تحریک انصاف کا 13 سالہ اقتدار: خیبرپختونخوا کو کیا ملا؟

این ایف سی ایوارڈ کی مد میں 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق کی جانب سے 6572 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔ ان 15 سالوں میں سے 13 سال تحریک انصاف کا دور اقتدار ہے۔ کیا تحریک انصاف سے پوچھا جا سکتا ہے یہ رقم کہاں گئی؟

13 سال معمولی عرصہ نہیں ہوتا کہ اسے پوسٹ ٹروتھ کی روایتی فنکاری سے چھپا لیا جائے۔ یہ ایک مکمل نامہ اعمال ہے اور ایک فرد جرم ہے، تحریک انصاف کو اس کا جواب دینا ہو گا۔ چونکہ یہ پڑھے لکھے بھی بہت ہیں اور انہیں مطالعے کی عادت بھی بہت ہے، اس لیے تعلیم سے ہی آغاز کر لیتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے اعدادو شمار نہیں لیتے کہ تحریک انصاف کہے گی یہ تو ہمارے سیاسی حریف ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی بات کر لیتے ہیں جس کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 45 لاکھ ایسے بچے اسکول نہیں جا رہے جن کی عمریں 10 سے 15 سال ہیں۔ کیا ’عشق عمران‘ کے قتیل جناب سہیل آفریدی سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ان بچوں کے حوالے سے ان کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ انہیں بھی بڑا ہو کر کسی اندھے لانگ مارچ کا ایندھن بنانا ہے یا ان کے بہتر مستقبل کے حوالے سے کوئی پلان زیر غور ہے؟

اقوام متحدہ کو بھی چھوڑ دیجیے، کیا عجب قافلہ انقلاب اس عالمی ادارے کو بھی پٹوار خانہ قرار دے ڈالے۔ خود خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم کی پچھلے سال کی رپورٹ دیکھ لیجیے۔ اس کے مطابق صوبے بھر میں پشاور اور ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت مجموعی طور پر 591 سرکاری اسکول غیر فعال ہیں، جن میں سے 74 فیصد اسکول لڑکیوں کے ہیں۔ 40 اسکول ایسے ہیں جن میں کوئی طالب علم نہیں، 13 اسکول ایسے ہیں جہاں نہ کوئی طالب علم ہے نہ کوئی استاد۔ کچھ اسکول لینڈ مافیا کھا چکا ہے اور کچھ با اثر افراد کے قبضے میں ہیں۔ کالے چشمے لگا کر دوسرے صوبوں کی سڑکوں پر جلوہ نمائی فرمانے والے وزیر اعلی سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس ایک سال میں کیا کوئی بہتری آئی ہے اور اس کی تعلیمی پالیسی کیا ہے۔

ایم ڈی کیٹ کا امتحان ہمارے مروجہ نظام امتحان کا معتبر ترین جزو ہے۔ خیبرپختونخوا میں اسے بھی تماشا بنا دیا گیا۔ 2023 میں منظم طریقے سے ڈیوائسز کے ذریعے نقل ہوئی۔ ایک یا دو نہیں 200 سے زیادہ امیدوار نقل کرتے پکڑے گئے۔ جو نہیں پکڑے گئے، ان کی تعداد جانے کتنی ہو۔ کے پی میں ایم ڈی کیٹ سے جڑے سینہ گزٹ کی ہلاکت خیزیوں کو تو رہنے ہی دیجیے، 2024 میں تو معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تک جا پہنچا۔ مجال ہے کہ کسی کو اس پر ذرا سی بھی ندامت ہوئی ہو۔ صحت کارڈ کے ایسے رجز پڑھے گئے جیسے میڈیکل کے شعبے میں کوئی ورلڈ کپ جیت لیا ہو لیکن آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پڑھیں تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ مزید کمال یہ تھا کہ آڈٹ دعوے تو بہت تھے مگر ان کی تصدیق کے لیے تھرڈ پارٹی تصدیق کا نظام ہی موجود نہ تھا۔

بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ پشاور، سوات اور مالاکنڈ میں قریب 70 لاکھ خاندانوں کے لیے 69 اسپتال پینل پر تھے اور کرم، شمالی وزیرستان، تورغر اور اورکزئی جیسے علاقوں میں 8 لاکھ خاندانوں کے لیے ایک اسپتال بھی پینل پر موجود نہ تھا۔ 69 فیصد مریض نجی اسپتالوں میں گئے۔ وہاں کیا علاج ہوا اور کاغذوں میں کیا لکھا گیا اس کی شفافیت کا کوئی انتظام ہی نہیں۔ ایسے اسپتالوں کو بھی ادائیگیاں ہوگئیں جو پینل پر موجود ہی نہ تھے۔ پڑھیے اور سر پیٹ لیجیے کہ صحت کارڈ وغیرہ کے منصوبوں میں صرف تین سالوں میں 28 ارب سے زیادہ کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ سوات کے دو نجی اسپتالوں کو ایک ایک ارب سے زیادہ کی ادائیگی کی گئی۔ میڈیکل ٹیچنگ اداروں کا کوئی بیرونی آڈٹ نہیں ہونے دیا جا رہا۔

دوسرے صوبوں اور بالخصوص پنجاب کو انہوں نے ہر وقت ہدف ملامت بنایا ہوتا ہے لیکن یہ بتائیں گے کس شعبے میں ان کی کارکردگی پنجاب سے بہتر ہے؟ خیبرپختونخوا کے سات ڈویژنز میں ہونے والے گیلپ سروے کے مطابق 74 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ پینے کے صاف پانی اور تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں۔ 37 فیصد افراد صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ 66 فیصد لوگوں نے کہا ان کے گھروں میں گیس نہیں۔ 49 فیصد ایسے تھے جن کے پاس بجلی کا انتطام یا تو ناقص تھا یا سرے سے بجلی ہی نہیں تھی۔ سروے کے مطابق 60 لوگوں نے کہاکہ حکومت احتجاج اور دھرنوں میں وقت ضائع کررہی ہے اور گڈ گورننس پر توجہ نہیں دے رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹرز میں بھی 48 فیصد نے اسی رائے کا اظہار کیا۔ تحریک انصاف کے حامیوں میں سے 49 فیصد لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔

تحریک انصاف نے ایک حکمت عملی کے تحت اپنی کارکردگی کو موضوع بحث نہیں بننے دیا۔ اس نے اپنے کارکنان میں پالیسی کے تحت اشتعال، نفرت اور زہر بھرا تاکہ وہ صرف دوسروں کی خامیوں پر لعن طعن کرتے رہیں اور پی ٹی آئی کے ناقدین کو گالیاں دیتے رہیں۔ اپنی حکومت سے کارکردگی کا سوال نہ پوچھیں۔ یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ چنانچہ تحریک انصاف کی کارکردگی کہیں زیر بحث نہیں، یہ سوا ستیاناس کرکے بھی معتبر ہیں۔

یہ صرف دوسروں کی خامیوں پر زندہ ہیں۔ یہ 13 سال کے اقتدار کے بعد بھی کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ یہ 6 ہزار ارب کا حساب نہ دے کر بھی نیک، پاک اور اللہ کے ولی ہیں اور ان کے سوا باقی سب چور اچکے اور خائن ہیں۔

(بشکریہ: وی نیوز)