پاکستان کے افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کا دعوی

  • جمعرات 01 / اکتوبر / 2026

پاکستانی افواج نے ’مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 22 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم افغان طالبان حکام نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغان صوبوں کنٹر اور ہلمند میں عام شہریوں کے گھروں پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت نو افغان شہری ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ہم اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اسے جارحیت پر مبنی کارروائی اور ایسا جرم سمجھتے ہیں جو تمام تسلیم شدہ اصولوں اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔‘ یاد رہے کہ گزشتہ دس روز کے دوران پاکستان اور افغانستان کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید ابتری دیکھی گئی ہے۔

جمعرات کی صبح ہوئے تازہ فضائی حملوں سے قبل پاکستان نے 21 ستمبر اور 24 ستمبر کو بھی افغانستان کے مختلف صوبوں میں 'دہشت گردوں کے ٹھکانوں' اور ’خودکش بمباروں کے مراکز‘ پر فضائی حملے کرتے ہوئے متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم ان حملوں کے بعد افغان طالبان حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ ان فضائی حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد سویلینز کی ہلاکتیں ہوئیں۔

اسی دوران 23 ستمبر کو پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی جانب سے آنے والے لگ بھگ آٹھ ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہے، تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’شدت پسندوں، ان کے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر منصوبہ بندی کے ساتھ فضائی حملے کیے گئے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ’مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد‘ پر کی گئی اور اسے ’انتہائی درستگی‘ کے ساتھ انجام دیا گیا۔ پاکستانی بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 22 مبینہ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے 21 ستمبر کو افغانستان کے صوبہ کنڑ پر فضائی حملہ کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں کئی ’خودکش بمباروں‘ کے علاوہ 28 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان میں طالبان حکومت نے 24 ستمبر کے حملوں کے بعد کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