حکومت و اپوزیشن کے مذاکرات اور فوج کا انتباہ

آج قومی اسمبلی میں حکومت اور تحریک انصاف کے وفود کے  درمیان بات چیت ہوئی جس میں باہمی تنازعہ ختم کرکے سیاسی عمل جاری  کرنے کے  بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت نے خاص طور سے خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کی صورت حال کا حوالہ دیتے  ہوئے   پی ٹی آئی کی حکومت سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ تحریک انصاف نے عمران خان کو  علاج  کی  سہولتوں، ملاقاتیں بحال کرانے کے علاوہ  بانی تحریک انصاف کی بہنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

فریقین نے ملاقات کے بعد نپے تلے انداز میں مثبت ردعمل  ظاہر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بات چیت سے کوئی بھی مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ تاہم حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان طویل عرصہ کے بعد مذاکر ات ہوئے ہیں  اور اس پہلے دور میں بھی مسئلہ حل کرنے کی طرف کسی قسم کی پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وفد نے مزید مہلت مانگی ہوگی تاکہ وہ حکومت کے ساتھ کسی مفاہمت کے لیے باہمی مشاورت سے  اتفاق رائے پیدا کرلیں۔ حالانکہ   اتنی کد و  کاوش کے بعد ہونے والے اس مذاکراتی سیشن میں حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کی پوزیشن معلوم تھی اور کسی نتیجہ تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقوں کے پاس آپشن موجود ہونے چاہئیں  تھے۔  البتہ کسی اتفاق رائے کے بغیر آج کا  اجلاس ختم کرنے  اور ہفتہ کو دوبارہ ملنے کے وعدہ سے اگرچہ کچھ امید ضرور پیدا ہوئی ہے لیکن ناکامی کا امکان بھی بدستور موجود ہے۔

خاص طور سے سہیل آفریدی  یا خیبر پختون خوا حکومت کا کوئی نمائیندہ اس اجلاس میں شریک نہیں تھا۔  گو کہ تحریک انصاف کی طرف سے  پارٹی  کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ،  سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، اسد قیصر اور  عامر ڈوگر شامل تھے۔ لیکن پارٹی میں ٹکراؤ کی حکمت عملی اختیار کرنے  والے عناصر میں درحقیقت یا تو عمران خان کی بہن علیمہ خان  ہیں جو اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں یا  کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی  بظاہر  تصادم کی طرف مائل دکھائی  دیتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز بھی  4 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے  کا اعلان دہرایا ہے  اور اسی سلسلہ میں قافلوں کو جمع کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔  دوسری طرف حکومت وفد  میں   وزیر داخلہ محسن نقوی،  وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، نائب وزیر داخلہ طلال چودھری،   کشمیر و قبائلی علاقوں کے وزیر امیر مقام  کے علاوہ  پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے۔ جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے اجلاس کی میزبانی کی۔ اس کے باوجود سرکاری وفد تحریک انصاف سے کوئی ایسا وعدہ کرنے  میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے فریقین آج کسی معاہدے کا اعلان کرسکتے۔

اس تنازعہ کی واضح وجہ یہی دکھائی دیتی ہے کہ ماضی کے مقابلے میں سرکاری مؤقف سخت اور تلخ ہے۔ حکومت تحریک انصاف کو کوئی ایسی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہے جسے وہ اپنی فیس سیونگ کے لیے استعمال کرسکے ۔ اور نہ ہی تحریک انصاف ان بنیادی مطالبات سے  دست بردار ہونے  کے لیے تیار  ہے جن میں عمران خان کے حوالے سے رعایات کا معاملہ سر فہرست ہے۔

 ماضی قریب میں بھی دیکھا جاچکا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود عمران خان کو الشفا ہسپتال لے جانے پر آمادہ نہیں ہوئی تھی اور پمز میں ان کا  طبی معائنہ کروا کے انہیں واپس جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اب تو یہ معاملہ آئینی عدالت میں پہنچ چکا ہے اور تحریک انصاف کے پاس سپریم کورٹ کے حکم کی صورت میں کوئی مضبوط کارڈ بھی  نہیں ہے۔ آج کے اجلاس میں حکومت نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی طرف  احتجاجی مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا جائے اور خیبر پختون خوا کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جد و جہد میں زیادہ مستعد  کردار ادا کرے۔ سہیل آفریدی مسلسل ایسے بیان جاری کرنے سے باز رہیں جس میں مرکز یا اسٹبلشمنٹ سے کہاجاتا ہے کہ ان کی پالیسی غلط ہے اور وہ اس معاملہ سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے مشوروں پر عمل کریں۔ رانا ثنااللہ نے  یہ بھی واضح کیا ہے کہ حکومت کسی ایسے معاملے میں رعایت  نہیں دے سکتی جو عدالتوں میں زیر غور ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل راجہ سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے انصاف ملنا بنیادی مسئلہ  ہے۔ اس وقت عمران خان  کے علاج اور  جیل میں سہولتوں کا معاملہ چونکہ  عدالتوں ہی میں زیر غور ہے لہذا حکومت اس بارے میں کوئی باقاعدہ وعدہ کرنے سے گریز کرے گی۔  جبکہ دوسری طرف   تحریک انصاف اس وقت اسلام آباد کی طرف مارچ کو اپنا اہم ترین بارگیننگ کارڈ سمجھ رہی ہے۔ وہ بھی   کوئی ٹھوس سہولت ملنے تک اس احتجاج  کو منسوخ کرنے کا اعلان کرنے سے گریز کرے گی ۔

