اگر جیب میں سو روپیہ بھی نہ ہو تو
- تحریر یاسر پیرزادہ
- اتوار 27 / ستمبر / 2026
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ٹالسٹائی کا یہ جملہ کہ تمام سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں جبکہ ہر دکھی گھرانے کا دکھ جدا ہوتا ہے، اپنے اندر معانی کا ایک جہان لیے ہوئے ہے۔ اپنے آرام دہ کمروں میں بیٹھے ہوئے ہم یہ جان ہی نہیں سکتے کہ دیہاڑی پر کام کرنے والے پر کیا گزرتی ہے۔
لیکن پھر ایک مشہور ٹی وی سیریز کا مکالمہ یاد آ جاتا ہے جس میں ایک دولت مند شخص دوسرے کو مشورہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ”تم اب ایک امیر آدمی ہو، اور امیر بننا سیکھنا پڑتا ہے۔ غریب تو کوئی بھی رہ سکتا ہے۔“ اگلے روز موبائل فون ایپ کے ذریعے سودا سلف منگوایا۔ ایک نوجوان سامان لا کر گھر کے دروازے پر رکھ گیا۔ میں نے اُجرت پوچھی تو بولا دو سو سینتالیس روپے۔ یاد رہے کہ پہلے وہ اپنی موٹرسائیکل پر دکان تک گیا، وہاں سے دو چار مرتبہ مجھے فون کیا کہ فلاں چیز ختم ہے تو کیا آؤں، اور پھر شہر کی بے ہنگم ٹریفک سے لڑتا بھڑتا میرے گھر تک آیا۔
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ان دو سو سینتالیس روپوں میں سے پٹرول اور ایپ کی کمیشن نکال کر اسے کیا بچے گا۔ اور دیکھنے میں وہ نوجوان کسی فلمی ہیرو سے کم نہیں تھا۔ ”ہو گا کچھ“ میں نے سوچا اور کندھے اچکا دیے۔ بس ہم ایسے ہی کندھے اچکا کر آگے نکل جاتے ہیں۔ اُس روز موٹروے پر سفر کرتے ہوئے کے ایف سی پر رکا۔ کھانے کا آرڈر دیا تو دیکھا کہ ایک میز پر چار بچیاں بیٹھی ہیں جن کی عمریں چار سے دس برس کے درمیان ہوں گی۔ شکل سے ہی لگ رہا تھا کہ انہوں نے کھانا نہیں کھایا۔ میں نے ویٹر سے پوچھا کہ کیا یہ کسی کے ساتھ ہیں؟ بولا نہیں صاحب، آپ کہیں تو انہیں باہر نکال دوں۔ میں نے کہا نہیں، میری طرف سے اِن کے لیے برگر اور بوتلیں لے آؤ۔ کھانا آیا تو سب سے چھوٹی بچی نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا: یہ بوتل بھی میرے لیے ہے؟ شاید مجھے یہ بات نہیں لکھنی چاہیے تھی۔
پچیس کروڑ کی ہماری آبادی ہے جس میں سے نصف سے زیادہ گھرانوں کی آمدنی چالیس ہزار روپے ماہانہ سے کم ہے۔ اور جو غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، انہیں تو ہم نے گویا کیڑے مکوڑے سمجھ رکھا ہے۔ یہ ہمیں سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں ہر طرف نظر آتے ہیں۔ سڑکوں پر بھیک مانگتی چھوٹی چھوٹی بچیاں، گود میں کسی نومولود کو اٹھائے ہاتھ پھیلاتی عورتیں، اپاہج مرد اور بچے۔ تھوڑی بہت دنیا میں نے بھی دیکھی ہے مگر ایسا منظر نہیں دیکھا، اِس میدان میں ہمارا مقابلہ اگر کسی سے ہے تو وہ بھارت اور بنگلہ دیش ہیں۔ اِس غربت کا حل غریب نے خود تلاش کرنا ہے۔ لیکن ہم اسے یہ کام بھی نہیں کرنے دیتے۔ جو تھوڑا بہت کام اِن غریبوں کا چل رہا ہے، وہ مختلف نوع کی موبائل ایپس کی مرہون مِنّت ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ لیکن یہ بھی جوکھم کا کام ہے۔ میرا بیٹا اکثر بائیکیا پر یونیورسٹی آتا جاتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ آدھے راستے میں بائیک والے کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے، وہ اسے پٹرول کے پیسے دیتا ہے، پھر پٹرول ڈلوایا جاتا ہے جس کے پیسے وہ کُل اُجرت سے منہا کر لیتا ہے۔
