا رہا ہے،اِس کی جھلک بھی اُنہوں نے پوری دنیا کو دکھائی اور ہندوتوا کے علمبرداروں کے مکروہ چہروں سے نقاب اُتار ڈالا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اَمن عالم کو دوام دینے کے لئے جو کوششیں کر رہا ہے، اور جس طرح سہ فریقی دفاعی اتحاد نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو استحکام دینے کے لئے پیش رفت کی ہے،اسے بھی اچھی طرح واضح کیا۔ جب وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان جنگ پر اَمن کو ترجیح دیتا ہے اور دنیا بھر میں قیام اَمن کے لئے کوشاں رہے گا تو ان کے سامعین کی تالیاں ان کی تائید کر رہی تھیں۔ اپنے سے کئی گنا بڑے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر جب وہ اپنے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے اور ناقابلِ تسخیر پاکستانی قوم کا پورے اعتماد سے نام اونچا کر رہے تھے تو بھی ان کے سننے والے ان کی تائید کررہے تھے۔
اقوام متحدہ کا ایوان ہی نہیں، پورا پاکستان بلکہ پوری ملت ِ اسلامیہ اِس کی تائید کر رہی تھی۔ بے شک،پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں سے اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لا کر عالمی منظر بدل ڈالا ہے۔دونوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اسلام آباد آج بھی اَمن کی چابی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ چین کے عظیم المرتبت سربراہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں یہ بات اچھی طرح واضح کر دی کہ قیام اَمن کے لئے معاہدہ اسلام آباد کی طرف لوٹنا ہو گا۔
وزیراعظم جب نیو یارک میں اپنی دھاک بٹھا رہے تھے اور عالمی رہنماؤں سے حروفِ تحسین وصول کر رہے تھےتو پاکستان میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ نے اپنی طرف توجہ مبذول کرا رکھی تھی۔ وفاقی حکومت اسے روکنے کے لئے گزشتہ کئی دِنوں سے سرگرم تھی۔ کئی مقامات پر رینجرز کو طلب کیا جا چکا تھا۔ جگہ جگہ کنٹینر کھڑے تھے، اسلام آباد کی طرف آنے والے راستے بند کیے جا رہے تھے۔ سہیل آفریدی اور ان کے رفقادھمکیاں دے رہے تھے کہ ہم چالیس لاکھ کا ”پُرامن لشکر“ لےکر اسلام آباد آئیں گے اور اپنے مطالبات منوائیں گے، اپنے اسیر قائد کے لئے آسانیاں حاصل کریں گے۔ وفاقی حکومت نے تہیہ کر رکھا تھا کہ کسی صورت ”پُراَمن حملہ آوروں‘ کو دارالحکومت میں گھسنے نہیں دینا۔تصادم کے آثار نظر آرہے تھے کہ وزیراعظم کی تقریر سے کچھ ہی گھڑیاں پہلے جناب سہیل آفریدی نے اپنا لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ یوں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے سُکھ کا سانس لیا۔
بین الاقوامی محاذ پر دھاک بٹھانے والی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے بجا طور پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیت داخلی محاذ پر بھی بروئے کار لائے گی۔ ایران اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھانے والے اپنے حریفوں کو بھی اپنے سامنے بیٹھنے پر مجبور کر دیں گے،مفاہمت کی کسی یاد داشت پر اتفاق کر لیں گے،اس پر علی الاعلان دستخط ثبت کر دیں گے۔ لانگ مارچوں اور دھرنوں کی سیاست سے پاکستان کو نجات دلائیں گے۔ دارالحکومت کو محفوظ بنائیں گے،بے لگام خواہشات کو قانون کی زنجیر پہنائیں گے۔ وگرنہ اقبالؒ کی زبان میں یوں اظہارِ افسوس کرنا پڑے گا:
ڈھونڈے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
مزید یہ کہ :
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا
حافظ محمد ادریس مرحوم
جماعت اسلامی کے سربلند رہنما اور دانشور حافظ محمد ادریس کم و بیش آٹھ عشرے اِس دنیا میں گزار کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ ایک عرصہ تک نائب امیر رہے۔کئی اور تنظیمی ذمہ داریاں بھی سنبھالے رکھیں۔ لڑکپن ہی میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے اسیر ہوئے تھے، آخری سانس تک اُن کی فکر سے جڑے رہے۔عاجزی اور انکساری کی تصویر تھے، چہرہ مسکراہٹ کا مسکن تھا۔ برسوں نمازِ تراویح میں قرآن کریم سنایا، نمازِ جمعہ کا خطبہ بھی ارشاد فرماتے رہے۔سادہ الفاظ میں گفتگو کرتے اور دِل میں اُتر جاتے۔ قلم کے بھی دھنی تھے۔ ستر سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔روزنامہ ”دنیا“ کے لئے گزشتہ دس سال سے کالم لکھ رہے تھے۔ سیرتِ رسولؐ اور صحابہؓ ان کا خاص موضوع تھے۔ جماعت اسلامی کے اکابرین اور اپنے رفقا پر بھی انہوں نے دِل کھول کر لکھا۔ ان کی زندگیوں کے احوال قلم بند کر کے آنے والی نسلوں کے لئے ایک انمول خزانہ چھوڑ گئے۔ انہیں جماعت اسلامی کا مورخ بھی کہا جا سکتا تھا۔1969میں جب پیپلزپارٹی کا طوطی بول رہا تھا، انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کا صدارتی الیکشن جیت کر اس پارٹی کے مخالف حلقوں کو توانائی فراہم کی، وہ نئے حوصلوں سے سرشار میدانِ انتخاب میں اترے۔ان کے مقابلے میں (بعدازاں پیپلزپارٹی کے سر کردہ رہنما) جہانگیر بدر تھے۔ انتخابی ہنگامہ ختم ہوا تو اسی کے پیدا کردہ اثرات کے تحت جیل جانا پڑا۔ایک بڑا وفد لے کر رات گئے وائس چانسلر علامہ علاؤالدین صدیقی(مرحوم) کی رہائش گاہ پر جا پہنچے۔ اپنا مطالبہ منوانے والے بعض طلبہ نے جذباتیت کا مظاہرہ کیا، توڑ پھوڑ کر ڈالی۔ اِس کی پاداش میں سب دھر لیے گئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے متعلقین کے خلاف تادیبی کارروائی کی، نومنتخب صدر بھی اِس کی زد میں آئے۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے مذمت میں بیان جاری کیا۔ فوجی عدالت سے سزا یاب ہوئے اور پورا عرصہ صدارت پس ِ دیوارِ زنداں گزار دیا۔بعد میں منظر عام پر آنے والی تفصیل کے مطابق بے چارے حافظ صاحب اور ان کے کئی رفقاکو چند جذباتی ساتھیوں کی خطا کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ رہائی ہوئی تو کچھ عرصہ بعد جماعت اسلامی میں شامل ہو کر پرانے سفر کا نیا آغاز کر دیا۔ مولانا مودودیؒ کی ہدایت پر کینیا میں جا مقیم ہوئے اور وہاں اسلامک مشن کو آگے بڑھاتے رہے۔وہ ایک مثالی کارکن تھے، اپنے آپ کو کارکن ہی سمجھتے رہے۔ رہنمائی کا دعویٰ کیا، نہ ہی اس کا شوق دِل میں پالا۔ جماعت اسلامی ان جیسے جانثاروں کی وجہ ہی سے آج بھی ترو تازہ اور حوصلہ مند ہے :
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)