پنجاب یونیورسٹی میں ہلچل کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 27 / ستمبر / 2026
قدیمی مادر علمی پنجاب یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ حیاتیاتی شعبے کے ماہر تعلیم اور بہترین منتظم ہیں۔آپ نہ صرف یہ کہ اس یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے ہیں بلکہ یونیورسٹی آف ویلز یوکے اور یونیورسٹی آف مسوری یو ایس سے بھی اپنی ڈاکٹریٹ اور اعلی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی ذمہ داری پر فائز ہونے کے بعد پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے نہ صرف یہ کہ یونیورسٹی کو نئی راہوں پر گامزن کر دیا ہے بلکہ وراثتی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ آپ علمی و تحقیقی حوالوں سے طلبا واساتذہ کو نئی امنگ دیتے ہوۓ دیگر ادبی، ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں انیس فیکلٹیز کے ساتھ دس کالجز اورایک سو پچاس ڈپارٹمنٹس کام کر رہے ہیں۔ الحاق شدہ پانچ سو تیرہ کالجز ان کے علاوہ ہیں۔ یونیورسٹی میں اس وقت طلبہ کی تعداد چون ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ریگولر اساتذہ کی تعداد تیرہ سو ہے۔
یونیورسٹی کی مین لائبریری طلبا کے لیے نعمت یا سورگ سے کم نہیں۔ ہمارے پروفیسر ڈاکٹر ہارون عثمانی نے اس حوالے سے کامیاب کاوشیں کیں۔ حال ہی میں یونیورسٹی نے چائنا کی اوہان یونیورسٹی سے مل کر چاول کی ایک نئی ہائبرڈ قسم متعارف کرائی جس سے امید کی جا رہی ہے کہ ہماری فی ایکڑ پیداوار چار گنا بڑھ کر ایک سو چالیس من تک پہنچ جائے گی۔ اس تحقیقی و تخلیقی کام کے ساتھ طلبا میں غیر نصابی سرگرمیوں کو بڑھانے کیلیے کوشاں رہتے ہیں۔ نوجوانوں کو کھیلوں میں کارکردگی بہتر بنانے کے مواقع مہیا کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے تحت انہوں نے شعبہ صحافت کے جواں سال پروفیسر ڈاکٹر شبیر سرور کو تدریس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے اسپورٹس ڈائریکٹر کی ذمہ داری تفویض کی، تو آج اسی کا ثمر ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کھیلوں میں ملک کی نمبر ون یونیورسٹی قرار پائی ہے۔ اس کے کھلاڑی اندرون اور بیرون ملک اپنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔
ایشین روئنگ چیمپئن شپ میں پنجاب یونیورسٹی ہیلے کالج کے ہونہار طالب علم زرق خان نے دو گولڈ میڈل جیتے۔ اس طرح عبدالرحمن اور گوہر ایوب نے بھی یونیورسٹی کو میڈل جتوائے۔ حال ہی میں یونیورسٹی طالبات نے بیرون ملک کھیلتے ہوئے اٹھارہ لاکھ کی نقد انعامات حاصل کیے۔ اب یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم بھی نکھر رہی ہے۔ باسکٹ بال، بیڈمنٹن، جوڈو کراٹے اور رسہ کھینچنے کے مقابلے بھی دلچسپ ہوتے ہیں۔ البتہ اس درویش کو ایک شکایت ضرور ہے کہ اتنے وسائل ہوتے ہوئے یونیورسٹی اسپورٹس کمپلیکس میں تاحال ایئر کنڈیشننگ کی سہولت میسر نہیں۔ شدید گرمی میں طلبا و طالبات کے پسینے چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال آؤٹ ڈور گیموں کے لیے تو قابل فہم ہو سکتی ہے لیکن انڈور گیموں بالخصوص باڈی بلڈنگ، باسکٹ بال، بیڈمنٹن وغیرہ کے لیے، کسی طرح بھی قابل ستائش نہیں کہی جا سکتی۔
ان نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کو پروموٹ کرنے کے علاوہ درویش کو جناب وائس چانسلر کے جس اقدام سے بہت خوشی ہوئی ہے، وہ ان کا یونیورسٹی میں کرپشن مافیا کو مضبوط ہاتھ ڈالنا ہے۔ درویش کی زندگی کا حاصل ہے کہ رکاوٹیں اسی کی راہ میں ڈالی جاتی ہیں جو کام کرتا ہے۔ اگر کوئی افسری انجواۓکرنے والا معاملات سٹیٹس کو کی مطابقت میں چلنے دے تو کسی کو کوئی پرابلم نہیں ہوگی۔ چاروں اطراف سے آل رائٹ کی آوازیں آئیں گی لیکن اگر آپ سٹیٹس کو کے سرکل کو توڑتے ہوئے افکار تازہ کے ساتھ، قدامت و سہل پسندی کے بالمقابل جدت کی حدت سے نئی علمی و فکری ترقی کے علمبردار ہیں اور صدق دل سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی یونیورسٹی کا شمار دنیا کی سو عظیم ترین یونیورسٹیوں میں ہو تو پھر یقین رکھیے سٹیٹس کو کی سہولیات سے مستفید ہونے والی کالی بلائیں آپ کا راستہ روکنے کے لیے حسب توفیق اپنا مڈلیے ضرور نکلیں گی۔
یہ کیچڑ آپ پر گرا پائیں یا ناکام رہیں البتہ ایسی کاوش ضرور کریں گی۔ کچھ ایسی ہی کالی بلاؤں کا سامنا ان دنوں ہمارے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو کرنا پڑا ہے۔ کرپشن مافیا کا اولین پڑاؤ ہاؤسنگ سکیموں یا پلاٹوں کی لین دین یا لوٹ کھسوٹ میں ہوتا ہے۔ کس قدر ظلم کی بات ہے جو اساتذہ اپنے ریٹائرمنٹ پر زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر بنانے کے متمنی ہوں، پتا چلے کہ ان کا پلاٹ ہی پراپرٹی مافیا نے دبا رکھا ہے تو ان پر کیا گزرے گی۔ جناب وائس چانسلر، شکر و احسان کا استحقاق رکھتے ہیں کہ انہوں نے نتائج یا احتجاجی دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر کرپشن مافیا پر کڑا ہاتھ ڈالتے ہوئے ایسی کرتوتوں کا نہ صرف سدباب کیا بلکہ ان کے بہکاوے میں آ کر جو ملازمین بددلی کے ساتھ احتجاجوں میں نکلے سچائی ان پر واضح کرتے ہوئے ان کی آنکھیں کھول دیں۔
اس حوالے سے ہمارے ایجوکیشن منسٹر، رانا سکندر حیات کا کردار بھی قابل تعریف ہے جن کے دادا حضور رانا نثار خان سے درویش کی اپنائیت رہی ہے اور اسی کی جھلک ان کے پوتے میں ملاحظہ کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ جناب وائس چانسلر نے کرپشن مافیا کے خلاف جو اقدامات اٹھائے ہیں، ہم سب ان کے ساتھ ہیں، امید ہے اس اعتماد کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر اپنی رینکنگ سنوارنے میں کامیاب ہو پائے گی۔