گورنر راج یا ایمرجنسی: تحریک انصاف سے نمٹنے کے’ آئینی راستے‘

 ملک کے متعدد وزرا نے عندیہ دیاہے کہ خیبر پختون خوا میں وفاقی حکومت گورنر راج لگانے یا ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ یہ انتباہ تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان  کی رہائی کے لیے ایک بار پھر  اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ  کرنے اور حکومت کے خلاف دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔  اگرچہ گزشتہ ہفتے کے دوران کے پی کے وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سہیل آفریدی کا دعویٰ تھا  کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے ۔ متعدد تبصرہ نگار اسے پاکستان تحریک انصاف کی  دانشمندانہ  سیاسی حکمت عملی  قرار دے رہے تھے۔ ان عناصر کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو  لانگ مارچ سے بچانے کے لیے ’قلعہ‘ بنانے کا جو اہتمام کیا ہے، لانگ مارچ  کو تھوڑے تھوڑے وقفے سے مؤخر کرنے کی حکمت عملی سے   پی ٹی آئی کسی لانگ مارچ کے بغیر ہی حکومت  سے اپنے مطالبات  پورے کروا سکتی ہے۔ یہ خیال بھی سامنے لایا گیا ہے کہ حکومت آخر کب تک کثیر تعداد میں کنٹینر کرائے پر لینے اور  بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اسلام آباد جمع کرنے کے  مصارف برداشت کرسکتی ہے۔  تعطل کی حکمت عملی کے تحت تحریک انصاف حکومت کو اپنے مطالبات منوانے پر مجبور کرسکتی ہے۔

تاہم ان قیاس آرائیوں میں دو قباحتیں نوٹ کی جاسکتی ہیں۔ ایک تو موجودہ سیاسی حکومت اگر چاہے  تو بھی عمران خان یا تحریک انصاف کو سہولتیں دینے کے سوال پر خود کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے 2023 میں 9 مئی کا احتجاج کرکے براہ راست عسکری قوتوں کو چیلنج کیا تھا اور آج تک اس ناجائز   توڑ پھوڑ اور تخریب کاری پر پشیمانی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ بلکہ وقتاً فوقتاً  تو یہ مؤقف  دہرایا جاتا ہے کہ  پی ٹی آئی نے تو ایسا کوئی احتجاج یامظاہرہ کیا ہی نہیں تھا۔ یہ کام تو خود عسکری اداروں نے کروا کر اس کا الزام  پاکستان تحریک انصاف پر عائد کیاہے تاکہ اس مقبول پارٹی کی  سیاسی طاقت ختم کی جاسکے۔ لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔  تحریک انصاف کا یہ بیانیہ  گو کہ فوج کو دفاعی پوزیشن میں لانے  کے لیے گھڑا جاتا ہے لیکن  پارٹی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کی گھن گرج درحقیقت کسی عسکری زور آزمائی کی طرح ہوتی ہے تاکہ کسی بھی طرح ملک کے طاقت ور اداروں کو پی ٹی  آئی کی طاقت تسلیم کرکے اس کے ساتھ معاملات طے کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔  البتہ یہ مقصد ابھی تک پورا نہیں ہؤا۔

اس حوالے سے دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ  پاکستان تحریک انصاف  اس وقت   کسی ایک لیڈر کی  نگرانی میں کام نہیں کررہی۔ کہنے کو  بیرسٹر گوہر پارٹی چئیرمین ہیں لیکن وہ کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ قبل ازیں جیل سے عمران خان کے وصول ہونے والے احکامات کی روشنی میں فیصلے کیے جاتے تھے لیکن اب یہ مواصلت بند ہے۔ حکومت ملاقاتوں  کا راستہ ہموار کرنے اور عمران خان کو طبی سہولتیں  دینے کے لیے چند وعدے منوانا چاہتی ہے تاکہ  جیل سے پیغامات کی بنیاد پر ملک میں سیاسی بے چینی پیدا کرنے کا کام نہ  لیا جاسکے۔ البتہ پی ٹی آئی ایسے کسی مطالبے پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پارٹی کے بیشتر لیڈر یا  تو خود ہی ایک طرف ہوگئے ہیں یا انہیں پارٹی میں انتہا پسند  یوٹیوبرز اور  سہیل آفریدی جیسے سخت گیر لیڈروں نے سائیڈ لائن کردیا ہے۔ ان حالات میں یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ  سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کسی سوچی سمجھی پارٹی حکمت عملی کے تحت کیا ہے یا پارٹی ایسی کسی حکمت عملی پر عمل پیرا رہ سکے گی۔

