اخبارات کی دنیا،سچ کی دنیا

میری طالب ِ علمی کے زمانے میں اطلاعات کا سب سے بڑا ذریعہ اخبارات ہوتے تھے،اس زمانے میں جب کوئی خبر گردش کرتی تو لوگ سب سے پہلے یہی سوال کرتے کیا اخبار میں یہ خبر آئی ہے، گویا اخبار میں آنے والی خبر مصدقہ اور سچی ہوتی تھی۔

پرویز مشرف کے دور میں نجی چینلز قائم ہوئے تو خبر کا ایک ذریعہ وہ بھی بن گئے تاہم جو اعتبار اور یقین عوام کو اخبارات کی خبروں پر تھا وہ یہ چینلز حاصل نہ کر سکے، لوگ اگلے دن اخبارات میں تفصیلی خبر کا انتظار کرتے وہاں انہیں خبر پورے سیاق و سباق اور سچائی کے ساتھ مل جاتی۔آگے بڑھتے بڑھتے سوشل میڈیا کا دور آ گیا۔سچائی کا جو قتل ِ عام اِس دور میں ہوا اور ہو رہا ہے اُس نے خبر کی اہمیت کو ہی کچل کر رکھ دیا ہے۔ہر شخص موبائل اٹھا کر صحافی بنا ہوا ہے اور جو چاہتا ہے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتا ہے، کسی حادثے یا سانحہ کی صورت میں مرنے والوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر لکھنا گویا اس میڈیا کا ایک دستور بن چکا ہے۔

اپنی پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ وائرل کرنے کے جنون میں بے پرکی اُڑانا معمولی بات ہے۔ بعض اوقات نجی چینلز بھی اس رو میں بہہ جاتے ہیں اور ایسی پوسٹوں کی بنیاد پر خبر جاری کر دیتے ہیں، مگر اس دورِ انتشار میں بھی اخبارات اطلاعات کا ایک ایسا ذریعہ ہیں جو حقیقت کی تہہ میں اُتر کر خبر شائع کرتا ہے۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اخبارات میں یکطرفہ رپورٹنگ نہیں ہوتی،دو فریق ہیں تو دونوں کا موقف خبر میں شامل ہوتا ہے۔اس کی وجہ اخبارات کا ایک مضبوط نظام ہے۔خبر کاغذ پر اترنے سے پہلے کئی مراحل سے گزرتی ہے اور ہر مرحلے میں اُس کی جانچ پھٹک کی جاتی ہے یہ صرف رپورٹر کا کام نہیں کہ وہ  خبر بنائے اور جاری کر دے، آگے نیوز روم ایک دیوار کی صورت موجود ہوتا۔چیف نیوز ایڈیٹر اور اُس کے نیچے نیوز ایڈیٹر، نیز سب ایڈیٹرز خبر کی صحت کے بارے میں ہر پہلو سے تسلی کرنے کے بعد آگے جانے دیتے ہیں۔ خبر کی صرف خبریت پر ہی نہیں بلکہ اُس کی زبان، لکھے گئے الفاظ اور بیان کی گئی معلومات کو بھی پوری ذمہ داری سے دیکھا جاتا ہے۔مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ خبر درست ہو،اُس کی تردید نہ آئے اور قاری تک مصدقہ اور حقیقی اطلاعات پہنچائی جائیں۔چند برسوں کے ہنگامہ خیز دور کے بعد اب لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ خبر کا حقیقی ذریعہ آج بھی اخبارات ہیں، کیونکہ اُن پر لفظ چھپے ہوتے ہیں جنہیں سو سال بعد تک بھی مٹایا نہیں جا سکتا جبکہ سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کی خبر ایک لمحے کیلئے آتی ہے پھر معدوم ہو جاتی ہے۔