تاہم اس دوران آج راولپنڈی میں ہونے والے کور کمانڈر کانفرنس نے غیر معمولی طور سے سخت الفاظ میں کسی بھی پرتشدد احتجاج کو سختی سے کچلنے کا اعلان کیا ہے۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’ کسی بھی جواز پر، پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ساتھ بلاامتیاز اور بلا جھجھک نمٹا جائے گا‘۔ یہ اعلان درحقیقت اتوار کو اسلام آباد کی طرف تحریک انصاف کے مارچ کے خلاف سخت وارننگ کی حیثیت رکھتاہے۔ فوج نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ صورت حال  میں سیاسی احتجاج اور مطالبے منوانے کے نام پر توڑ پھوڑ کی  اجازت نہیں دی جاسکتی۔  ہفتہ کو جب تحریک انصاف کا وفد ایک بار پھر حکومتی نمائیندوں سے ملے گا تو اس کے سامنے پوری صورت حال زیادہ واضح انداز میں موجود ہوگی۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر سرکاری ارکان تحریک انصاف کو فوج کا پیغام پہنچاتے رہے ہیں تاہم کور کمانڈر کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جاری ہونے والا انتباہ صورت حال کی سنگینی اور ٹکراؤ کی خطرناک صورت حال کا اشارہ ہے۔ سانحہ 9 مئی فوج  کی دکھتی رگ بن چکا ہے اور اس پر ہونے والی سیاسی بیان بازی نے یہ معاملہ مزید پیچیدہ کیا ہے۔ ایسے موقع پر اب حکمران مسلم لیگ (ن) اور اس کی شریک اقتدار پیپلز پارٹی کو ہوشمندی سے کام لینے  کی ضرورت ہوگی۔

اب تک جو  حالات  دیکھنے میں آئے ہیں، ان میں ایک طرف تحریک انصاف میں  سیاسی بیانیہ انتہاپسند عناصر کے ہاتھوں میں ہے۔ اس میں سیاسی تدبر کی کمی محسوس کی جاسکتی  ہے۔ پارٹی کے معتبر اور سمجھدارلیڈر بھی اس بیانیہ کے سامنے خود کو بے بس  محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت  کی پالیسی بھی یہ رہی ہے کہ اگر فوج اور تحریک انصاف کے درمیان اختلافات بڑھتے ہیں یا کوئی نیا تصادم ہوتا ہے تواسی میں موجودہ حکومت کی بقا ہے۔ تاہم یہ سوچ شاید مکمل طور  سے درست نہیں ہے۔ اگر ملک میں بنیادی حقوق کے لیے کوشش کرنے والی ایک پارٹی کے ساتھ سرکاری اداروں کا تصادم ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں سیاسی حکمران  بھی متاثر ہوں گے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضہ تو   یہی ہے کہ  ایسے ٹکراؤ کو روکا جائے۔

کور کمانڈر کانفرنس کا انتباہ اگر تحریک انصاف کے لیے ہوشمندی سے کام لینے کا سبب بننا چاہئے تو حکومت کو بھی اس مشکل سے نکلنے کے لیے تحریک انصاف کے ساتھ صرف سیاسی فائدے کی بجائے ملک میں  جمہوری روایت کی بنیاد پر مفاہمانہ  رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ تحریک انصاف کے مطالبات ناجائز نہیں ہیں۔ عمران خان کے علاج کے لیے سپریم کورٹ بھی حکم جارہی کرچکی ہے۔ اس لیے  پی ٹی آئی اگر عمران خان کے  ہسپتال میں  داخلے کے عوض احتجاج ختم کرنے  پر آمادہ ہو تو حکومت کو یہ نیک قدم اٹھانے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ بعد از وقت پچھتانے سے اس وقت  دانشمندی سے کام لینا مناسب ہوگا۔