ایران امریکہ تنازعہ: نئی جنگ خطرناک اور مہلک ہوگی
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 27 / ستمبر / 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ امریکہ کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے دعوے کررہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جلد ہی مذاکرات شروع ہوجائیں گے لیکن دونوں طرف سے دئے جانے والے اشارے خوشگوار نہیں ہیں۔ یوں تو حالت جنگ میں یک طرفہ پروپیگنڈا کی بنیاد پر خبریں پھیلائی جاتی ہیں لیکن اس تنازعہ میں امریکی صدر اور ایرانی پاسداران نے مسلسل جنگ جوئی کا لب و لہجہ اور زبان استعمال کی ہے۔
دنیا بھر کے ممالک اس جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھلنے کی امید کررہے ہیں۔ اس آبی شاہراہ کے بند ہونے سے نزدیک و دور کے سب ممالک متاثر ہوئے ہیں اور اس کی قیمت چھوٹے بڑے ہرطرح کے ممالک میں رہنے والے لوگوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ خواہ ان کا اس تنازعہ سے براہ راست کوئی تعلق ہو یا نہ ہو۔ ایران نے عرب ممالک کو تو اس عذر کی بنیاد پر نشانہ بنایا ہے کہ ان کے ہاں قائم اڈوں سے امریکہ ایران پر حملے کرتا ہے لیکن جب اسرائیلی وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ امریکی حملوں میں اسرائیلی سرزمین پر قائم اڈوں سے حملے کیے گئے تھے تو کسی ایر انی لیڈر نے اس کا جواب تک دینا مناسب نہیں سمجھا۔ جب کہ دوسری طرف عرب ممالک ایران کی یک طرفہ جارحیت کے باوجود مسلسل جنگ بندی کی کوششوں میں بھی مصروف رہے ہیں اور کسی عرب ملک نے ایران کو جواب دے کر جنگ بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔
ایرانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اس کے ہمدرد اگرچہ اسے عربوں کی کمزوری اور ایران کی بالادستی ثابت کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ بعض تبصروں اور جائزوں میں تو یہ بھی ثابت کرنے کی کو شش کی جاتی ہے کہ جیسے اس جنگ کے بعد ایران مشرق وسطیٰ کی سپر پاور بن کر ابھرے گا اور اس کا جب دل چاہے گا وہ اسی ملک سے ’خراج‘ وصول کرسکے گا۔ حالانکہ یہ تبصرے یا ایسی امید قائم کرلینا نہایت بچگانہ اور غیر پیشہ وارانہ ہے۔ ایران جنگ میں جو بھی دعوے کرتا رہے لیکن اس کی کل طاقت یا دہشت چند میزائل یا ڈرون پھینکنے کی صلاحیت ہے جو وہ عرب ممالک کی طرف بھیج کر تیل کی عالمی منڈیوں میں ہیجان پیدا کرسکتا ہے۔ یا پھر آبنائے ہرمز میں بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے عالمی تجارت اور تیل و گیس کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔
اس پس منظر میں یہ سمجھنا بھی اہم ہونا چاہئے کہ اگر آبنائے ہرمز پر امریکہ کا ’تسلط‘ نہیں ہے تو ایران بھی اس پر پوری گرفت نہیں رکھتا۔ اس آبی گزرگاہ سے آمد و رفت میں اس لیے دشواری پیش آرہی ہے کیوں کہ انشورنس کمپنیاں کسی جنگ زدہ علاقے سے بحری جہازوں کے جانے پر اس کا بیمہ کرنے سے انکار کرتی ہیں اور کوئی بھی جہازراں کمپنی ایسی ضمانت کے بغیر اپنے جہاز آبنائے ہرمز نہیں بھیج سکتی۔ دوسری طرف امریکی بحریہ نے اگرچہ ایران کا بلاکیڈ کیاہؤا ہے لیکن وہ بہر صورت یہ سو فیصد یقینی نہیں بنا سکتی کہ کسی بھی بحری جہاز پر حملہ نہیں ہوگا۔ ایران اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کرنے کے دعوے کرتا ہے۔ لیکن یہ دعوے اتنے درست نہیں ہیں جتنا ایران ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل قبضے سے زیادہ تو امریکہ کا بحری بلاکیڈ مؤثر ہے اور کوئی ایرانی جہاز اسے توڑ کر نکلنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ اسی لیے ایران نے چند شرائط کے ساتھ ایک ہفتے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کی پیش کش کی تھی تاکہ امریکی بلاکیڈ ختم کرایا جاسکے۔ دوسری طرف امریکہ کو بھی پتہ ہے کہ بحری بلاکیڈ ہی درحقیقت ایران کی معاشی ناکہ بندی کا سبب بن رہا ہے اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس کے پاس وسائل کی کمی ہورہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران نے یمن کے حوثیوں یا انصاراللہ کو متحرک کرکے سعودی عرب سے تیل کی ترسیل رکوانے کی کوشش کی ۔ شروع میں حوثیوں نے کچھ پیش قدمی کی تھی اور قیاس کیا جانے لگا تھا کہ آبنائے ہرمز کی طرح باب المندب کو بند کرکے دنیا کو پوری طرح معاشی دباؤ میں لایا جائے۔ یہ کوشش فی الوقت کامیا ب نہیں ہوئی۔ حتی کہ ایران کو سرکاری طور پر اعلان کرنا پڑا کہ اس کا حوثیوں کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ خود مختار گروہ ہے اور اپنے فیصلے خود کرنے کا مجاز ہے ۔ لیکن جس طرح ایرانی میڈیا حوثیوں کو گلوری فائی کرکے سعودی عرب پر ان کی بالادستی ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہاہے ، اس کی روشنی میں ایران کی حقیقی پوزیشن غیر واضح نہیں رہتی۔ اسی لیے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کی کوئی اہمیت نہیں کہ جنگ بندی کی صورت میں تمام محاذوں پر جنگ بند ہونی چاہئے۔ ایسے مطالبوں سے ایران لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملوں کو بند کرانا چاہتا ہے لیکن یمن میں ایران کے حامی گروہ حوثیوں کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بیانات میڈیا میں خبروں کی حد تک کارآمد ہوتے ہیں اور سفارتی کوششوں میں ان کے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
