چھوٹی موٹی رقم مارنا دیوثوں کا کام ہے

مزے سے اچھی بھلی کافی پی رہے تھے، اچانک کھوکھر نے مجھ سے پوچھا: یہ اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: فی الحال تو کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ کھوکھر کہنے لگا: میرا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور تمہارا کیا خیال ہے اب آگے کیا ہو گا؟

 میں نے کہا: غیب کی باتیں تو اللہ ہی جانتا ہے،اس لکھاری کے پاس تو کوئی چڑیا ہے اور نہ ہی کوئی طوطا۔ اسلام آباد کو چھوڑو میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔اللہ جانے اس واقعے کا اس صورتحال سے کوئی تعلق ہے یا نہیں لیکن بس ایسے ہی یاد آ گیا ہے۔  اب یاد آ گیا تو میں نے سوچا آپ کو سنا دوں۔
ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت تھی۔ مغرب میں لوگ ہماری طرح بہت زیادہ پھیلاؤ میں نہیں جاتے بلکہ اونچائی کی طرف تعمیرات کرتے ہیں تاکہ زمین کا بہتر اور کم سے کم استعمال کیا جا سکے، بہ نسبت اس کے کہ پھیلاؤ میں مکان بنائے جائیں اور زمین کا ضیاع کیا جائے۔

اس عمارت کی دوسری منزل پر ایک شخص رہتا تھا۔ وہ شخص رات گئے دیر سے آتا تھا۔ اس کی ایک بُری عادت تھی کہ وہ رات واپس آ کر اپنے جوتے اس طرح اتارتا کہ ایک جوتا اتارتا اور اسے دھاڑ سے زمین پر دے مارتا، پھر دوسرا جوتا اتارتا اور اسی طرح زور سے زمین پر دے مارتا۔ اس کے بعد کپڑے بدلتا اور سو جاتا۔ کچھ عرصہ بعد اس کی نچلی منزل پر عین اس کے گھر کے نیچے رہنے والے پڑوسی نے اس سے کہا کہ اگر میں آپ کو ایک بات کہوں تو آپ برا تو نہیں منائیں گے؟ اس نے کہا: نہیں نہیں، بھلا اس بُرا منانے کی کیا بات ہے۔کہیے جو کہنا ہے۔ نچلی منزل والے پڑوسی نے کہا: آپ رات گئے دیر سے آتے ہیں اور آپ کا کام اس طرح ہے کہ آپ صبح دیر سے اٹھتے ہیں جبکہ مجھے صبح جلدی کام پر جانا ہوتا ہے۔ آپ آدھی رات کو آتے ہیں،آ کر جوتے اتار کے زور زور سے فرش پر مارتے ہیں۔ اس سے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ مجھے نیند کے سلسلے میں مسئلہ ہے کہ دوبارہ نیند آنے میں گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے، اگر برا نہ منائیں تو یہ جوتے آرام سے اتار کر رکھ دیا کریں۔ وہ شخص کافی شرمندہ ہوا اور اس نے اپنی گزشتہ کوتاہی پر معذرت کی اور کہنے لگا: مجھے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ واقعی یہ لکڑی کی چھتوں والے گھر ہیں اور میں جب اس کے فرش پر زور سے جوتا مارتا ہوں تو نیچے واقعتاً بہت زیادہ آواز آتی ہو گی۔ آپ میری پچھلی تمام زیادتیوں کی معافی دیجیے، میں اب آئندہ سے محتاط رہوں گا اور آپ کو شکایت نہیں ہو گی۔

وہ رات کو آیا اور اس نے حسبِ عادت جوتا اتارا اور زور سے زمین پر دے مارا۔ پہلا جوتا مارتے ہی اسے خیال آیا کہ میں نے تو آج صبح ہی اپنے نیچے والے پڑوسی سے وعدہ کیا تھا کہ میں آئندہ محتاط رہوں گا اور یہ حرکت دوبارہ نہیں کروں گا۔ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتے ہوئے اس نے آرام سے دوسرا جوتا اتارا اور بڑی احتیاط سے ایک طرف رکھ دیا۔ اگلی صبح اپنی رات کی غلطی پر معذرت کرنے کیلئے اس نے صبح صبح نیچے جاکر پڑوسی کی گھنٹی بجائی۔ وہ باہر آیا تو اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ اس نے نیچے والے پڑوسی کو کہا: معاف کیجیے جناب! اپنی بُری عادت کے ہاتھوں مجبور میں گزشتہ رات ایک جوتا اسی طرح غلطی سے مار بیٹھا تھا تاہم مجھے اپنی غلطی کا فوراً ہی احساس ہو گیا تو میں نے اپنا دوسرا جوتا احتیاط سے اتار کے رکھ دیا۔ اس کے پڑوسی نے تھکی ہوئی آواز میں کہا: جناب! اگر آپ دوسرا جوتا بھی ساتھ ہی مار دیتے تو میں اس کے بعد سو تو جاتا۔ میں تو اس انتظار میں صبح تک جاگتا رہا کہ آپ دوسرا جوتا مار لیں اور میں اس کے بعد آرام سے سو سکوں۔ یہ قصہ سنا کر میں نے کہا: کھوکھر صاحب! میرا خیال ہے آپ کو پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے بعد اسلام آباد کی صورتحال سمجھ میں آ گئی ہو گی۔ کھوکھر نے زور سے قہقہہ لگایا اور میز پر زور سے ہاتھ مار کر کہنے لگا: اس صورتحال کی اس سے زیادہ اچھی منظر کشی ہو ہی نہیں سکتی۔

