اللہ جانے یہ ملک کیسے چل رہا ہے

پنجابی کی ایک کہاوت کا مفہوم ہے کہ یہ اندازہ لگانے کیلئے کہ چاولوں کی دیگ ٹھیک طرح سے پک گئی ہے یا ابھی کوئی کسر باقی ہے، اس میں سے صرف ایک  ’لپ‘ (لقمہ) چاول چکھنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کیلئے پوری دیگ نہیں کھائی جاتی۔

حکومتِ پنجاب کے جانب سے صوبہ بھر میں صفائی کے پروگرام کا نام  ’ستھرا پنجاب‘ ہے۔ اب اس پروگرام کے نام کو مدِنظر رکھتے ہوئے صوبہ بھر کی صفائی کا اندازہ لگانے کیلئے ضروری نہیں کہ پورے پنجاب کا شہر شہر، قصبہ قصبہ، گاؤں گاؤں، گلی گلی، کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ گھوم کر دیکھا جائے کہ پنجاب کتنا ستھرا ہے۔ آپ کو اس کا اندازہ اپنے اردگرد دیکھنے سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور اردگرد دیکھنے سے اس عاجز کو جو اندازہ ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ یا تو اس پروگرام کا نام تبدیل کر دیا جائے،اگر اس پروگرام کا نام تبدیل کرنا ممکن نہیں تو پھر لفظ  ’ستھرا‘ کے معنی ہی تبدیل کر دیے جائیں۔ کیونکہ بچپن سے لے کر اب تک پڑھنے،سننے اور دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ستھرا سے مراد انگریزی میں نیٹ اینڈ کلین،اردو میں صاف، شفاف،بے داغ اور اسی کے مترادف الفاظ کے ساتھ اس لفظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

پچھلے دنوں میں کئی دن کے بعد ملتان واپس آیا تو اپنے گھر کے باہر گلی میں لگے ہوئے ڈسٹ بِن کو دیکھا، جو گزشتہ چار پانچ روز کی غیر حاضری کے دوران نہ صرف یہ کہ اوپر تک بھر چکا تھا بلکہ نوبت یہ آ چکی تھی کہ ڈسٹ بِن کے اردگرد بھی کوڑا جمع ہو چکا تھا۔ اگر سرکار صفائی نہیں کر رہی تو اس کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں کہ میں تا دیر اسی گندگی کے ساتھ گزارا کروں۔ لہٰذا بابا شفیع کو کہا کہ میرے پیچھے اگر کوئی پرائیویٹ صفائی والا آئے تو پیسے دے کر یہ ڈسٹ بِن صاف کروا لینا۔ شام کو واپس آیا تو نہ صرف یہ کہ میرا ڈسٹ بِن صاف تھا بلکہ گلی میں لگے ہوئے باقی سب ڈسٹ بِن بھی صاف تھے۔ بابا شفیع نے بتایا کہ اس نے اتنے پیسے دے کر یہ سارا کوڑا صاف کروا لیا ہے۔ اپنے گھر کے باہر اور گلی کے دیگر گھروں کا سارا کوڑا کرکٹ اور کچرا پرائیویٹ صفائی کرنے والوں سے نقد ادائیگی پر صاف کروانے کے بعد میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر پنجاب کی حدود میری گلی تک مشتمل ہیں تو پھر پنجاب صرف ستھرا نہیں بہت ہی  ’ستھرا‘ ہے اور کم از کم اس گلی کے سارے ڈسٹ بِن دوبارہ بھر جانے تک ستھرا رہے گا۔

میں ایک وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ میں اس کالم کے زور پر اپنی گلی کی اہمیت بڑھاتے ہوئے، صفائی کے بہانے اسے پورا پنجاب قرار دے رہا ہوں تو خدانخواستہ میرے دماغ میں ایسا کوئی فتور نہیں ہے۔ تاہم آپ اسے میری کم علمی سمجھ لیں کہ میرے خیال میں اگر پنجاب ستھرا ہے تو صفائی کی حالیہ صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ حدود میری گلی کے ایک سرے سے شروع ہو کر دوسرے سرے پر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جونہی میں اپنی گلی سے نکل کر دائیں طرف گلشنِ مہر کالونی کی مرکزی سڑک پر مڑتا ہوں تو وہاں سے صاف ستھرے پنجاب کی حدود ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے آگے جو جگہ ہے اب اس کے بارے میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ پنجاب ہے تو ستھرا نہیں ہے اور اگر ستھرا نہیں ہے تو پھر ظاہر ہی پنجاب نہیں ہے۔ میرے لیے تو یہ انتہائی کنفیوز کرنے والی صورتحال ہے۔ گلی سے باہر نکل کر دائیں جانب مڑتے ہی اس کالونی کے ایم ڈی اے سے منظور شدہ نقشے کے مطابق، ڈسپنسری اور پوسٹ آفس کیلئے مختص پلاٹ خالی پڑا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں خالی پلاٹ غیر سرکاری کچرا ڈپو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس پلاٹ کا بھی یہی مصرف ہے اور اس میں مہینوں سے کچرا پڑا ہوا ہے۔ اس پلاٹ کے عین سامنے عرصۂ دراز سے کمرشل ایریا خالی پلاٹ کی صورت میں موجود تھا جس پر کچھ نان کمرشل قسم کی ناجائز تعمیرات ہو چکی ہیں۔ یہاں موجود ایک نامکمل چار دیواری کے اندر اور باہر ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ چہار سُو بکھرے اور اڑتے ہوئے لاتعداد پلاسٹک بیگ اور شاپر حکومت کی جانب سے پلاسٹک بیگز پر لگی پابندی کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔ میرا دل کرتا ہے کہ اس ساری صورتحال کی منظر کشی کرنے کیلئے ایک چھوٹی سی وڈیو بناؤں اور اسے کالم کے اختتام پر لگاؤں مگر افسوس کہ اس کام کیلئے فی الحال ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔

آپ یقین کریں، صفائی کی اس بری حالت کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی شخص  ’ستھرا پنجاب‘ کی بات کرے تو اس کی صرف تین وجوہات میں سے کوئی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ پہلی یہ کہ وہ شخص بینائی سے محروم ہو، دوسری یہ کہ وہ لفظ  ’ستھرا‘ کے مفہوم سے ہی لاعلم ہو اور تیسری وجہ یہ کہ وہ موجودہ حکمرانوں کیلئے رضاکارانہ صفائی کی خدمات پر مامور خودساختہ عملۂ صفائی کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کر رہا ہو۔ صفائی کی موجودہ صورتحال سے قطع نظر، میں یہ بات اپنے بہترین علم کے مطابق لکھ رہا ہوں کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھا کر صفائی کا نظام وضع کرنا حکومت پنجاب کا ایک مستحسن قدم تھا۔ سرکاری محکموں،افسروں اور اہلکاروں کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے اور ویسے بھی یہ کام براہِ راست سرکار کے کرنے کے ہیں بھی نہیں۔ حکومتوں کے کام نظام بنا کر اس کی نگرانی کرنا ہے نہ کہ گٹر صاف کرنا، کوڑا اٹھانا اور سبسڈی پر ٹرانسپورٹ کا نظام چلانا۔ دنیا بھر میں حکومتیں نظام بناتی ہیں اور اسے گنتی کے چند افسروں کے ذریعے ان کی نگرانی کرتے ہوئے کنٹرول کرتی ہیں۔

 ادھر یہ عالم ہے کہ جن جن محکموں کے کام نجی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کے حوالے کیے گئے ہیں ماضی میں اسی کام پر مامور پورے پورے محکمے بھی موجود ہیں۔ نوکر شاہی بھی اسی طرح موجود ہے اور ٹھیکیداری نظام بھی پوری شان و شوکت سے چل رہا ہے۔ کنٹریکٹر بھی سرکار سے پیسے جھاڑ رہا ہے اور افسر شاہی بھی تنخواہیں بٹور رہی ہے۔ نجی کمپنی بھی موجود ہے اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو بھی مزے کر رہا ہے۔ کوڑا اٹھانے پر مامور نجی کمپنیاں جنہیں اٹھائے جانے والے کوڑے کے وزن کے حساب سے ادائیگی کا فارمولا طے ہے،اپنی نگرانی کرنے والے سرکاری محکمے کے افسروں اور عملے کی ملی بھگت سے اپنے تفویض کردہ علاقے سے اٹھائے جانے والے حقیقی کوڑے کے نیچے مٹی، ریت، اینٹیں اور پتھر رکھ کر اس کا وزن بڑھا کر سرکار کو چونا لگا رہی ہیں۔ کاغذوں کی حد تک اٹھائے گئے کوڑے کے وزن کا اندراج اور اس کے عوض کی جانے والی ادائیگی کے اعداد و شمار کو سامنے رکھیں تو بعض شہروں میں اگلے کئی سال کا کوڑا اپنے پھینکے جانے سے بھی کہیں پہلے اٹھایا جا چکا ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ ادھر کاغذوں اور ادائیگی کی حد تک روزانہ کی بنیاد پر اٹھایا جانے والا کچرا اس شہر میں روزانہ کی بنیاد پر پھینکے جانے والے کچرے سے زیادہ ہے اور گلیاں، سڑکیں، محلے اور عام تام علاقے کچرے سے اَٹے پڑے ہیں۔ بالکل بلی اور دو کلو گوشت والا معاملہ ہے کہ بلی دو کلو گوشت کھا چکی ہے اور اس کو بعد از خوش خوراکی تولیں تو اس کا اپنا کل وزن بمشکل دو کلو بنتا ہے۔ اب اگر یہ بلی کا اپنا وزن ہے تو پھر سارے کا سارا گوشت کہاں ہے اور اگر یہ گوشت کا وزن ہے تو پھر بلی کہاں ہے؟

قارئین سے التماس ہے کہ میرے ملتان بلکہ گلی کی صورتحال پر لکھے گئے کالم پر جز بز نہ ہوں۔ دو تین کے استثنا سے،پنجاب بھر کے تمام شہروں،قصبوں، کالونیوں اور گلی محلوں میں صفائی کی یہی صورتحال ہے۔ پہلے سرکاری محکموں کا عملہ اور افسر سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کرتے تھے، اب نگرانی والے بعض افسر اور نجی کنٹریکٹر مل کر ڈاکا زنی پر اُتر آئے ہیں۔ کئی شہروں میں ٹھیکے منسوخ اور درجن بھر سرکاری افسر معطل ہو چکے ہیں۔ اس ملک میں نہ سرکاری نظام چل رہا ہے اور نہ ہی پرائیویٹ کمپنیوں پر مشتمل تھرڈ پارٹی بندوبست چل رہا ہے۔ اللہ جانے یہ ملک کیسے چل رہا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)