حکومتی حلقوں کا خیال  ہے کہ اس التوا کی بنیادی وجہ  یہ ہے کہ  سہیل آفریدی نے سندھ اور پنجاب جاکر کارکنوں کو موبلائز کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے بعد صرف خیبر پختون خوا رہ جاتا ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر  فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی غیر قانونی جلوس اسلام آباد نہیں آسکتا ۔ اور تحریک انصاف  سیاسی جلوس نکالنے کے لیے صوبائی مشینری یا سرکاری ملازمین کو استعمال  نہیں کرسکتی۔ یہ حکم درحقیقت خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ کی طرف سے  عظیم الشان لانگ مارچ کے خواب کو منتشر کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہؤا ہے۔  عدالت نے خیبر پختون خوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس  سے  یہ بیان حلفی  لیے ہیں کہ صوبے سے کوئی غیر قانونی جلوس اسلام آباد پر دھاوا نہیں بولے گا اور  یہ دونوں افسر یقینی بنائیں گے کہ تحریک انصاف اس احتجاج میں سرکاری وسائل  استعمال نہ کرے۔ اسی  حکم پر بیان حلفی دینے کی وجہ سے سہیل آفریدی نئی قانون سازی کے ذریعے پولیس کے اختیارات کم کرکے اسے براہ راست اپنے  کنٹرول  میں لانا چاہتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس لانگ مارچ کے سلسلہ میں غیرحقیقی طور سے  بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے۔ یہ تک کہا گیا کہ  چالیس لاکھ لوگ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے حالانکہ پارٹی شاید چالیس ہزار لوگ بھی جمع نہیں کرسکے  گی۔ اسی لیے وفاقی حکومت کو اندیشہ ہے کہ پارٹی توجہ حاصل کرنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرے گی تاکہ اس کے دعوؤں پر بات نہ ہوسکے۔ یا یہ سمجھا جارہا ہے کہ تحریک انصاف  لانگ مارچ کے لیے لوگ جمع کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو سہیل آفریدی کی طرف سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کے اعلان کے فوری بعد وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’تحریک انصاف احتجاج سے بھاگ گئی ہے۔ اس میں اسلام آباد کی طرف  آنے کی ہمت ہی نہیں ہے‘۔ وجہ کوئی بھی ہو، وفاقی حکومت نے اسی روز سے خیبر پختون خوا  کی حکومت کے خلاف تادیبی اقدامات کے اشارے دینے شروع کردئے  تھے۔  عطااللہ تارڑ نے جمعہ کے روز ہی اس بارے میں واضح  کردیاتھا کہ  وفاقی حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ انہوں نے  تحریک انصاف اور سہیل آفریدی پر دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں مؤثر حصہ نہ لینے کا الزام لگاتے ہوئے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کوصوبائی حکومت کے  سربراہ کی بجائے ٹی ٹی پی کے کسی لیڈر کے مماثل قرار دیاتھا۔

اس دوران سہیل آفریدی مسلسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس بارے میں صوبائی حکومت کے مشوروں پر عمل کیاجائے تو ایک سو دن میں دہشت گردی  ختم ہوجائے گی۔ تاہم اس  تجویز میں دہشت گرد عناصر کے خلاف اقدامات کی بجائے ،ان  سے مذاکرات اور سہولت کاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔   ماضی قریب  میں چونکہ ایسی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں ، اس لیے اسٹبلشمنٹ اور وفاقی حکومت   دہشت گرد گروہوں سے بات چیت کا آپشن مسترد  کرتی ہیں۔ اس دوران    خیبر پختون خوا میں  مسلسل دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے سکیورٹی فورسز کے ارکان  کی شہادت کی خبریں  آرہی ہیں ۔ ایسے میں صوبائی اور وفاقی حکومت یا اسٹبلشمنٹ کے درمیان اختلاف  سے صورت حال پیچیدہ اور مشکل  ہورہی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران   وزیر   قانون نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات  عطااللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری سمیت متعدد حکومتی ارکان نے دہشت گردی کے حوالے سے  صوبائی حکومت کے کردار پر انگشت نمائی کی ہے  اور آئین کے تحت ایمرجنسی   یا گورنر راج نافذ کرکے حالات پر قابو پانے کے اشارے دیے ہیں۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے  تو ایک انٹرویو میں یہ بھی کہاہے کہ ’ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا تقاضا ہوتو لگنی چاہیے اور لگے گی بھی‘۔

