کیا برف پگھل رہی ہے؟
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 03 / اکتوبر / 2026
کیا برف پگھل رہی ہے؟ کیا واقعی پگھل جائے گی؟ کیا ڈیڈ لاک ٹوٹ جائے گا؟ کیا واقعی ٹوٹ جائے گا؟ اِس وقت ملک اِن سوالات کی زد میں ہے۔
سب سے بڑا اشارہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی طرف سے ملا جنہوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سخت لب و لہجہ اختیار کرنے کی بجائے یہ کہا کہ سیاست سیاسی جماعتوں کا کام ہے ہمارا اِس سے کوئی لینا دینا نہیں،اگرچہ وہ یہ بات پہلے بھی کرتے رہے ہیں،مگر اُن پریس کانفرنسوں میں دوسری طرف سخت لب و لہجہ بھی نظر آتا تھا۔خیر یہ ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔تیسری خبر یہ آئی کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ان معاملات پر تفصیلی ملاقات ہوئی اور ذرائع بتاتے ہیں کہ دونوں شخصیات نے اس پر اتفاقِ کیا ہے کہ اب صورتِ حال کو زیادہ عرصے تک جوں کا توں نہیں رکھا جا سکتا۔ اس لئے آگے بڑھنا ہو گا اور آگے بڑھنے کا راستہ نکالنا ہو گا۔
اگر یہ سارے قیاس اس طرح ہیں اور واقعی اعلیٰ سطح پر اِس کا احساس ہو گیا ہے کہ بڑے فیصلے کرنا ہوں گے تو پھر اچھی خبروں کا انتظار کرنا چاہئے۔اِس سے پہلے جو خبریں آ رہی تھیں وہ کوئی اتنی خوش آئند نہیں تھیں۔ مثلاً ایمرجنسی کا نفاذ یا گورنر راج کی خیبرپختونخوا میں آمد،اس سے حالات میں بہتری نہیں آنی تھی بلکہ مزید ابتری پیدا ہو سکتی تھی۔اگر ان آپشنز کو بند کر دیا گیا ہے تو یہ بہت بڑی داشمندی کی گئی ہے۔ جب عوام کی مرضی و منشا واضح نظر آ رہی ہو تو اُس کے خلاف کوئی بھی قدم انتشار کو جنم دیتا ہے، انتظار ختم نہیں کرتا۔ تحریک انصاف کو بھی اب ایک واضح موقف کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی سیاست عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔ انہیں ریلیف دلوانا اور اُن کا علاج کرانا اس کی پہلی ترجیح ہے۔ یہ کوئی ایسے بڑے معاملات بھی نہیں کہ جن پر آگے نہ بڑھا جا سکے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اسیری بھی ایک اہم ایشوز ہے۔ اُس پر بھی بات ہو گی اور ہونی بھی چاہئے۔ کم از کم اُن کے کیسز کی عدالتوں میں جلد سماعت بہت سی برف پگھلا سکتی ہے۔
اس سارے عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ملک میں جو کشیدہ فضااور بے یقینی ہے اُس کا خاتمہ ہو سکے گا۔ایک طرف سے لانگ مارچ کی ضد اور دوسری طرف سے اُسے ہر قیمت پر روکنے کی حکمت عملی ملک کو بہت نقصان پہنچا رہی ہے۔خاص طور پر معیشت کی حالت دن بدن دِگرگوں ہو رہی ہے اور سرمایہ کاری کے دروازے بند پڑے ہیں۔ حکومت کے پاس خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے کیلئے بہت زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔ کوئی ایک اچھا اور بڑا فیصلہ سارے ماحول کو تبدیل کر دیتا ہے۔ تحریک انصاف کو اُس دباؤ سے نکالنے کی ضرورت ہے جس کا وہ چار سال سے شکار ہے۔اِس دباؤ کا حکومت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔آواز دبانے یا بندے گرفتار کرنے سے ایشوز ختم نہیں ہوتے، تھوڑی سی نارمل فضا واپس آئے گی تو حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اِس وقت اقتدار میں ہیں دونوں کے پاس صدارت اور وزارتِ عظمیٰ موجود ہے۔ دونوں کو معلوم ہے کہ پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کی کیا اہمیت ہے، دونوں نے سرد و گرم دیکھے ہوئے ہیں، پھر آصف زرداری جیسے زیرک اور تجربہ کار سیاستدان کی وجہ سے کسی بھی ڈیڈ لاک کو توڑنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ یہ ہر وقت کچھ ہو جانے کا خوف اور مقابلہ بازی مسئلے کا حل نہیں۔ پوری دنیا میں اس سیاسی گمشدگی کی باز گشت موجود ہے۔ عمران خان کی شخصیت کا عالمی حوالہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔گزشتہ دو برسوں میں موجودہ حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری لانے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا۔ عالمی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں، انہیں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی یقین دہانیاں بھی کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔قرضہ آسمان تک پہنچ گیا ہے اور مزید قرضے کیلئے در بند ہوتے جا رہے ہیں۔ باتوں سے ملک نہیں چلتے، زمینی حقیقتوں کو پیش ِ نظر رکھ کر فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ریاست ہے تو سیاست ہے۔ جب ریاست ہی مشکلات میں گھری ہوئی ہے تو بڑے اور جرأت مندانہ فیصلے کیوں نہ کیے جائیں۔ سب اپنے ہیں اور سبھی کی وابستگی پاکستان سے ہے۔ دنیا میں بڑے سے بڑا اختلاف دو ملکوں کے درمیان بھی ہو تو بات چیت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے داخلی اختلافات بھی حل کرنے کیلئے میز پر بیٹھنا توہین کے زمرے میں آتا ہے۔یہ صورتِ حال ہم بلوچستان میں بھی دیکھ رہے ہیں اور اب خیبرپختونخوا کے حوالے سے بھی ایسے فیصلوں کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جنکے نتائج کبھی اچھے نہیں نکلے۔ سیاست اور جمہوریت کچھ دو کچھ لو کا نام ہے اس پر یکطرفہ موقف کبھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا۔
پوری قوم کی دُعا اور امید یہی ہے کہ ملک اس ڈیڈ لاک سے نکلے، جس نے راستے روک رکھے ہیں۔ خلوصِ نیت اور کھلے دِل کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں گے تو اچھی خبریں آئیں گی۔اگر صرف وقت گزاری کی نیت سے یہ مذاکرات کئے جاتے ہیں تو ان کی ناکامی کے بعد مزید فاصلے بڑھیں گے اور پھر نجانے کب دوبارہ بیٹھنے کا موقع ملے۔موجودہ صورتحال میں لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ بھی اس سارے عمل میں آن بورڈ ہے۔ یوں خوشخبری کے آنے کی اُمید رکھی جا سکتی ہے۔اڈیالہ بھی کوئی بہت دور نہیں،بس دِل کا دائرہ بڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر ایک موثر ثالث کے طور پر شناخت اور پذیرائی ملی ہے اُس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ہمارے متحد اور یکجان ہونے کا پیغام ملے۔بھارت ہماری معمولی باتوں کو ہمارے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے،اس کوشش میں منہ کی بھی کھاتا ہے، جیسے مقبوضہ کشمیر میں شہید کئے جانے والے ریٹائرڈ حوالدار کے حوالے سے اُس کا جھوٹ آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے حوالدار محمد آصف کو پیش کر کے پوری دنیا میں بے نقاب کر دیا۔
جب دشمن ہمارے ہمسائے میں بیٹھا ہو تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے داخلی مسائل پر قابو پا کر اسے منہ توڑ جواب دیں۔اُمید ہے جمہوری اور قومی جذبے کے ساتھ حکومت اور اپوزیشن مسائل کا حل نکالیں گی اور ملک کسی بحران سے دوچار نہیں ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)