اچھے معاشرے کے جھوٹے خواب
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 29 / ستمبر / 2026
ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دوسرے کو حقیر سمجھنے والا اس بات پر بضد رہتا ہے کہ اسے عظیم سمجھا جائے جسے تھوڑی بہت شہرت مل جاتی ہے، وہ خود کو ارسطو سمجھنے لگتا ہے اور اپنے اردگرد رہنے والوں پر اپنی علمیت کو تسلیم کرانے کے لئے ہتھوڑے برساتا ہے۔
ہم وہ معاشرہ بھی ہیں جہاں اس دور میں کہ جب انفرمیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسان کے جینز تک دریافت ہو جاتے ہیں کسی ادارے کی طرف سے جاری کردہ ڈگری کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ دس دس بیس بیس سال تک کوئی جعلی ڈگری کے ذریعے نوکری بھی کرتا رہتا ہے اور عہدے بھی حاصل کرتا اور بانٹتا ہے جو شک وہ اپنی ڈگری دکھا کر ایک منٹ میں دور کر سکتا ہے، اسے مٹانے کی بجائے دھمکیوں اور دشنام طرازی کا راستہ اختیار کرتا ہے جس معاشرے میں اپنے مفاد کا سچ بولا جائے اس معاشرے میں جھوٹ کی فصل اگتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر یہی جھوٹ کی فصل بو رہے ہیں اور اسے سچ کا نام دیتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والے کو حواری اور ہمنوا بھی مل جاتے ہیں جو ٹھوک ٹھوک کے یہ بیان دیتے ہیں کہ ہاں سچ وہی ہے جو اس جھوٹ بولنے والے نے کہا ہے۔ تضادات جب اتنے بڑھ جائیں کہ سامنے کی باتیں بھی اپنا حقیقی چہرہ کھونے لگیں تو معاشرے پھلتے پھولتے نہیں بلکہ بنجر ہونے لگتے ہیں۔ حیرت اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب جھوٹ کو جھوٹ اور برائی کو برائی کہنے والے بھی ناپید ہو جائیں۔ معاشرتی اقدار کسی بھی معاشرے کا حسن ہوتی ہیں معاف کیجئے بات تلخ ہے،مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم اپنی درخشاں اقدار کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کی جو نسل اپنی اعلیٰ اقدار کو سینے سے لگا کر زندگی گزار گئی ہے، وہ آج کا عالم دیکھے تو شاید اس کا دم گھٹ جائے۔ محبت، اپنائیت دوسروں کی خوشی میں شرکت، منافقت سے پاک رویے اور جھوٹ سے نفرت، ان کی اقدار کا حصہ تھے، آج یہ سب بیماریاں ہم پر حملہ آور ہو چکی ہیں کسی کو خوشی ملے تو ہم کڑھنے لگتے ہیں کسی کے حصے میں اعزاز آ جائے تو ہمارے اندر حسد کے جھکڑ چلنے لگتے ہیں، ہمارا بس نہیں چلتا کہ اس کا اعزاز چھین کر اسے رسوا کر دیں۔
یہ کیا رویے ہیں اور یہ کیا زندگی ہے۔ یہ سب کیسے ہوا ہے اور یہ زوال کیسے آیا ہے۔ ایک شاندار اور ایماندار معاشرہ اندر سے اتنا کھوکھلا کیوں ہو رہا ہے۔ اچھی مثالیں کم ہوگئی ہیں یا ہم نے اچھی مثالوں کی طرف دیکھنا بند کر دیا ہے۔جب ایک عالم باعمل ہونے کی بجائے وہ کہے جو اس کے عمل سے لگا نہیں کھاتا تو اس کا اثر کیسے ہوگا۔ کروڑوں روپے کی گاڑی سے اتر کریہ درس دینے والا کہ دنیا کی حرص کو دل سے نکال دو، درحقیقت اس منافقت اور تضاد کو بے نقاب کر رہا ہوتا ہے جو اس کے قول و فعل میں موجود ہے۔ جب حکمران یہ کہتے ہیں ملک بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، عوام کو قربانی دینی چاہیے اور خود اپنے عیش و عشرت پر آنچ نہیں آنے دیتے تو اس کا اثر الٹا ہوتا ہے لوگ نظام پر تین حرف بھیجنے میں دیر نہیں کرتے۔