اس معاملہ میں ایران کی سیاسی لیڈر شپ اور پاسداران کے جرنیلوں کے درمیان تفاوت بھی تنازعہ کے تسلسل کا باعث بنا ہؤا ہے۔ اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نمائیندگی کے لیے گئے تھے اور امن کی باتیں کرتے رہے لیکن بدقسمتی سے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ پاسداران کے لیڈروں سے ’اجازت لیے بغیر‘ کوئی ٹھوس وعدہ نہیں کرسکتے۔ ایران میں پایا جانے والا یہی اختلاف درحقیقت ’اسلام آباد یادداشت‘ پر عمل درآمد میں رکاوٹ بنا ہؤا ہے۔ البتہ عباس عراقچی اس کی ذمہ داری واشنگٹن پر ڈال کر فیس سیونگ کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایران کے مذہبی پیشوا مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں ہے۔ پاسداران یہ اعلان تو کرتے ہیں کہ وہ صحت مند اور خیریت سے ہیں، وہی سارے اہم فیصلے کرتے ہیں لیکن جب تک مجتبیٰ خامنہ ای خود سامنے آکر کوئی بیان جاری نہ کریں، اس وقت تک اس بارے میں شبہات موجود رہیں گے۔
ایران نے حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کرکے اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ بظاہر وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اسی لیے اب سرکاری طور سے حوثیوں سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دوران پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ پیکٹ کے حوالے سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ نیویار ک میں ان تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مل بیٹھ کر سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں اس نئے دفاعی معاہدے کے کردار کا جائزہ لیا جبکہ تینوں ملکوں کی مسلح افواج کے سربراہان ریاض میں ملے ہیں اور مکہ پیکٹ کے تحت عسکری تعاون کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ کسی اجلاس کے اعلامیہ میں معاہدے کے شریک ممالک کی طرف سے کسی عملی اقدام کا اعلان نہیں ہؤا لیکن یہ ملاقاتیں بجائے خود ایران کو یہ واضح اشارہ دینے کے لیے کافی ہیں کہ سعودی عرب کے خلاف محاذ کھولا گیا تو یہ جنگ بہت وسیع اور خطرناک ہوسکتی ہے۔
سیاسی و سفارتی مباحث میں بلاشبہ جنگ کے نتیجہ میں امریکہ کی غلطیوں اور نقصان پر غور ہوسکتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ایران پر حملہ سے امریکہ کی عسکری طاقت کا پول کھلا ہے۔ لیکن اس سے یہ قیاس کرلینا کہ ایران یہ جنگ جیت چکا ہے اور اب امریکہ شکست کی دستاویز پر دستخط کرکے اس جنگ سے دست بردار ہوگا، خام خیالی اور حقائق سے ناآشنائی ہے۔ امریکہ اب بھی بڑی عسکری طاقت ہے اور ایران تمام تر دعوؤں کے باوجود نہ امریکہ کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے اور نہ ہی وہ اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔ کمزور فریق کے طور پر ایران کو جلد یا بدیر یہ ماننا پڑے گا کہ امریکہ کی سرزمین ایرانی حملوں سے محفوظ ہے جبکہ اس کی اپنی سب تنصیبات پوری طرح امریکہ کے رحم و کرم پر ہیں۔ جنگ بند ہونا ہی ایران کی موجودہ حکومت کے فائدے میں ہے لیکن پاسداران کو لگتا ہے کہ جنگ بند ہوگئی تو جنگ کے بعد کی صورت حال میں ان کے لیے ملکی معیشت و سیاست پر مکمل کنٹرول رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ تند و تیز اور بعید از عقل بیان دے کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایران کسی برابر کے ملک کے ساتھ جنگ میں ملوث ہے۔
یہ واضح ہورہا ہے کہ ایران نے اگر نومبر میں امریکی مڈ ٹرم انتخابات تک کسی معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو اس کے بعد صدر ٹرمپ نئے اور خطرناک حملوں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں۔ ایران، خطے اور دنیا کے لیے جنگ کے اس نئے دور سے بچنا بے حد اہم ہے۔ لیکن سب سے زیادہ خطرہ ایران کو ہے جس پر نئی تباہی مسلط ہوسکتی ہے۔ کسی عقلمند قیادت کو محض ضد اور انا کی وجہ سے اس نوشتہ دیوار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