عظیم رائٹر شیکسپیئر کی قبر پر
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 30 / ستمبر / 2026
انگلینڈ کا سفر چاہے کسی بھی مقصد کے تحت ہو، درویش اسے ’’اسٹڈی ٹور‘‘ یا مطالعاتی دورے کی حیثیت دے دیتا ہے۔ ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ یہاں کے تاریخی مقامات، لائبریریوں، آرٹ گیلریوں، چرچز، ریسرچ سینٹرز، کنگڈم اور ڈیموکریسی کے نمائندہ اداروں، ادبی و ثقافتی مراکز کے ساتھ ساتھ جدید تعمیر و ترقی اور تفریحی سنٹرز کا بھی مشاہدہ کیا جائے۔
اس طرح گریٹ برٹن اور اس خطے کے عظیم الشان ماضی و حال کو سمجھنے کی کوشش کی جا سکے۔ اربن لائف کے ساتھ ساتھ یہاں کی رورل لائف کا جائزہ بھی اس سٹڈی ٹور یا مطالعاتی سفر کا حصہ رہتا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جس نے ایک زمانے میں سیاسی اعتبار سے ایسی سلطنت قائم کی جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن اسی برطانیہ کی اصل عظمت صرف اس کی سیاسی طاقت اور سلطنت تک محدود نہیں۔ علمی، فکری، سائنسی، ادبی اور تہذیبی حوالوں سے بھی اس سرزمین نے دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے،یہاں کا علمی و ادبی ورثہ پوری دنیا کی فکری وادبی ترقی پر اثرانداز ہوا۔
ان حوالوں سے درویش کے سامنے ہمیشہ اس کے مرشد پاک سرسید “لائٹ ہاؤس‘‘ کی حیثیت سے نمودار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنے یادگار برطانوی وزٹ میں جو کچھ اخذ کیا، سمجھا اور لکھا، وہ درویش سمیت بہت سے انڈینز کے لیے رہنمائی کا باعث بنا۔ اپنے پچھلے وزٹ میں یہ ناچیز انگلینڈ کی فطری خوبصورتی، بالخصوص انسانی حسن سے اس قدر متاثر ہوا کہ جنگ کے لیے یہاں سے بھیجے جانے والے پہلے کالم کا عنوان تھا ’’حسیناؤں کے دیش میں‘‘ کالم شائع ہوا تو کئی احباب نے فون پر اعتراض اٹھاتے ہوۓ کہا کہ آپ کی حسن پرستی یا خوبصورتی کے لیے دیوانگی اس قدر بڑھی ہوئی کیوں ہے؟ گریٹ بریٹن سے علم و فن کی جو آبیاری ہوئی، دنیا کو تہذیبی و سائنسی یا فکری وادبی میدان میں جو کچھ ملا، اس پر بھی توجہ مبذول کرائیے۔
درویش نے اس مفت مشورے کے بعد کالم کا عنوان باندھا ’’سولائزیشن اور ڈیموکریسی کے گہوارے میں‘‘۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا کہ یہاں کی ہیومن بیوٹی سے اس غریب درویش نے کیوں متاثر نہیں ہونا تھا، ہمارے حکیم الامت اقبال کایہ عالم تھا کہ وہ یہاں کے حسن و جمال کو دیکھ کر پروردگارِ عالم سے الجھ پڑے، شکوہ کیا:
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور
اور بیچارے مسلمان کو فقط وعدۂ حور
اس سے آگے بڑھ کر شکایت کی:
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
فرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند
حالیہ وزٹ میں قدرت نے ناچیز کو یہاں کی رورل یا ولیج لائف کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کل ہی محترمہ ڈاکٹر خلعت النساصاحبہ اور عزیزم ڈاکٹر ہارون خان کے ہمراہ عظیم برطانوی دانشور، ادیب، شاعر اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کی جنم بھومی Stratford-upon-Avon کو وزٹ کیا۔ شیکسپیئر کا نام دنیا کے عظیم ترین ادیبوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر ادبی و فنی سفر لندن سے وابستہ رہا، مگر ان کی جڑیں اسی چھوٹے سے خوبصورت شہر Stratford-upon-Avon میں پیوست ہیں۔ یہاں آکر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی عالمی شہرت یافتہ ادیب کے نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے نقشِ قدم تلاش کر رہے ہیں جو اسی شہر کی گلیوں میں کھیلتا، پڑھتا، جوان ہوتا، محبت یا شادی کرتا اور پھر دنیا کے عظیم ترین ادیبوں میں شمار ہونے کے بعد اسی سرزمین کی طرف واپس لوٹتا دکھتا ہے۔
