غامدی صاحب کی تعبیرِ دین

اس دور میں جاوید احمد غامدی صاحب کا دَم غنیمت ہے، آپ اُن سے لاکھ اختلاف کریں مگر اُن کے علمی قد کاٹھ سے انحراف ممکن نہیں۔ اُن کا اندازِ گفتگو مدلل ہے، طبیعت میں نفاست ہے اور شخصیت میں پاکیزگی ہے۔ ایک عالمِ دین کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔

ہر بڑے آدمی کی طرح غامدی صاحب پر بھی بے سروپا الزامات لگتے رہتے ہیں۔ کبھی موسیقی، تصویر اور پردے سے متعلق فتاویٰ کو بنیاد بنا کر انہیں تجدد پسند اور سنت و حدیث کا منکر قرار دیا جاتا ہے اور کبھی روایتی مذہبی طبقہ ان کی تعبیرات کو ’فتنہ‘ کہہ کر ان کے خلاف کفر و ضلالت کے فتاویٰ جاری کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہ تمام سطحی اور روایتی تنقیدیں کوئی خاص علمی وزن نہیں رکھتیں۔ ان میں سے اکثر کا تعلق جذباتی اشتعال، شخصیات کی کردار کشی یا روایتی تعصبات سے ہے۔

غامدی صاحب سے اگر کوئی اختلاف کیا جا سکتا ہے تو وہ اُن کا دین کی تشریح و تعبیر کا طریقہ کار ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قرآنِ مجید کا اپنا ایک خاص نظم ہے اور اگر اس کے الفاظ، گرامر اور نظم کو صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو دین کا پورا فریم ورک اور خدا کی اسکیم خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ اس طریقہ کار میں وہ ہر اُس روایت، فہم، فقہی تعبیر اور تاریخ کو مسترد یا غیر متعلق کر دیتے ہیں جو ان کے نزدیک قرآن کے متنی نظم کے مطابق نہ ہو یا جس کی صریح بنیاد انہیں متن میں نظر نہ آئے۔ یعنی غامدی صاحب دین کو صرف بنیادی متن کے اندر محصور کر کے دیکھتے ہیں اور چودہ سو سال کی علمی و تاریخی روایت کو محض ثانوی یا غیر لازمی چیز سمجھتے ہیں۔ مجھ غریب کو اس طریقہ کار سے اختلاف ہے۔

اسلام صرف ایک کتاب یا متن کا نام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ اور جاری رہنے والی روایت بھی ہے۔ آپ محض یہ کہہ کر چودہ سو سال کے اصولِ فقہ اور پریکٹس کو رد نہیں کر سکتے کہ ’مجھے یہ بات براہِ راست کتاب کے متن میں نہیں ملی‘ ۔ اِس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی قانون داں سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہے کہ ’جنابِ والا! آئینِ پاکستان کا متن میرے ہاتھ میں ہے۔ اس میں فلاں قانونی اصطلاح، ضابطہ یا عدالتی عمل کی صریح عبارت موجود نہیں ہے۔ اس لیے میں پچھلے ستّر سال کے تمام عدالتی فیصلے، فُل بنچ کی تشریحات اور قانون سازوں کی قائم کردہ روایات کو اٹھا کر باہر پھینکتا ہوں کیونکہ مجھے یہ بات آئین کی کتاب میں نہیں ملی‘ ۔ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ اِس لیے کہ دنیا کا کوئی آئین اور قانون اپنے اندر تمام تفصیلات، اصطلاحات اور عمل کے طریقے خود برامد نہیں کر سکتا۔ آئین ایک بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے لیکن اس متن کو نافذ کرنے کے لیے ایک مسلسل قانونی روایت، عدالتی فیصلے اور تعبیرات کی تاریخ درکار ہوتی ہے۔

دین کا معاملہ بھی بالکل یہی ہے۔ جسے ہم اسلام میں روایت، اصولِ فقہ یا علمِ درایت کہتے ہیں وہ اصل میں مسلمانوں کا چودہ سو سال کا فکری، قانونی اور تمدنی سرمایہ ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچا ہے۔ متن پرستی میں آ کر اس چودہ سو سالہ قانونی و تعبیری عمارت کو استعمال نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے جی ٹی روڈ کو بند کر کے صرف موٹروے استعمال کی جائے۔ امام فراہی کا مکتبہ فکر اِسی اپروچ کے نتیجے میں تصوف اور صوفیا کی پوری روایت کو دین کے فریم ورک سے خارج یا غیر متعلق سمجھتے ہیں حالانکہ تصوف کوئی نیا مذہب یا نئی شریعت نہیں ہے۔ جیسے فقہ کا کام یہ بتانا ہے کہ نماز کے فرائض اور واجبات کیا ہیں (یعنی ظاہری جسمانی عمل) ویسے ہی تصوف کا کام یہ دیکھنا ہے کہ اس نماز میں خشوع، حضورِ قلب اور خلوص کتنا ہے (یعنی باطنی کیفیت) ۔

