اب میں بدنام کراچی ہوں
- تحریر امر جلیل
- منگل 29 / ستمبر / 2026
آج میں آپ کو جھوٹ پر منحصر قصہ سناؤں گا، میں نہیں جانتا یہ حقیقت میں نے واضح کیوں کردی ہے۔ آج تک میں نے جتنی بھی کہانیاں آپ کو سنائی ہیں وہ جھوٹ پر مبنی تھیں اور جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ سچ لکھنے اور سچ بولنے سے میرا دور، دور کا واسطہ نہیں ہے۔ میں سچ نہ لکھ سکتا ہوں اور نہ سچ بول سکتا ہوں۔
پرانی بات ہے، ایک مرتبہ ایک دانشور کی ہدایتیں سن کر میں بہت متاثر ہوا تھا۔ میں نے سچ لکھنے اور سچ بولنے کی ٹھان لی تھی مگر لوگ میرے منہ سے سچ سننے کے عادی نہ تھے۔ لوگ بیمار پڑنے لگے، سچ بتاؤں، مجھے بھی سچ بولنا اچھا نہیں لگا تھا۔ میں خود بیمار پڑ گیا تھا، گھبراکر میں نے سچ لکھنے اور سچ بولنے سے کنارہ کشی کرلی تھی۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے پھر کبھی سچ لکھنے اور سچ بولنے کی کوشش نہیں کی۔ لوگ چنگے بھلے ہونے لگے، عافیت ہوگئی۔ لیجئے آپ جھوٹ پر مبنی قصہ سنیں۔ آج کے قصے میں، میں حقیر، فقیر مرکزی کردار ادا کررہا ہوں۔ انگریزوں کی نقل کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا بکس کھول کر میں نے سڑک کے بیچوں بیچ رکھ دیا ہے۔ آپ سخی بابا ہیں، آپ دل کھول کر میری امداد کرسکتے ہیں۔
میں حقیر، فقیر ادنیٰ سا باؤلا کراچی کی سڑکوں پر بے مقصد، بے مطلب مارا، مارا پھرتا تھا۔ میرا نام تھا، نہ پہچان تھی۔ میرے پاس نہ کام تھا، نہ کاج تھا۔ زیادہ تر میرا وقت فٹ پاتھوں پر مداری کھیل دیکھتے ہوئے گزرتا تھا۔ لوگوں کو بندر اور بندریا کے درمیان ہونے والی نوک جھونک اچھی لگتی تھی۔ مجھے بھاری بھرکم بھالوؤں کے کرتب اچھے لگتے تھے۔ میں بذات خود کچھ کچھ بھالوؤں جیسا لگتا تھا۔ کچھ سیانوں کا کہنا تھا کہ میں اصل میں ایک بھالو ہوں، حالات کے ہاتھوں بگڑتے ہوئے اب آدمی لگنے لگا ہوں۔ ایک روز ایک واقعے نے مجھے حیران، پریشان اور ششدر کردیا۔ کچھ اچھے خاصے نامور لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ ’تجھے پتہ ہے نٹ کھٹ کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن نے کراچی کو روشن رکھتے ہوئے سو سال پورے کیے ہیں‘؟
میں نے عاجزی سے کہا۔ ’مجھے کیا پتہ بھائی، میں جہاں رہتا ہوں، وہاں گیس ہے، نہ پانی ہے اور نہ بجلی ہے‘۔
ایک دانشور نے غصہ ہوتے ہوئے کہا۔ ’ابے کیا قبر میں رہتا ہے‘؟
دوسرے دانشور نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’ایک بہت بڑے جشن میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو نیا نام دیا جارہا ہے، کراچی الیکٹرک‘۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ مجھے ایسی باتیں کیوں بتا رہے تھے کہ جن باتوں سے میرا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بزرگ دانشور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’اس موقع پر کراچی کے کچھ پرانے باسیوں کو فخر کراچی کے لقب سے نوازا جارہا ہے‘۔
میں تعجب سے ان کی باتیں سن رہا تھا، بزرگ دانشور نے کہا ’تمہیں مبارک ہو نٹ کھٹ، جن کراچی کے باسیوں کو فخر کراچی کے لقب سے نوازا جارہا ہے، تم اس فہرست میں شامل ہو، تم فخر کراچی ہو‘۔ مجھے حیران پریشان چھوڑ کر وہ لوگ چلے گئے۔ میں شش و پنج میں پڑ گیا کہ آخرکار میں نے ایسا کون سا کارنامہ سرانجام د یا ہے کہ ایک حقیر، فقیر کو فخر کراچی کے لقب سے نوازا جارہا ہے؟ بے کیف زندگی میں، میں نے تاریخ کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے واقعات اور ماجرائیں دیکھی ہیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ ان واقعات کو روکنے کے لیے میں نے کچھ کیا تھا۔ صاحب لوگوں نے کراچی کی پہچان ٹرام بند کردی، نصف صدی سے چلنے والی ٹرام نے اصلی اور پرانے شہر کراچی کو چھوڑ رکھا تھا۔ آپ ایک یا دو آنے میں پورے کراچی کی سیر کرکے لوٹتے تھے۔ آپ کیماڑی سے ٹرام میں سوار ہوکر کراچی کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن، صدر، گاندھی گارڈن، چاکیواڑہ جاسکتے تھے۔ ابتدائی دور میں لکڑی کی سیٹوں پر روئی کے گدے پڑے ہوتے تھے۔ تیز دھوپ سے بچنے کے لیے ٹرام کی کھڑکیوں پر پردے پڑے ہوئے ہوتے تھے۔ ہم عمر اور ہم عصر یورپ کے ممالک میں اب پہلے سے زیادہ خوب صورت اور جدید ٹرامیں چل رہی ہیں، ہمارے ہاں نہ جانے کیا ہوا، صاحب لوگوں نے ٹرام بند کرادی۔ کسی نے احتجاج اور اعتراض نہیں کیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
ٹرام کو اگر بند کرانے سے روک سکتا پھر شاید، میں فخر کراچ کہلوانے کے لائق ہوتا، میں کچھ نہ کرسکا اتنا بڑا سانحہ میں نے اپنی کھلی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ دکھ ہے مجھے ، پرائمری سے یونیورسٹی کی تعلیم میں نے اسی ٹرام میں آتے جاتے حاصل کی تھی۔ جہانگیر کرکٹ گراؤنڈ صدر میں میچ کھیلنے کیلئے ہم اسی ٹرام میں سوار ہوتے تھے، میں ٹرام کو بند ہونے سے بچا نہ سکا۔ بولٹن مارکیٹ پتھر سے اینٹیں تراش کر بنائی گئی تھی۔ جاذب نظر عمارت تھی، کھانے پینے کی ہر چیز وہاں ملتی تھی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا، صاحب لوگوں نے بولٹن مارکیٹ کو گراکر سیمنٹ اور کنکریٹ کی کئی منزلہ عمارت اس کی جگہ کھڑی کردی۔ میں کچھ نہ کرسکا۔ مگر میں پھر بھی فخر کراچی کے گنے چنے لوگوں میں تھا۔ اس فہرست میں حنیف محمد تھے، معین اختر تھے، مہدی حسن تھے، ڈاکٹرادیب رضوی تھے۔
پر نہ جانے کراچی الیکٹرک میں کیا ہوا، چودہ برس بعد مجھے مطلع کیا گیا ہے کہ میں اس لائق نہیں ہوں کہ مجھے فخر کراچی کے لقب سے نوازا جائے، اب میں بدنام کراچی ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)