مدینہ منورہ پر حوثی حملہ کی مذمت
پاکستان سمیت کئی خلیجی ممالک نے مدینہ منورہ کے پاور ہاؤس پر حوثی حملہ کی مذمت کی ہے۔ شہر مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز پر حالیہ حوثی حملہ مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔
یہ بجلی گھر مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے جو اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ قطر، کویت اور بحرین نے کہا ہے کہ یہ حملہ ’اسلامی مقدسات پر حملہ‘ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ہدف کی مذہبی اہمیت کا ذکر نہیں کیا اور اپنے مختصر بیان میں حملے کی سنگینی اور سعودی عرب کی خودمختاری پر اس کے اثرات تک بات محدود رکھی۔
تاہم چاروں ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ عمان نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حوثیوں نے مدینہ پر حملہ کی خبر کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ نے آج صبح خبر جس کے مطابق حوثی حکام نے کہا کہ یہ دعویٰ ’ایک نئی من گھڑت کہانی ہے جس کے تمام نتائج کی ذمہ داری دشمن پر عائد ہوتی ہے۔ یہ اسلامی مقدسات کے کھلے استحصال کی ایک مثال ہے۔‘
اس دوران یمنی حکومت کے فوجی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ملکی جنگی طیاروں نے آج تعز میں حوثیوں کے ٹھکانوں، اس گروہ کے جنگجوؤں، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کے خلاف 20 فضائی حملے کیے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان جھڑپیں 2022 میں اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد اپنی شدید ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
اگر حوثی جنوب مغربی یمن میں واقع تعز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو یہ گروہ بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھا لے گا اور جنوبی یمن اور حکومتی مرکز بندرگاہی شہر عدن تک اس کی رسائی زیادہ آسان ہو جائے گی۔
دوبارہ شروع ہونے والی لڑائیوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اور یہ یمن کے مختلف علاقوں پر کنٹرول کی صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اثرات بحیرہ احمر کی جہازرانی کی گزرگاہوں اور آبنائے باب المندب پر بھی پڑ سکتے ہیں۔