درہم برہم عالمی نظام کے بیچ اقوام متحدہ کا اجلاس
- تحریر اعزاز احمد چوہدری
- اتوار 27 / ستمبر / 2026
ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج بین ریاستی تعلقات کے اصولوں پر مبنی عالمی نظام اس وقت درہم برہم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بڑی طاقتوں میں ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے جس کے تحت وہ ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری کا احترام نہیں کرتیں۔
اور اپنے مخالفین کے خلاف یکطرفہ طور پر طاقت کا استعمال کرتی ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں یا سلامتی کونسل کے فیصلوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ ایسی افراتفری کی شکار دنیا میں، اقوام متحدہ خود کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے اہم معاملات میں پسِ پشت یا غیر مؤثر محسوس کر رہی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اقوام متحدہ آج کی دنیا کے لیے غیر متعلقہ ہو چکی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اقوام متحدہ اب بھی واحد عالمی نمائندہ تنظیم ہے جہاں اس کے تمام 193 رکن ممالک کو اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے۔
پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق جیسے معاملات میں، اقوام متحدہ اب بھی مشترکہ عالمی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نمایاں فورم ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہر سال ستمبر میں دنیا بھر کے رہنما رضاکارانہ طور پر نیویارک میں اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ نہ صرف اپنے اپنے مؤقف پیش کر سکیں بلکہ غیر رسمی ماحول میں ایک دوسرے سے ملاقات کر کے مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال بھی کر سکیں۔ اپنے قیام کے بعد سے ہی پاکستان نے اقوام متحدہ کے اصولوں اور مقاصد کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ اس نے تنظیم کے کاموں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، چاہے وہ امن کا قیام ہو، تنازعات کا حل ہو یا ترقیاتی ایجنڈا۔ اس سال بھی وزیر اعظم کی قیادت میں پاکستانی وفد نیویارک میں موجود تھا۔ روایت کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا آغاز ماہ کے تیسرے منگل، یعنی 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش کی رپورٹ سے ہوا، جس کے بعد برازیل اور امریکہ کے صدور نے اپنے بیانات دیے۔
1955 سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ برازیل کا وفد سب سے پہلے خطاب کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے چار عالمی بحرانی پہلوؤں کی نشاندہی کی: تنازعات، عدم مساوات، موسمیاتی جھٹکے اور تکنیکی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے خلل۔ یہ تمام باہم جڑے ہوئے چیلنجز اس بات کے گرد گھومتے ہیں کہ طاقت کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے۔
ڈونلڈ جے ٹرمپ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کا دفاع کیا اور ایران کو دھمکی دی کہ وہ یا تو تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے یا پھر مکمل ’تباہی‘ کا سامنا کرے۔ اس سے قبل، اقوام متحدہ کے ایک حقائق تلاش کرنے والے مشن نے حال ہی میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران پر دو حملوں کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ ایرانی صدر نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران اس لڑکیوں کے سکول کی تصاویر دکھائیں جسے امریکہ نے بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔ دریں اثنا، ایران نے تجویز دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرے اور فوجی و اقتصادی دباؤ میں نرمی لائے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز (26 ستمبر) جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی حالیہ کوششوں کو اجاگر کیا۔ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان نے ’امید نہیں چھوڑی‘ ہے اور وہ امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور امن مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کی جانب سے دی گئی قربانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے [افغانستان میں] عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے علاقائی تعاون پر زور دیا۔ شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حوثی باغیوں کے حالیہ ڈرون حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی استحکام کے لیے ایک اجتماعی عزم ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں ہے۔
مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف انڈین فوجی جارحیت اور ہمارے بھرپور ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اعلان کیا کہ ’ہم جنگ جیت چکے ہیں، اور اب ہم دنیا کے اپنے خطے میں امن جیتنے کے خواہاں ہیں...۔‘ انہوں نے مکمل جنگ کو روکنے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ تمام دیرینہ مسائل پر ایک جامع اور نتیجہ خیز بات چیت کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ دریائے سندھ کے پانیوں میں پاکستان کے حصے کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی بھارت کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا اور پاکستان ان پانیوں پر اپنے عوام کے حق کا دفاع کرے گا۔
انہوں نے کشمیریوں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور جلد ہی ایک دن کشمیر میں انڈیا کا جبر و استبداد ختم ہو جائے گا اور کشمیری اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خود ارادیت حاصل کر لیں گے۔ شہباز شریف نے غزہ اور مغربی کنارے میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے ہولناک مظالم کی مذمت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ دیگر امور کے علاوہ، انہوں نے ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات پر زور دیا اور اہم اقتصادی راہداریوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
دریں اثنا، حسبِ معمول، جنرل اسمبلی کا اجلاس ہماری قیادت کے لیے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کا ایک موقع ثابت ہوا۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ دونوں نے اجلاس کے دوران کئی اہم ملاقاتیں کیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ضمنی ملاقاتوں کے لیے فراہم کردہ پلیٹ فارم وقت اور موقع کا بہترین استعمال ہے، جس کا مقابلہ کوئی اور تنظیم نہیں کر سکتی۔
اقوام متحدہ عالمی رجحانات کا جائزہ لینے اور مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ اس سال، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ان دو اہم ترین مسائل کی درست نشاندہی کی جو ہماری دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں۔ اول، انہوں نے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اگر طاقت بے قابو ہو جائے اور سفارت کاری پر طاقت کا غلبہ ہو جائے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال کے لیے اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے اور دنیا کو ایک ایسے مقام کی حاجت ہے جہاں طاقت اصولوں کی پابند ہو۔ امید کی جاتی ہے کہ باہم برسرِ پیکار ممالک سیکرٹری جنرل کے اس مشورے پر کان دھریں گے کہ ’سب سے بڑی طاقت دوسروں پر غلبہ پانے کی صلاحیت نہیں، بلکہ ایک ایسا مستقبل تعمیر کرنے کی صلاحیت ہے جو سب کے لیے سودمند ہو۔‘
دوم، سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کےلیے ضابطہ اخلاق اور احتسابی نظام وضع کیا جانا چاہیے۔ اس سے قبل چین کے صدر شی جن پنگ نے شنگھائی میں منعقدہ 'ورلڈ اے آئی کانفرنس' میں تجویز دی تھی کہ مصنوعی ذہانت کو ’انسانی کنٹرول‘ میں رہنا چاہیے اور انہوں نے اس حوالے سے اہم ضابطہ جاتی و انتظامی اصولوں اور ڈھانچوں کی نشاندہی بھی کی تھی۔ تاہم اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کو منظم کرنے کے کسی بھی عالمی منصوبے کو مسترد کر دیا۔ یہ امر افسوسناک ہے۔
اگرچہ مصنوعی ذہانت کاموں کو خودکار بنا کر اور بڑی صنعتوں میں انقلاب لا کر ہمیں فائدہ پہنچائے گی، لیکن اس سے انسانیت کو سنگین خطرات بھی لاحق ہیں، جیسے کہ سائبر حملے، بے روزگاری اور تعصبات میں اضافہ۔ امید کی جاتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں سرکردہ دو بڑی طاقتیں، یعنی چین اور امریکہ، اقوام متحدہ میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت اور اس سے منسلک ٹیکنالوجیز کے لیے نگرانی اور ضابطہ کاری کے ایک جامع نظام کی تشکیل پر اتفاق کریں گی۔
(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)