یہاں شیکسپیئر کی جنم بھومی محفوظ ہے، جہاں وہ 23 اپریل 1564 میں پیدا ہوا۔ اس کے بچپن، خاندان اور ابتدائی زندگی سے متعلق یادیں بھی اسی شہر سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کا تاریخی سکول روم بھی ملاحظہ کیا۔ یہاں شیکسپیئر کی یادگاروں کے ساتھ ان کی محبت شریک حیات Anne Hathaway کا گھر بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس کے گردونواح کے باغات اور سبزہ زار بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ہمیں یہاں سیب کے باغات بھی دیکھنے کا موقع ملا جو اپنے پھل سے لدے ہوئے تھے۔ یہ منظر شیکسپیئر کے عہد کی ریورل انگلینڈ کا ایک خوبصورت عکس دکھاتا ہے ۔
شیکسپیئر کی کامیابی کے بعد خریدے گئے ان کے آخری گھر نیو لیس کی اصل عمارت اگرچہ اب موجود نہیں، لیکن اس جگہ کو یادگار اور آثار کی صورت محفوظ رکھا گیا ہے۔ یوں ایک شخص کی زندگی کے مختلف مراحل، پیدائش، بچپن، تعلیم، شادی، خاندان، کامیابی اور آخری ایام، ایک ہی شہر میں ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ انگریزوں نے Stratford-upon-Avon میں شیکسپیئر سے متعلق اپنی تمام یادگاروں کو جس خوبصورتی اور اہتمام سے محفوظ کر رکھا ہے، اسے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ایک قوم اپنے لوگوں کی زندگی کے آثار کو کس طرح محفوظ کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کو ان سے کیسے جوڑتی ہے۔ البتہ درویش کو ایک بات کھٹکی بھی، یہاں تقریباً ہر تاریخی مقام کے ساتھ ٹکٹ سسٹم ہے۔ معمولی سے معمولی اور خالی جگہ پر بھی غیر مرئی ٹکٹ وصولی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انگریزوں نے اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے آمدنی کا ذریعہ بنانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈھ رکھے ہیں۔ حتی کہ ولیم شیکسپیئر جیسے انگریزی ادب کے عظیم محسن کی آخری آرام گاہ کی زیارت پر بھی ٹیکس لگا رکھا ہے۔ حالانکہ ان کی ادبی خدمات کے ریگارڈ میں اگر مینٹیننس کا خرچہ خود حکومت اٹھا لیتی تو کیا وبال تھا۔
اس سفر کا متاثر کن مقام Holy Trinity Church تھا۔ اسی چرچ میں شیکسپیئر کا بپتسمہ 26 اپریل 1564 کو ہوا اور پھر 23 اپریل 1616 کو وفات کے بعد یہیں ان کی تدفین ہوئی۔ چرچ کے تاریخی ریکارڈ میں ان کی بپتسمہ اور تدفین کے اندراجات آج بھی محفوظ ہیں۔
شیکسپیئر کو گزرے چار صدیاں ہونے کو ہیں، مگر دنیا آج بھی Hamlet، Macbeth، Othello، King Lear ،Romeo and Juliet کے ذریعے انسانی فطرت، محبت، اقتدار، حسد، جرم، ضمیر اور المیے کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ شیکسپیئر کی قبر کوئی بلند و بالا مقبرہ نہیں۔ فرش پر ایک سادہ سی جگہ نشان زدہ ہے۔ قریب ہی ان کے حوالے سے تختی موجود ہے۔ دنیا کے عظیم ترین ادیب کی آخری آرام گاہ کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے انسان ٹھٹھک جاتا ہے۔ جس شخص کے قلم نے بادشاہوں، شہزادوں، جرنیلوں، عاشقوں، قاتلوں، فلسفیوں اور عام انسانوں کے کرداروں کو صدیوں کے لیے زندہ کر دیا، وہ خود ایک سادہ سی قبر میں پڑا ہے۔
درویش شیکسپیئر کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد، اس کے سامنے کھڑے سوچ رہا تھا، کیا عظمت بڑے محل میں رہنے کا نام ہے؟ کیا یہ کسی بڑے مقبرے کا نام ہے؟ کیا دولت، اقتدار اور شہرت ہی انسان کو بڑا بناتے ہیں؟ شیکسپیئر کی قبر اس سوال کا خاموش جواب ہے۔ ایک سادہ سی قبر مگر اس قبر میں وہ شخص سو رہا ہے جس کا قلم چار صدیوں بعد بھی دنیا بھر کے انسانوں سے مخاطب ہے۔
شاید انسان کی اصل زندگی اس کی سانسوں کے رک جانے کے بعد شروع ہوتی ہے، جب اس کے فکرو فن اور شبد اس کی ذات سے آگے نکل کر آنے والی نسلوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
شیکسپیئر کی قبر پر کھڑے ہوکر درویش کومحسوس ہوا کہ انسان فنا ہوتا ہے، مگر اس کا کام اسے صدیوں تک امر بناتاہے۔ آج یہ تمنا ہو رہی ہے کہ اپنے عظیم ترین ہیرو سر برٹینڈ رسل کی یادگار پر حاضری و زیارت اور فاتحہ خوانی کا شرف بھی حاصل کروں۔