چھپّن چھری اور لانگ مارچ
- تحریر سہیل وڑائچ
- اتوار 27 / ستمبر / 2026
لانگ مارچ کبھی جلوس کہلاتا تھا پھر یہ احتجاج، ریلی اور لانگ مارچ کے نئے اور جدید نام اختیار کرتا گیا۔ لانگ مارچ ہو تو ذہن میں ہجوم کا خیال آتا ہے۔ تاریخ دیکھیں تو نعرے، شور اور پھر ڈنڈے، بندوق اور آنسو گیس اور ٹینک و بکتر بند گاڑیاں یاد آتے ہیں۔ اب کنٹینر اور کیل بھی اس لغت میں شامل ہو گئے ہیں۔
لیکن اگر سیاست اور احتجاج کو عشق کی زبان میں بیان کرنا ہو تو پھر عاشق، محبوبہ اور رقیب کی پرانی اصطلاحیں یاد آتی ہیں۔ اگر اقتدار محبوبہ ہے تو عاشق اور رقیب کی لڑائی میں ماضی کے دور میں خنجر، تلوار، چاقو اور چھریاں مقابلے کی اصطلاحیں تھیں۔ چھریوں کی کئی قسمیں معروف ہیں۔ کند چھری، تیز چھری، میٹھی چھری اور چھپّن چھری۔ میٹھی چھری تو حلیف ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں جبکہ چھپّن چھری وار کئے بغیر حریف کو زخمی کر دیتی ہے۔
چھپّن چھری دراصل جانکی بائی الٰہ آبادی کا لقب تھا۔ 1880 میں بنارس میں پیدا ہونے والی جانکی بائی کی والدہ منکی اور والد شیو بالک رام تھا۔ گھریلو مالی حالات بگڑے تو ماں بیٹی الٰہ آباد پہنچیں، وہاں کوٹھا کلچر کا حصّہ بننے کیلئے کلاسیکی موسیقی کی تربیت لی۔ جانکی دیوی گرامو فون یعنی باجا آنے کے بعد گوہر جان کی طرح معروف مغنیہ تھیں۔ جانکی دیوی بارہ سال کی تھی کہ رگھونندن نامی کانسٹیبل نے اس پر چھری سے حملہ کر دیا۔ رگھونندن، جانکی سے جنسی تعلق کا خواہاں تھا۔ انکار پر چھری سے حملہ آور ہوا تو جانکی کے جسم اور چہرے پر بہت زخم آئے جنہیں بعد میں چھپن (56) زخم کہا گیا۔ اسی سے جانکی دیوی کا نام چھپن چھری پڑگیا ۔ جانکی دیوی کے چہرے پر چھریوں کے داغ تھے، اس لئے وہ پردے کے پیچھے سے گانا گاتی تھی ۔ وقت گزر گیا تو اصلی جانکی دیوی تو بھولتی گئی اب چھپن چھری کے محاوراتی استعارے کا مطلب ایک ایسی شوخ و طرحدار خاتون ہے جو اپنے حسن اور ناز و انداز سے وار کرتی ہو۔
تازہ خبر آئی ہے کہ27ستمبر کو ہونے والا لانگ مارچ 4اکتوبر تک ملتوی ہو گیا ہے گویا ستمگر ستمبر اب اکتوبر میں طلوع ہوگا۔ لانگ مارچ کے وار چھپن چھری والے تھے تو حکومتی انتظامات کند چھری والے تھے۔ محاوراتی زبان میں کند چھری سے حریف کو ذبح کرنے کا مطلب اسے زیادہ تکلیف دینا اور سسکا سسکا کر مارنا ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کو میٹھی چھری کے ذریعے ڈیل کیا گیا حالانکہ عام طور پر عاشقوں کے درمیان جنگ اور مقابلے میں تیز چُھری استعمال ہوتی ہے کیونکہ اس سے حریف اور رقیب کا فوری کام تمام ہو جاتا ہے۔ اور رقیب ختم ہو جائے تو پھر محبوبہ یا لیلائے اقتدار کا حصول آسان ترین ہو جاتا ہے۔
یادش بخیر ایک زمانے میں وزیرآبادی چاقو اور چھریاں مشہور ہوتی تھیں۔ مجھے ذاتی طور پر ایک وزیر آبادی چاقو کی تیز دھار ایسی لگی تھی کہ آج تک بائیں ہاتھ کی پہلی انگلی پر گہرا نشان موجود ہے ، میرے والد مرحوم گزراتی (گجراتی زبان) میں چاقو کو ہمیشہ چقّو کہا کرتے تھے۔ وزیر آبادی چقو کے وار تو سیدھے سیدھے ہوتے تھے۔ اس کی دھار کے زخم لہو نکالتے تھے مگر بھر جاتے تھے۔ آج کل کی چھپن چھریوں کے وار اور دھار سے نہ زخم بنتا ہے اور نہ ہی اس کے بھرنے کا سوال ہوتا ہے۔ یہ چھریاں دل پر گھاؤ لگاتی ہیں اور پھر یہ داغ کبھی بھی بھلائے نہیں جاتے، ان کی تکلیف اور درد ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
عملی سیاست کی گرہیں کھولنے کی کوشش کریں تو لانگ مارچ دراصل پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کی سیاسی زندگی اور موت کا مسئلہ تھا، کیونکہ یوٹیوبرز اور عمرانی سسٹرز کا ان پر شدید دباؤ تھا کہ عمران کی رہائی کیلئے باہر نکلیں وگرنہ وزارت اعلیٰ اور قیادت کو چھوڑیں۔ جس دن سے تحریک انصاف نے تحریک کی کوشش شروع کی ہیں، اس دن سے سسٹرز اور یوٹیوبرز کی توپیں خاموش ہوگئی ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس کند اور میٹھی چھریاں ہر وقت تیار پڑی رہتی ہیں۔ لانگ مارچ وہ طرحدار چھپن چھری ہے جو اپنی چال، اداؤں اور دباؤ سے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ کچھ کمال دکھا سکتی ہے۔