ہم جیسوں کو غربت یہ ’سائنس‘ سمجھ نہیں آ سکتی کیونکہ ہمیں یہ علم ہی نہیں کہ جب جیب میں سو روپے بھی نہ ہوں تو دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ اور جو لوگ بیچارے یہ ایپ وغیرہ استعمال کرنا نہیں جانتے، وہ صبح سویرے چوراہوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ کوئی گاڑی رکے اور انہیں دن بھر کی مزدوری کے لیے ساتھ لے جائے۔ کوئی نہ رکے تو شام کو فاقہ۔ اِن غریبوں میں سے اگر کوئی ’سرمایہ دار‘ ہے تو وہ ریڑھی لگا لے گا مگر اب سنا ہے کہ یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ تہہ بازاری والے، جن کا نام آج کل پیرا فورس ہے، ریڑھی اٹھا کر پھینک دیتے ہیں۔ ریڑھی والا کوئی جرائم پیشہ آدمی نہیں۔ اُس غریب کے پاس نہ دکان خریدنے کے پیسے ہیں، نہ کرایہ دینے کی سکت۔ اس کا سارا سرمایہ ریڑھی اور اس پر رکھا ہوا سامان ہے۔ جس روز وہ ریڑھی ضبط ہوتی ہے، اُس روز اس کا ’کاروبار‘ تباہ ہو جاتا ہے۔
غریب کی زندگی کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک بیماری کے فاصلے پر کھڑا ہوتا ہے۔ گھر کا کمانے والا اگر بیمار ہو جائے، کسی بچے کو اسپتال لے جانا پڑ جائے یا موٹرسائیکل کا حادثہ پیش آ جائے تو برسوں کی جمع پونجی ہفتے بھر میں ختم ہو جاتی ہے۔ پہلے وہ قرض اٹھاتا ہے پھر اُس کا سود بھرتا ہے، اور سود کے بعد وہ چکر جس سے نکلنے میں کئی نسلیں لگ جاتی ہیں۔ ہر چوراہے پر گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹاتی ہوئی بچیاں اسی چکر کی پیداوار ہیں۔ انہیں اسکول میں ہونا چاہیے مگر وہ سڑک پر ہیں کیونکہ اُن کے گھر میں کسی نے حساب لگایا کہ اسکول کی نسبت سڑک زیادہ منافع بخش ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس مسئلے کا حل کسی کی جیب میں رکھا ہوا ہے۔ لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جن کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ مثلاً ریڑھی والوں کو اٹھا کر پھینکنے کے بجائے شہروں میں ان کے لیے جگہیں مخصوص کی جا سکتی ہیں۔ انہیں معمولی فیس کے عوض لائسنس دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ عزت سے کاروبار کر سکیں۔
کئی ایشیائی شہروں میں اسٹریٹ فوڈ ایک پوری صنعت ہے اور سیاح دور دراز سے وہ کھانے کھانے آتے ہیں۔ بینکاک اُس کی بہترین مثال ہے۔ ہمارے ہاں وہی اسٹریٹ فوڈ تجاوزات کہلاتا ہے۔ اسی طرح ڈلیوری کا کام کرنے والے نوجوانوں کو سوشل سکیورٹی کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے اور جو کمپنیاں ان کی محنت سے کما رہی ہیں، اُن سے کہا جا سکتا ہے کہ حادثاتی بیمے کا کچھ بوجھ وہ بھی اٹھائیں۔ یہ کوئی انقلابی مطالبات نہیں، محض اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے ہاں غربت کا علاج عموماً خیرات سمجھا جاتا ہے۔ رمضان میں راشن کے تھیلے، سردیوں میں کمبل، کسی لنگر خانے کا افتتاح اور اس کی تصویریں۔ اور سچ پوچھیں تو میں نے بھی ان بچیوں کے لیے یہی کیا تھا، ایک وقت کا برگر اور ایک بوتل۔ خیرات اچھی چیز ہے اور اس کا اجر اپنی جگہ، لیکن خیرات سے قومیں نہیں بنتیں۔ خیرات آدمی کا آج کا پیٹ بھرتی ہے، کل کا نہیں۔ کل کا پیٹ اُس وقت بھرتا ہے جب اُس آدمی کے پاس کوئی ہنر ہو، کام کرنے کی جگہ ہو۔ ہم غریب کو مچھلی تو دیتے ہیں، مگر اسے مچھلی پکڑنے کا طریقہ نہیں سمجھاتے اور کچھ وہ سمجھنا بھی نہیں چاہتا۔
ٹالسٹائی نے لکھا تو ٹھیک تھا مگر یوں لگتا ہے جیسے ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ یہاں دکھی گھرانے ایک جیسے ہو گئے ہیں۔ وہی ادھار، وہی بیماری، وہی ضبط شدہ ریڑھی، وہی دو سو سینتالیس روپے، اور وہی بچیاں جنہوں نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ ہمارے دکھ اتنے عام ہو گئے ہیں کہ انہوں نے اپنی انفرادیت ہی کھو دی ہے۔ اور جب دکھ عام ہو جائے تو وہ خبر نہیں رہتا، منظر بن جاتا ہے۔ اور اس منظر کے سامنے سے ہم سب روز گزرتے ہیں، کندھے اچکاتے ہوئے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)