مذاکرات کے دوران تحریک انصاف اور حکومتی ارکان کی بیان بازی
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور آئین پاکستان اسے پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ چار اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے احتجاجی مارچ کا آغاز ہوگا اور یہ جدوجہد آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سہیل آفریدی کی پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے۔ مذاکرات کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات مذاکرات کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت مذاکرات کے حتمی مرحلے تک ایسی گفتگو سے گریز کرے جس سے مذاکرات کو نقصان پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ ’سہیل آفریدی کی مخالفین اور ہماری قیادت کے خلاف گفتگو کسی وزیراعلیٰ کے منصب کے شایانِ شان نہیں، سہیل آفریدی کی گفتگو انتہائی غیر شائستہ اور قابلِ مذمت ہے۔‘
اپنے ٹویٹ میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں، تاہم ان کے بقول عمران خان، ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کارکنوں کو قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے موجودہ حکمتِ عملی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق فوجی آپریشنز، نقل مکانی اور ڈرون حملے مسائل کا مستقل حل نہیں ہیں اور ان پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخوا سیاحت کے لیے جانے جاتے تھے، جبکہ موجودہ حالات میں صوبہ دوبارہ دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں امن و امان کے قیام کے لیے ایک صفحے پر ہیں تو پھر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کیوں بہتر نہیں ہو رہی۔
سہیل آفریدی نے نو مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریکِ انصاف ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دے گی۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام سے چار اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت پہنچنے کی اپیل بھی کی۔
واضح رہے یہ بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب تحریک انصاف اور حکومرت کے درمیان آج ہی مذاکرات کا دوسرا دور ہورہا ہے۔
مذاکرات میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ موجودہ سیاسی معاملات کا حل جمہوری انداز میں نکالا جائے تاکہ کشیدگی سے بچا جا سکے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے بقول مذاکراتی عمل کا مقصد مختلف معاملات کو میز پر لا کر زیر غور لانا اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔
جب شیری رحمان سے پوچھا گیا کہ ایک طرف مذاکرات ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ٹویٹ کر دیا ہے کہ وہ لانگ مارچ لے کر آ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت اپنی پارٹی پوزیشن پر بات کر سکتی ہے، تاہم مذاکرات سے متعلق امور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ فی الحال وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹویٹس یا بیانات پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل جاری ہے اور امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ ’امید پر دنیا قائم ہے، ہمیں امید ہے کہ چیزیں بہتر ہوں گی۔‘