دوسری طرف حکومتی کند چھری ’کراچی والا ‘ وہ کمال دکھانا چاہتی ہے جس میں متحدہ کے لندن اور پاکستان کے دھڑے بن گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ کے ترجمان شفیع جان کے بیانات میں جہاں حکومت کو للکارا گیا وہاں معنی خیز انداز میں میٹھی چھری پھیرتے ہوئے یوٹیوبرز کو کہا گیا کہ وہ یا تو باہر سے آ کر لانگ مارچ کی قیادت کریں یا پھر عمران خان کے نام پر کمائے گئے لاکھوں ڈالروں میں سے کچھ تحریک چلانے کیلئے بھیجیں۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ سسٹرز کے یوٹیوبرز کے استعمال پر پارٹی کے اندر بغاوت کے آثار نمایاں ہیں اور اب اگر ایک تیلی لگ گئی تو آگ بھڑک اٹھے گی اور یوں تحریک انصاف کی پاکستانی قیادت کھلے عام باہر سے دیے گئے بیانیے، حکمت عملی اور تنقید سے یکسر بغاوت کر دے گی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت نے جس کند چھری سے چھپن چھری کو ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کا عندیہ دیا ہے، کیا وہ پارٹی کی یہی تقسیم ہے یا حکومت کی جادوئی ٹوپی سے کوئی اور نیا کبوتر نکلے گا؟
سب رنگ والے شکیل عادل زادہ نے ’بازی گر‘ کے نام سے ایک سلسلہ وار کہانی لکھی۔ کہانی کا مرکزی کردار بابر زمان خان عرف ’لاڈلا‘ چاقو زنی کا ماہر تھا، اس کہانی میں دکھایا گیا تھا کہ چاقو بازوں کا ایک وسیع نیٹ ورک متوازی حکومت چلاتا تھا۔ چاقو بازوں کے علاقائی ٹھکانے کو ’پاڑا‘ کہتے تھے، پاڑے کی سربراہی اسے ملتی تھی جو چاقو زنی میں سب سے ماہر ہوتا تھا۔ عام طور پر مقابلے کیلئے چاقو کا جو ہتھیار استعمال ہوتا تھا وہ ’رام پوری چاقو‘ کہلاتا تھا، اس کا پھل وزیر آبادی چاقو سے لمبا ہوتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ تضادستان ایک بڑا پاڑا ہے اور اس کے حریفوں کے ہاتھ چاقو نہیں بلکہ چھریاں آ چکی ہیں۔ ہر بابر زمان لاڈلا اپنی کند چھری، میٹھی چھری یا چھپن چھری دکھا کر پاڑے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کی اندرونی لڑائی وہی ہے جو اپوزیشن کے اندر مایوسی اور فرسٹریشن سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک کوئی سیاسی جماعت کامیابیاں حاصل کر رہی ہوتی ہے، اس وقت تک عہدوں کے حصول کیلئے میٹھی چھریاں چلتی ہیں، اور جب اپوزیشن میں ناکامیاں ہو رہی ہوتی ہیں تو مایوسی میں اندرونی لڑائیاں بڑھ جاتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف تیز اور کند دونوں طرح کی چھریاں چلتی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ بظاہر اکٹھے چلنے والے ایک دوسرے کو عدم موجودگی میں پارٹی کاغدار قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ اکثر یہ لڑائیاں کھلے عام نہیں ہوتیں، سازشوں اور افواہوں کے ذریعے لڑائی لڑی جاتی ہے۔ اپنے استاد خورشید رضوی کا یہ شعر تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے:
جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں مجھے راس تھیں
یہ جو زہر خند سلام تھے مجھے کھا گئے
تحریک انصاف کا مارچ 4 اکتوبر کو ہو یا پھر ملتوی ہو جائے، اصل سوال تو یہ ہے کہ مارچ کا اسلام آباد پہنچنا محال ہے اور اگر پہنچ بھی جائے تو عمران کی رہائی کا امکان صفر ہے۔ کیا اس دباؤ سے صورتحال بدلے گی؟ بظاہر کوئی ایسا امکان نظر نہیں آتا۔ چھری چاقو کی اس لڑائی میں اصل نقصان تو عام آدمی کا ہے، سڑکیں بند ہوں گی تو معیشت کا مزید بیڑا غرق ہو گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ لانگ مارچ کیا واقعی تحریک انصاف کا آخری لانگ مارچ ہوگا یا اس لانگ مارچ سے کوئی نئی تحریک چل سکے گی؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)