تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں جھگڑا: طیارہ سعودی عرب میں اتر گیا

  • بدھ 30 / ستمبر / 2026

دبئی سے تل ابیب جانے والی ایک مسافر پرواز کو اُس وقت ہنگامی طور پر اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا جب دورانِ پرواز دو پائلٹوں کے درمیان مبینہ طور پر ہاتھا پائی ہو گئی۔ متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن ’فلائی دبئی‘ کا طیارہ بدھ کی علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا تھا۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق سفر کا آغاز ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی جانب سے ہنگامی صورتحال کا سگنل جاری کیا گیا۔ چند منٹ بعد طیارے نے ایسا کوڈ بھی نشر کیا جو عموماً طیارہ اغوا ہونے کی اطلاع دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل میں تبدیل کر دیا گیا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے واضح کیا کہ واقعے کو طیارہ اغوا کیے جانے کا واقعہ تصور نہیں کیا جا رہا۔ مقامی میڈیا نے اسرائیلی دفاعی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہنگامی سگنل غالباً پائلٹ اور شریک پائلٹ کے درمیان پیش آنے والی تکرار اور جھگڑے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔

یروشلم میں نمائندہ بی بی سی جان ڈونیسن کے مطابق طیارے میں سوار ایک اسرائیلی مسافر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پائلٹس کے جھگڑے کے بعد طیارے کے عملے کی جانب سے مسافروں سے بھی مدد کی درخواست کی گئی، جس کے بعد بعض مسافروں نے مداخلت کرتے ہوئے ایک پائلٹ کو قابو کرنے میں مدد دی اور اسے باندھ دیا گیا۔

مسافر کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے عملے اور مسافروں نے مشترکہ طور پر کارروائی کی، جس کے بعد پرواز کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتار لیا گیا۔ تاہم حکام کی جانب سے مسافر کے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق یاسمین ابو قسیس نے انہیں بتایا کہ اُن کی بیٹی مریم اس پرواز میں سوار تھیں اور اُنہوں نے دورانِ پرواز چیخ و پکار کی آوازیں سُنیں۔ یاسمین ابو قسیس کی بیٹی نے بتایا کہ ایک شخص نے چاقو کے زور پر پائلٹوں میں سے ایک کو زمین پر گرایا ہوا تھا، جبکہ طیارے کے اندر ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔

تقریباً 150 مسافروں کو لے جانے والا یہ طیارہ، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی، معمول کے مطابق تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ پر اُترنے والا تھا، تاہم ہنگامی صورتحال کے باعث اسے سعودی عرب کے شمال مشرقی شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر اتار دیا گیا۔

اس واقعے کے ابتدائی ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے روانہ کیے جبکہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری مشاورت بھی کی۔ بعدازاں اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ پیش آنے والے اس واقعے پر تشویش کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مشاورتی اجلاس منعقد کیا اور وہ مسلسل اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔

بی بی سی عربی کے یروشلم میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ صورتحال اُس وقت پیش آئی جب ایک پائلٹ نے طیارے کا رُخ تبدیل کیا۔ طیارہ پہلے اُردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور بعد ازاں اس کا راستہ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔ فلائی دبئی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز ایف زیڈ 1073 دورانِ پرواز پیش آئے ایک واقعے سے متاثر ہوئی تاہم طیارہ بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا ہے اور تمام مسافر محفوظ ہیں۔

کمپنی نے مزید کہا کہ واقعے سے متعلق مزید مصدقہ معلومات دستیاب ہوتے ہی مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