گزشتہ رات کامران نے پوچھا کہ اسلام آباد میں لگے کنٹینروں کا یومیہ بیس ہزار روپے فی کنٹینر کے حساب سے کتنا کرایہ بنا ہوگا؟ میں نے کہا: تم نے مرشدی مشتاق یوسفی کی کتاب آبِ گم میں خان صاحب کی شادی کا واقعہ تو پڑھا ہی ہوگا۔ خان صاحب کے نکاح کے وقت حق مہر کا جھگڑا شروع ہوا، لڑکی والوں کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ تھا جبکہ دلہا والے مبلغ بتیس روپے حق مہر پر بضد تھے۔ راڑ رولا زیادہ بڑھا تو خان صاحب کو خدشہ پیدا ہوا کہ ان کا نکاح کھنڈت میں پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سہرا ہٹا کر بآواز بلند کہا: میں تو پانچ لاکھ کا مہر باندھوں گا۔ ماموں کے شور مچانے پر خان صاحب نے کہا  ’اگر مجھے نادہندہ ہی ہونا ہے تو بڑی رقم ماروں گا، چھوٹی رقم مارنا رزیلوں اور دیوثوں کا کام ہے‘۔ برادرم! فکر ان کو ہوتی ہے جنہوں نے پیسے دینے ہوتے ہیں۔ یہ موٹی رقم بنتی ہے کوئی چھوٹی موٹی نہیں کہ اسے مار کر حکومت اپنا شمار رزیلوں اور دیوثوں میں کروائے۔

وزیر خزانہ نے فرمایا ہے کہ ایک روز کی کاروباری بندش سے ملک کا ایک سو بیس ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اتنی بڑی رقم کا سن کر ایک اور واقعہ یاد آ گیا۔ ایک شخص ایک ہوٹل میں بیٹھا شربت پی رہا تھا،  اس کے سامنے نہایت اعلیٰ اور مہنگے قسم کے شربت کی بوتل رکھی تھی۔ سامنے والی میز پر بیٹھا ہوا ایک رضاکار قسم کا خدائی خدمتگار اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: جناب! اگر آپ کے چند منٹ لے لوں تو آپ برا تو نہیں منائیں گے؟ اس شخص نے نہایت خوش اخلاقی سے مسکراتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہنے لگا: اس میں برا منانے کی کیا بات ہے، تشریف رکھیں۔ پھر شائستگی سے پوچھا کہ کیا وہ اس کیلئے شربت منگوائے؟ اس شخص نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے منع کیا اور کہنے لگا کہ میں شربت پینے والوں پر اس کی وجہ سے پڑنے والے معاشی اثرات پر تحقیق کر رہا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ سے ایک دو سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے شربت کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا کہ پوچھیے۔ سوال کیا کہ آپ کتنے عرصے سے شربت پی رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ گزشتہ تقریباً چالیس سال سے۔ پھر پوچھا کہ آپ کون سا شربت پسند کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ فلاں کمپنی کا شربت پیتا ہے۔ اگلا سوال پوچھا کہ روزانہ کتنے گلاس شربت پیتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ میں روزانہ تین چار گلاس پیتا ہوں۔

سوال کیا شربت کی ایک بوتل کی کیا قیمت ہے؟ جواب ملا کہ اس کی قیمت تقریباً اسّی ڈالر ہے۔ سوال کرنے والے نے اپنے فون پر کیلکولیٹر سے حساب کر کے بتایا کہ وہ گزشتہ چالیس سال کے دوران گیارہ لاکھ 68 ہزار ڈالر کا شربت پی چکا ہے۔ پھر اسے سمجھانے کے انداز میں کہنے لگا: سر! اگر آپ یہ سارے پیسے بچا لیتے تو اس رقم سے وہ سامنے والی بلڈنگ خرید سکتے تھے۔ یہ بات سن کر اس شخص نے مسکرا کر شربت کا ایک بڑا سا گھونٹ بھرا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ بھی اس سے ایک دو سوال پوچھ سکتا ہے۔ اجازت پاکر اس نے سوال کیا کہ کیا وہ شربت پیتا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ نہیں ۔ اگلا سوال پوچھا: آپ نے شربت نہ پی کر جو بچت کی ہے کیا اس سے آپ نے سامنے والی بلڈنگ جیسی کوئی عمارت خریدی ہے؟ جواب میں انکار سن کر اس پہلے شخص نے دوبارہ شربت کی ایک چسکی لی، پھر تھوڑا آگے جھکا اور آہستہ سے بولا: لیکن! وہ سامنے والی بلڈنگ میری ہی ہے۔
میرا سوال صرف اتنا ہے،  اگر ہڑتالیں نہ کرنے کے کارن ہمیں روزانہ واقعی ایک سو بیس ارب روپے بچ رہے ہیں تو پھر ہماری بلڈنگ کہاں ہے؟

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)