ایران امریکہ رابطوں میں پیش رفت کا امکان
قطر نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پیش رفت کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثی کی کوششوں کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنا اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانا ہے۔
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہفتے ہونے والی بات چیت میں صرف ’محدود‘ پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں جانب سے کسی بڑی رعایت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو کہا کہ فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بقول قطر ایک ایسے معاہدے کے لیے کام کر رہا ہے جو تنازع کے اثرات کو کم کرے اور خطے میں استحکام کو فروغ دے۔
ماجد الانصاری کے مطابق موجودہ کوششوں کا محور ایک ایسا پرامن حل تلاش کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی اور خطے کے ممالک کے سکیورٹی خدشات کے ازالے میں مدد دے۔
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے مذاکرات سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطری ثالثی کے باوجود بات چیت میں نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کوئی بھی فریق اہم معاملات پر رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن تہران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں تعطل کے باعث خطے میں نئی فوجی کشیدگی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو آئندہ سیاسی حالات کے تناظر میں سخت اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیر کے روز قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کی ٹیم سے کئی گھنٹے ملاقات کی۔ اس دوران ایک دو صفحات پر مشتمل قطری تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان موجود بنیادی اختلافات کو کم کرنا تھا۔
اس مجوزہ فارمولے میں ایران کے اس مطالبے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس پر عائد امریکی بحری پابندیاں ختم کی جائیں، جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مزید رعایتوں کا خواہاں ہے۔ بعد ازاں قطری نمائندے نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جزوی شرکت کی، تاہم وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر پاکستان، مصر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اس وقت تک کسی نئی رعایت پر غور نہیں کرے گا جب تک امریکہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر مذاکرات آگے بڑھانے پر رضامند نہ ہو۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے منگل کو کہا کہ تہران اپنی شرائط واشنگٹن تک پہنچا چکا ہے۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ فیصلہ کن پوزیشن اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں اور موجودہ صورتحال میں ’نہ مؤثر مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ ہی تصادم کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔‘