اسرائیلی وزیر اعظم اور متحدہ عرب امارات کےصدر کی ملاقات
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 30 / ستمبر / 2026
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو متحدہ عرب امارات کا مختصر دورہ کیا۔ تاہم اس دورہ میں انہوں نے 6 گھنٹے تک یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النیہان سے ملاقات کی۔ اس موقع پرنیتن یاہو کے ہمراہ قومی سلامتی کونسل و موساد کے سربراہ، فوجی سیکریٹری اور خارجہ پالیسی کے مشیر بھی موجود تھے۔ حالیہ دورہ کی نوعیت اس لحاظ سے مختلف ہے کہ دونوں ملکوں نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔
اس سے پہلے جنوری میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے متحدہ عرب کے شہر العین میں شیخ زاید سے ملاقات کی ہے تاہم یو اے ای نے اس ملاقات کی تردید کردی تھی۔ البتہ ابراہم معاہدے کے تحت دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات استوار ہونے کے بعد سے باہمی روابط اور قربت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یوں تو متعدد مسلمان ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم ہیں ۔ اور یہ تعلقات غزہ میں اسرائیلی جنگ جوئی کے دوران بھی استوار رہے ۔ تاہم جیسی گرم جوشی متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ ظاہر کی ہے، اس کا مظاہرہ کسی دوسرے مسلمان یا عرب ملک کی طرف سے دیکھنے میں نہیں آیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا متحدہ عرب امارت کا دورہ ایک ایسا موقع پر ہؤا ہے جب ایران کے خلاف امریکی جنگ جاری ہے اور فی الوقت اس کے ختم ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ دونوں ممالک امن کے لیے اپنی شرائط منوانے پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم قطر کے توسط سے پیغامات کا تبادلہ ہورہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان بھی علاقائی دوست ممالک کے ہمراہ تہران اور واشنگٹن کو قریب لانے اور اختلافات کم کرانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے باوجود یہ خبریں سامنے آچکی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف امریکہ کے مڈ ٹرم انتخابات کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے بعد امریکہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرے گا۔ یہ حملے پہلے سے زیادہ خطرناک اور دور رس نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں۔ امریکہ اگر ایران کے خلاف ایک بار پھر جنگ شروع کرتا ہے تو ہوسکتا ہے اسرائیل بھی اس جنگ جوئی میں شامل ہو۔ اس پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم کا ایران کے ہمسائے اور ایک اہم خلیجی ملک کا دورہ زیادہ اہم ہوجاتا ہے اور متعدد سوالات پیدا کرتا ہے۔
ایرانی لیڈر اپنی طرف سے واضح کرتے رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کیے تو اس کا جواب زیادہ تباہ کن اور سخت ہوگا۔ ایرانی فوجی لیڈروں نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ اس نے زیادہ مہلک اور مؤثر ہتھیار حاصل کرلیے ہیں اور کسی ممکنہ جنگ میں ان سے ایران دشمنوں کو حیران کردے گا۔ ان دعوؤں کے علاوہ ایران کی یہ دھمکی زیادہ قابل غور ہے کہ اگر ایران اپنا تیل برآمد نہیں کرسکتا تو خطے کے کسی بھی ملک کو تیل بیچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران اپنی اس پالیسی کا اظہار عرب ممالک پر حملوں کے ذریعے کرتا رہا ہے۔ اب یہ اندیشہ بڑھ چکا ہے کہ نئے امریکی حملوں کی صورت میں عرب ممالک پر ایرانی حملے شدید ہوں گے۔ ماضی قریب میں متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کا خاص طور سے نشانہ رہا ہے۔ اس دوران یہ غیرمصدقہ خبریں بھی آئی تھیں کہ یو اے ای نے ایرانی پاسداران کے ساتھ رابطے قائم کیے ہیں اور کچھ نقد ادائیگی کے بدلے متحدہ عرب امارات پر حملے نہ کرنے کا وعدہ حاصل کیا تھا۔ البتہ ان خبروں کی کسی فریق نے تائید نہیں کی۔ لیکن یو اے ای اور ایران میں وسیع معاشی تعلقات موجود رہے ہیں لیکن حالیہ جنگ میں ان تعلقات میں دارڑیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ایران، امریکہ کے خلاف کمزور اور تنہا ہونے کی وجہ سے ہمسایہ عرب ممالک کو نشانہ بنا کر امریکی جارحیت کا جواب دینے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور اردن خاص طور سے اس کے نشانے پر رہے ہیں۔
علاقے میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ یہی اڈے درحقیقت ایرانی حملوں کے عذر کے لیے استعمال بھی کیے جارہے ہیں۔ تاہم امریکہ مؤثر طریقے سے اپنے عرب حلیف ممالک کی حفاظت کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اس کے علاوہ امریکہ ہر عسکری کارروائی کے لئے عرب ممالک سے کثیر مالی معاوضے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ حال ہی میں حوثیوں کے عرب ممالک پر حملوں کے بعد بھی امریکہ براہ راست ملوث نہیں ہؤا اور صدر ٹرمپ کے بیانات سے یہ تاثر ملتا رہا کہ وہ حوثیوں سے امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ نہ کرنے کے وعدوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس تنازعہ میں سعودی عرب کی سلامتی سے اس کو غرض نہیں ہے۔ امریکہ اگر سعودی عرب کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرسکتا ہے تو ابو ظہبی میں بھی اس حوالے سے تشویش موجود ہوگی کہ کسی نئی جنگ کی صورت میں اگر ایران متحدہ عرب امارات کی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے کیسے اور کیوں کر بچا جاسکے گا۔ ان حالات میں اسرائیل کے ساتھ تعاون ایک ممکنہ متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ماضی قریب میں کئی معاملات میں سعودی عرب سے متضاد حکمت عملی اختیار کرکے خود کو خلیج کی متبادل طاقت ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران جنگ نے ضرور یو اے ای کی اس خواہش کو کمزور کیا ہے لیکن یمن، سوڈان، بحیر احمر میں پالیسیوں اور معاشی مقابلے بازی میں متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کو چیلنج کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی کی قربت اور گرمجوشی کم ہوتی جارہی ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے خود مختار تیل پالیسی اختیار کرتے ہوئے خود کو تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے بھی علیحدہ کرلیا تھا کیوں کہ اس تنظیم میں سعودی عرب کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ ابو ظہبی کے اس قدام کو براہ راست سعودی عرب کی علاقائی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش سمجھا گیا تھا۔ اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے ابوظہبی کا رجحان بھارت اور اسرائیل کی طرف دیکھنے میں آیا ہے۔ اس لیے نیتن یاہو کے حالیہ اور اچانک دورے کو وسیع تر علاقائی تناظر ، سکیورٹی ضروتوں اور نئے چیلنجز میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی خواہش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکہ کی طرف سے عرب ممالک کی حفاظت میں ناکامی کی صورت حال ہی میں سعودی عرب نے نئے دفاعی معاہدوں کے ذریعے خود کو محفوظ بنانے کا اہتمام کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ دفاعی معاہدہ کرنے کے بعد سعودی عرب نے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ سہ فریقی دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے جسے ’مکہ پیکٹ‘ کا نام دیا جارہا ہے۔ مصر بھی اس نئے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ۔ یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ مستقبل میں مصر مکہ پیکٹ میں شامل ہوجائے۔ تاہم متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب کے ’مد مقابل ‘ ہونے کی وجہ سے شاید اس معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ حقیقت بھی ابوظہبی کو تل ابیب کے قریب لارہی ہے۔ امریکی حکومت اپنے جمہوری نظام میں جوابدہی کی وجہ سے بھی بیرون ملک جنگوں میں کھل کر اقدام نہیں کرسکتی۔ تاہم اسرائیل کے لیے ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اسرائیلی عوام کی اکثریت ’قومی سلامتی‘ کے نام پر کسی بھی قسم کی جنگ جوئی اور اسرائیلی حکومت کی عسکری حکمت عملی کی حمایت کرتی ہے۔ اس حوالے سے بھی ’دفاعی‘ نقطہ نظر سے متحدہ عرب امارت، اسرائیل کو امریکہ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور قابل اعتبار حلیف سمجھ سکتا ہے۔
یہ کہنا تو بعید از قیاس ہے کہ اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بھارت، مکہ پیکٹ کی طرز پر کوئی دفاعی معاہدہ قائم کرسکتے ہیں لیکن ان تینوں ملکوں کی مشترکہ ترجیحات دیکھتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان ممالک کے درمیان ایسی قربت میں اضافہ ہوگا جو مشرق وسطی میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے کوشش کرے ۔ اسرائیل کو اس کی فلسطینی دشمن پالیسیاں نظر انداز کرنے والے ممالک سے سفارتی قربت کی ضرورت ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کے خلاف یقیناً اسرائیلی انٹیلی جنس اور عسکری مدد کی توقع کرسکتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو، شیخ محمد بن زاید النیہان سے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کی قبل از وقت معلومات فراہم کرنے کے بارے میں اپنا مؤقف تبدیل کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ تاکہ ایک ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں وہ ان کے کام آسکے۔ یوں بھی متحدہ عرب ممالک کے ساتھ قربت کو نیتن یاہو اپنی سیاسی وسفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ اسرائیل کے لیے ابوظہبی کا دروازہ سفارتی تنہائی سے نکلنے کا آسان راستہ ہے۔
البتہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ حکمت عملی، فلسطین اور غزہ کے علاوہ لبنان کے بارے میں اس کی پالیسی اور گریٹر اسرائیل قائم کرکے پورے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اسرائیلی خواہش ، ایک اہم خلیجی مسلمان ملک سے اس کی قربت کے بارے میں عرب ممالک اور مسلم دنیا میں تشویش کا باعث بنے گی۔