اگر صوبائی حکومت آئین کے تحت فرائض ادا کرنے میں ناکام ہورہی ہو  توصدر مملکت   آئین کی شق234 کے  تحت   کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کرسکتے ہیں ۔ اور اگر کسی صوبے یاملک میں ’جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی   ہوجس سے ملک یا کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ ہو‘ تو صدر مملکت  آئین کی شق 232 کے تحت ایمرجنسی بھی عائد کرسکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں وفاقی حکومت حالات کو اپنے زاویے  سے بیان کرتے ہوئے کسی بھی اقدام کو جائز قرار دے سکتی ہے اور پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کی بنیاد پر  ایسے فیصلے کی منظوری لینا بھی مشکل نہیں ہوگا۔ تاہم  ایسا کوئی اقدام اس سوال کا جواب نہیں دے پائے گا کہ سیاسی بے چینی  کو آئینی اقدامات کے تحت کیسے دور کیاجاسکے گا۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ختم ہوئی تو  وہ اسے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے استعمال کرے گی اور  اس کی سیاسی طاقت یا اپیل میں اضافہ ہوگا۔

حکومت نے اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی فیصلہ تو نہیں کیا ہے لیکن اب   یہ فیصلہ زیادہ دور بھی نہیں لگتا۔ اس دوران  یہ قیاس آرائیاں بھی سننے میں آرہی ہے کہ  اس اقدام کو صرف تحریک انصاف  کے خلاف کارروائی  کہنے کی بجائے  دہشت گردی اور افراتفری کی بنیاد پر پورے ملک میں ایمرجنسی لگا دی جائے۔  اس طرح پی ٹی  آئی یہ نہیں کہہ سکے گی کہ یہ اقدام اس کے خلاف ہؤا ہے۔ اسٹبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے کچھ وزرا پہلے ہی نظام کی ناکامی کا اعلان کرکے اس مقصد کے لیے  زمین  ہموار کرچکے ہیں۔ خیال ہے کہ اگر ملک میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ ہوتا ہے تو  صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل اور نئے صوبوں جیسے  متنازعہ امور پر بھی فیصلے مسلط کیے جاسکیں گے۔ ایسے میں حکومت اگر صرف خیبر پختون خوا میں تبدیلی  کی خواہاں ہوئی تو اس کے پاس ایک آپشن آئینی عدالت سے حکم کا اجرا بھی ہے۔ جہاں سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کے استعفے کو ناقص قرار دے کر مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اگر آئینی عدالت اس درخواست کو مان لیتی ہے تو سہیل آفریدی کا انتخاب ازخود کالعدم ہوجائے گا اور علی امین گنڈا پور ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔

وفاقی حکومت جو بھی فیصلہ کرے لیکن عوام میں اس کی مقبولیت نہ ہونے کی وجہ سے ہر فیصلہ پر شکوک و شبہات سامنے  آئیں  گے اور ملکی سیاست  میں جاری بھونچال میں اضافہ ہوگا۔    موجودہ حکومت پر ایک طرف دھاندلی سے اقتدار میں آنے کا الزام ہے  تو دوسری طرف آزادی اظہار کے خلاف اس کی کارروائیوں اور مشکل  معاشی حالات کی وجہ سے بھی اس کی مقبولیت  میں شدید کمی ہوئی ہے۔ ایسی حکومت  اگر  کسی اقدام کو آئینی و قانونی کہے گی تو  بھی اسے عوام دشمنی ہی سمجھا جائے گا۔