تصوف اور شریعت کا تعلق بالکل ایسا ہی ہے جیسے جسم اور روح کا۔ اگر آپ جسم سے روح نکال دیں تو وہ لاش بن جاتا ہے اور اگر روح بغیر جسم کے پھرے تو لوگ اسے بھوت سمجھ کر ڈر جاتے ہیں۔ صوفیا نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ قرآن و سنت سے ہٹ کر کوئی نیا کلمہ یا نیا قبلہ لائے ہیں۔ ہاں یہ درست ہے کہ مزاروں پر ہونے والی بدعات، پیری مریدی کا کاروبار اور بعض فلسفیانہ دعوے ایسے ہیں جن کا دفاع ممکن نہیں لیکن تاریخ میں اگر کچھ لوگوں نے تصوف کے نام پر غلو یا خلافِ شریعت باتیں کی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، شیخ عبدالقادر جیلانی، جنید بغدادی، مولانا روم اور شاہ ولی اللہ جیسے جلیل القدر صوفیاء کی پوری روایت ہی کو مسترد کر دیں۔ یہ کیسا الگ دین ہے جس کے آئمہ اصل دین کے بھی آئمہ تھے؟ قرآن بار بار تزکیہ کی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاح اسی نے پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔ تصوّف اسی تزکیہ کے گرد پروان چڑھنے والا علم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود غامدی صاحب کے فکری نظام میں تزکیہ دین کا مقصود ہے، گویا جس چیز کو وہ الگ دین کہتے ہیں اُس کا جوہر ان کے ہاں بھی موجود ہے۔

آج دنیا کے اکثر مفکرین جرمن فلسفی ہیگل کی بہت سی باتوں سے اتفاق نہیں کرتے لیکن کیا ہیگل کے نظریات سے اختلاف کرنے کے بعد دنیا نے ہیگل کو پڑھنا اور اس سے استفادہ کرنا چھوڑ دیا؟ ہیگل نے انسانی تاریخ اور ارتقاء کو جو زاویہ اور منطقی زبان فراہم کی اُس کے بغیر جدید عمرانیات، تاریخ اور سیاسیات کو سمجھنا مشکل ہے۔ اسی طرح قدیم زمانے کے کیمیا دانوں کا سارا زور اس بات پر تھا کہ کسی طرح تانبے یا لوہے کو سونے میں بدل دیا جائے۔ آج کا سائنسدان جانتا ہے کہ لوہے کو سونے میں بدلنے کا یہ طریقہ سائنسی طور پر بالکل غلط اور خام خیالی تھا۔ لیکن کیا علمِ کیمیا کی وہ تمام کوششیں بیکار گئیں؟

نہیں! اسی علمِ کیمیا سے وہ بنیادیں استوار ہوئیں جس پر آج جدید کیمسٹری کی عمارت کھڑی ہے۔ سو، جب ایک ناکام دعوے والی روایت بھی اتنا کچھ دے سکتی ہے تو وہ روایت کتنا کچھ دے گی جس نے صدیوں تک انسانوں کے دل اور دماغ دونوں کو سنوارا؟ اگر بالفرضِ محال دنیا کا کوئی شخص قرآن کے مذہبی عقائد یا اس کے احکامِ شریعت پر ایمان نہ بھی رکھتا ہو تب بھی وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ قرآن مجید صرف ایک مذہبی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم الشان تہذیبی اور لسانی معجزہ ہے جس نے اربوں انسانوں کی تشکیل کی ہے۔ عربی زبان کی ساخت، اُس کے افعال، گرامر، بلاغت اور اس کے 70 فیصد سے زائد بنیادی ذخیرہ الفاظ اور محاورات پر قرآنِ مجید کے گہرے نقوش ثبت ہیں۔ قرآن نے ایک بدوی معاشرے کی زبان کو اٹھا کر اسے دنیا کی جامع ترین، فصیح ترین اور علم و حکمت کی حامل زبان بنا دیا۔ اگر دنیا سے قرآن کے اثرات کو منہا کر دیا جائے تو عربی زبان کا 70 فیصد حصہ بے معانی اور بے روح ہو کر رہ جائے گا۔ اور صرف زبان ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا کلچر، اُن کی خطاطی، اُن کا طرزِ تعمیر، اُن کا قانون، اُن کی بلاغت، سب کے سب قرآن اور سنتِ نبوی کے مرہونِ منت ہیں۔ خیر یہ بات غامدی صاحب والی بحث سے کہیں اور نکل جائے گی۔ بات فقط اتنی ہے کہ شریعت صرف خشک الفاظ کا نام نہیں ہے۔

A few good men فلم کا منظر یاد آ گیا۔ ایک امریکی فوجی افسر کی زیر کمان کسی رنگروٹ کی موت واقع ہو جاتی ہے، موت کی وجہ کوڈ ریڈ بتائی جاتی ہے، یہ وہ غیر علانیہ سخت جسمانی سزا ہے جو اُس یونٹ میں کمانڈنگ افسر کے حکم کے تحت دی جاتی۔ مقدمہ عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے، فوج کا وکیل قانون کی کتاب لہراتا ہوا جج کو دکھاتا ہے اور کہتا ہے کہ اِس کتاب میں کہیں بھی کوڈ ریڈ کا لفظ نہیں لکھا، اِس سزا کا کوئی وجود نہیں۔ جواب میں وکیل صفائی کہتا ہے کہ کیا یونٹ میں میس ہے، کیا وہاں کھانا ملتا ہے، کیا سب فوجی جوان ایک مقررہ وقت پر وہاں کھانے کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں؟ جواب ملتا ہے، ہاں۔ وکیل مسکرا کر کہتا ہے کہ لیکن یہ سب بھی تمہاری قانون کی کتاب میں نہیں لکھا تو کیا اِس سے یہ سمجھا جائے کہ اِن باتوں کا وجود ہی نہیں!

بس یہی میرا مدعا ہے۔ بس یہی میرا مدعا ہے کہ کسی بات کا متن میں نہ ملنے کا یہ مطلب نہیں کہ اُس کے وجود کا سرے سے انکار ہی کر دیا جائے۔ تعبیرِ دین کا یہ طریقہ مناسب نہیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)