جس معاشرے میں کرپشن کے ہمالیہ کھڑے ہوں اور بات کروڑوں سے نکل کر اربوں تک چلی گئی ہو، اس معاشرے میں جب اینٹی کرپشن والے دوچار ہزار رشوت لینے پر کسی سرکاری اہلکار کو گرفتار کرتے ہیں تو اس وقت بھی اس نظام کی سفاکی اور اندر کا تضاد آشکار ہو جاتا ہے ۔جس ریاستِ مدینہ کی ہماری اشرافیہ نظریہ ضرورت کے تحت بات کرتی ہے، اس میں یہ تفاوت موجود نہیں تھا۔ اس میں جو جتنے بڑے منصب پر ہوتا اتنی ہی بڑی مثال بنتا، کوئی استثنا لیتا اور نہ ہی اسے کوئی استثنا مل سکتا تھا۔ یہ چونچلے، یہ راستے نکالنے والے ریاستِ مدینہ کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔ جہاں غریبوں کو ریلیف دینے کے لئے خالی خزانے کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہو اور اپنے لئے مہنگے جہاز، لگژری گاڑیاں، پروٹوکول کے بے تحاشہ اخراجات، افسروں کے لئے مہنگی رہائش گاہوں کی تعمیر، تنخواہوں اور مراعات میں کئی سو گنا اضافہ کرنے کے فیصلے، معمول بن جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرے کو ان لوگوں نے ہی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جنہیں اعلیٰ اقدار کی مثال بننا چاہیے تھا۔
میں کل ایک کریانے کی دکان پر گیا۔ سودا سلف لینا تھا، میں نے ایک دو اشیا کی قیمتیں پوچھیں تو کریانہ فروش نے جو بتائیں وہ کچھ زیادہ تھیں۔ میں نے اعتراض کیا تو وہ آگے سے گرم ہو گیا۔ اس نے کہا شکل سے تو آپ پڑھے لکھے لگتے ہیں کیا آپ کو معلو م نہیں بڑے بڑے سیٹھ، بروکرز، آڑھتی اور ذخیرہ اندوز کیا کررہے ہیں۔ ہم پر آپ لوگ چڑھائی کر دیتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ غریب آدمی ہے، آگے سے بولے گا تو سبق سکھا دیں گے۔ ذرا انہیں جا کر سبق سکھائیں جو مہنگائی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ ان کی طرف سرکاری افسر رخ کرتے ہیں اور نہ آپ جیسے لوگ جاتے ہیں۔ آپ کو کیا پتہ یہ منڈی والے کس طرح روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ گاہکوں کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے اور وہ ہمیں ہی ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ پھر یہ پیرا والے، یہ مجسٹریٹ، یہ پولیس سب ہم جیسے چھوٹے دکانداروں پر ہی چڑھائی کرتے ہیں۔ کیا اس طرح برائی دورہو سکتی ہے، جب طاقتوروں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے اور کمزوروں کو نشانے پر رکھ کر فیصلے کئے جائیں۔
کہتا تو وہ بھی سچ تھا، اس لئے میں شرمسار ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ ڈپٹی کمشنر صاحبان روزانہ ریسٹ لسٹ جاری کرکے بری الزمہ ہو جاتے ہیں، منڈی جاتے ہوئے ان کے پر جلتے ہیں کیونکہ وہاں جو تگڑے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں معاشرے کے طاقتور حلقوں کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے۔ پھر ان میں اتنا دم ختم بھی ہوتا ہے کہ ڈی سی کے خلاف ہڑتال کر دیں، شہر میں دو دن سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی بند ہو جائے تو ڈپٹی کمشنرکا عہدہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس لئے وہ چھوٹے موٹے دکانداروں تک اپنی کارروائیاں محدود رکھتا ہے۔ تضادات کی کوئی ایک صورت ہو تو بندہ اس کا ذکر بھی کرے۔جہاں تضاد ایک رویہ بن جائے، ایک حقیقت اختیار کرلے، وہاں اس کا ڈنک بہت زہریلا ہو جاتا ہے۔ شخصی تضاد سے لے کر معاشرتی تضاد تک ایک لمبی فہرست ہے،جس کا ہم شکار ہو چکے ہیں۔
ہم نے اپنے جھوٹ کو سچ بنانا اور دوسروں کے سچ کو بھی جھوٹ قرار دینا ہے۔ خود بے ایمانی کرنی ہے، دوسروں کو ایمانداری کا سبق دینا ہے۔ ان حالات میں اگر ہم اچھے معاشرے، اچھے نظام اور اچھی زندگی کے خواب دیکھتے ہیں تو یہ بھی ایک بہت بڑا دھوکہ ہے جو ہم خود کو دیئے جا رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)