اخبارات کی اہمیت صرف خبر کی حد تک نہیں ہوتی بلکہ ہر اخبار کا ادارتی صفحہ ایک ایسا رہنما ہوتا ہے جو درپیش حالات میں عوام کی رہنمائی کرتا ہے،ہر اخبار کا اداریہ وہ  پُرمغز مقالہ ہوتا ہے جو حالات کی حقیقی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ مسائل کا حل بھی پیش کرتا ہے۔اداریہ درحقیقت اُس اخبار کی پالیسی کا عکس ہوتا ہے۔اداریے کی زبان سلاست، زورِ بیان اور لسانی حوالے سے اعلیٰ معیار کی حامل ہوتی ہے۔ آج بھی اردو اور انگریزی کے ایسے اخبارات موجود ہیں جن کے اداریے پڑھ کر قارئین اپنی زبان درست کرتے یا سیکھتے ہیں۔اس ادارتی صفحہ پر معروف کالم نگاروں کے کالم اور تجزیاتی مضامین ہوتے ہیں۔یہ ایک ایسی اکیڈیمی کا کام دیتے ہیں جو گھر بیٹھے قاری کو حالات سے باخبر رکھتے ہیں وہ معاملات جو سمجھ نہ آ رہے ہوں یا حالات کا وہ زیرو بم جو ذہنی انتشار کا باعث بن رہا ہو ،ان تحریروں کو پڑھ کر سمجھ آنے لگتا ہے۔ پھر اردو زبان کی ترویج کے لئے بھی یہ کالم اہم کردار ادا کرتے ہیں۔فکاہی کالموں کی ایک اپنی ہی خوبصورتی ہوتی ہے،جو قارئین کے چہرے پر شگفتگی بکھیر دیتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جو اطلاعات کے کسی اور ذریعے سے نہیں مل سکتیں۔ہر صبح کا آغاز اخبار بینی سے کرنے والے جب اپنے کام پر نکلتے ہیں تو اُن کے پاس نہ صرف ملکی حالات،بلکہ اپنے شہر کی سرگرمیوں،واقعات اور اطلاعات کے بارے میں بھی مکمل معلومات ہوتی ہیں۔

یہ محض ایک پروپیگنڈا ہے کہ اخبارات کے قارئین کم ہو گئے ہیں ۔مجھے اکثر قارئین کے دور افتادہ علاقوں سے فون یا میسج آتے ہیں کہ انہوں نے فلاں موضوع پر کالم پڑھا اور مفید  معلومات حاصل ہوئیں۔یہ ضرور ہے کہ جب سوشل میڈیا کا یکدم ریلا آیا تو اخبارات کی سرکولیشن متاثر ہوئی مگر اب صورتحال بدل رہی ہے، میں خود نصف صدی سے بھی زائد ہو گئے اخبار کے لمس کا عادی ہوں۔اس کی ایک خاص خوشبو ہوتی ہے جو اپنا عادی بنا لیتی ہے۔ ایک زمانہ تھا میں صبح سویرے ملتان کی اخبار مارکیٹ میں پہنچ جاتا تھا۔اخبارات پرنٹنگ پریسوں سے چھپ کر آتے تو اُن کو چھونے کا اپنا ہی مزا ہوتا، پھر یہ موازنہ کرتا کہ کس اخبار نے کس خبر کے حوالے سے ہیڈ لائن جمائی۔ہاکر بھی بہت تیز ہوتے ہیں ، وہ صبح اخبارات کا پہلا صفحہ دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آج کون سا اخبار زیادہ بکے گا۔

یورپ اور امریکہ میں یہ بات غلط ثابت ہو چکی ہے کہ سوشل میڈیا یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس آنے سے اخبارات یا کتابوں کا زمانہ ختم ہو جائے گا۔ اخبارات آج بھی وہاں موثر اور مصدقہ اطلاعات کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اُن میں اشتہار چھپوانے کے لئے کئی ہفتے پہلے بکنگ کرانا پڑتی ہے، کیونکہ جگہ نہیں ہوتی۔حکومتیں آج بھی وہاں سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا سے گھبرانے کی بجائے اخبارات سے ڈرتی ہیں۔دنیا میں آج بھی اِس بات کو مانا جاتا ہے کہ اخبارات رائے عامہ پر اثر انداز ہو نے کا سب سے اہم اور طاقتور ذریعہ ہیں۔ان اخبارات کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ٹی وی چینلوں کے ٹاک شوز میں اخبارات کی خبروں اور کالموں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ نئی نسل کو سوشل میڈیا کی خرافات سے بچانے کے لئے گھروں میں اخبارات منگوائے جائیں اور انہیں مطالعہ کی طرف راغب کیا جائے۔

اخبار ایک ایسی طلسماتی حقیقت ہے کہ سامنے پڑا ہو تو انسان خوامخواہ بھی اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اخبارات کی دنیا فیک نہیں بلکہ حقیقی دنیا ہے، اِس سے جڑنے والے حقائق سے جڑے رہتے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)