پختونخوا۔ اصل تنازعہ کیا ہے؟
- تحریر سلیم صافی
- ہفتہ 03 / اکتوبر / 2026
نہیں نہیں ۔ اصل تنازع لانگ مارچ کا نہیں۔ میڈیا اور سیاسی نشستوں میں بڑا ایشو ضرور لانگ مارچ بن گیا ہے لیکن اصل تنازع لانگ مارچ نہیں بلکہ دہشت گردی کاہے۔ لانگ مارچ نے معاملے کو گرما ضرور دیا ہے لیکن دہشت گردی کے ایشو پر کھچڑی ایک عرصےسے پک رہی تھی۔
جس کی سنگینی کا شاید سیاستدانوں کو پوری طرح ادراک نہیں ۔ لانگ مارچ تو چند روز کا ایونٹ ہے جو جیسے تیسے گزر جائے گا لیکن دہشت گردی مستقل دردسر ہے ۔ یہ مرکز کے سیاستدانوں کیلئے کئی ایشوز میں سے ایک ہے لیکن خیبر پختونخوا میں عوام اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے یہ مسئلہ زندگی اور موت یا پھر ملکی بقا اور پناہ کا ایشو ہے۔ لیکن اس پر پی ٹی آئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا موقف اور بیانیہ ایک نہیں ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے چالیس میں سے گیارہ اضلاع میں عملاََ ٹی ٹی پی کا سکہ چلتا ہے ۔ باقی ماندہ اضلاع میں بھی وہ کارروائیاں کر سکتے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ اسے صحیح طریقے سے ڈیل کررہی ہے یا غلط طریقے سے لیکن بہر حال اس کیلئے یہ سرفہرست اور زندگی موت کا ایشو ہے۔ جبکہ بوجوہ پی ٹی آئی حکومت کی ترجیحات میں وہ سرفہرست نہیں۔ وجہ خوف ہے یا اسٹیبلشمنٹ سے ناراضی ، لیکن وہاں کی حکومت نے اپنے آپ کو اس مسئلے سے لاتعلق کر لیا ہے ۔ یہ مسئلہ تنازعے کی اصل جڑ ہے اوربیانیے کے اس تضاد کی کئی جہتیں ہیں ۔
مثلاََ پاکستانی ریاست اس وقت افغانستان کی طالبان حکومت کو ایک حریف حکومت سمجھتی ہے ۔ ریاست کا بیانیہ ہے کہ طالبان رجیم انڈیا وغیرہ کے ہاتھوں میں کھیل کر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو سپورٹ کررہی ہے ۔ وہ وقتاََ فوقتاََ فضائی حملوں سے افغانستان میں اپنی دانست کے مطابق ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ جواب میں طالبان پاکستان میں ڈرونز اور ٹی ٹی پی کی تشکیلات بھیجتے ہیں ۔ ریاست کہتی ہے کہ ہم نے افغان طالبان کے ساتھ براہ راست بھی مذاکرات کئے اور عالمی ثالثوں کے ذریعے بھی کوششیں ہوئیں لیکن افغان طالبان پاکستانی ریاست کا مطالبہ ماننے کو تیار نہیں اس لئے ہمارے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ۔ لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی کی حکومت اس بیانیے کی ہمنوا نہیں۔ وہ طالبان رجیم سے معاملات کی خرابی کا ذمہ دار وفاقی حکومت یا پھر باقی صوبائی حکومتوں کی طرح طالبان رجیم کو نہیں سمجھتی ۔ الٹا پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ پاکستان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے طالبان رجیم سے تعلقات خراب ہیں۔ اس کا ایک عملی مظاہرہ افغانستان کے طالبان کے یوم فتح کی تقریب کی صورت میں سامنے آیا کہ اس سلسلے میں اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی حکومت یاتین صوبائی حکومتوں کا کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا لیکن پی ٹی آئی ، جے یو آئی اور محمود خان اچکزئی دھوم دھام سے شریک ہوئے ۔
اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ محمود خان اچکزئی اور جے یو آئی تو اپوزیشن میں ہیں لیکن کے پی میں حکومت ہونے کے ناطے پی ٹی آئی ریاست کا حصہ ہے اور اس کی شرکت سے ریاست کو خفت اٹھانی پڑی۔ پھر جب افغان طالبان پی ٹی آئی کے موقف کو اپنے موقف کیلئے بطور دلیل استعمال کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کی صفوں میں غصہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایک طرف ٹی ٹی پی کی کارروائیاں جاری ہیں تو دوسری طرف فوج اور ایف سی اس کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کررہی ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی فوج اور ایف سی کے کردار کو اس طرح اون نہیں کررہی جس طرح کہ وفاقی حکومت یا باقی تین صوبائی حکومتیں کرتی ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کو یہ شکایت ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی بجائے کنفیوژن پھیلارہی ہے ۔ عوامی سطح پر وہ طالبائزیشن کیلئے یہ دلیل دیتی ہے کہ یہ سب کچھ بند کمروں میں بننے والی پالیسیوں کی وجہ سے ہورہا ہے لیکن متبادل حل پیش کرنے کی بجائے صرف اس فقرے سے جان چھڑا لیتی ہے کہ مذاکرات ہر مسئلے کا حل ہیں ۔
اسٹیبلشمنٹ یہ بھی الزام لگارہی ہے کہ نجی محفلوں میں پی ٹی آئی کے حکومتی عہدیدار یہاں تک الزام لگاتے ہیں کہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کا اپنا بنایا ہوا کھیل ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایک دن کسی کرنل ، دوسرے دن کسی میجر یا پھر کسی کپتان کی لاشیں وصول کررہی ہے اور دوسری طرف جب ایک صوبائی حکومت اس طرح کا رویہ اپناتی ہے تو ان کی صفوں میں غصہ جنم لیتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کا رویہ ان کے شہدا کی توہین اور ان کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
ایک وقت میں فوج نے وادی تیراہ سے عام لوگوں کو نکال دیا جو وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا حلقہ انتخاب ہے اور وہاں پر طالبان کا سکہ چلتا ہے۔ اور شاید بڑے آپریشن کی تیاری ہوگئی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے جو فضا بنا دی اس کی وجہ سے آپریشن نہ ہوسکا۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے افغان طالبان یا پاکستانی طالبان سے متعلق وہی بیانیہ اپنایا ہوا ہے جو عمران خان کا تھا۔ آج سے چار سال قبل طالبان اور خصوصاََ افغان طالبان سے متعلق ریاست کا بیانیہ بھی فرینڈلی تھا ۔ عمران خان اس بیانیے کے ساتھ جیل گئے تھے لیکن اس دوران جو تبدیلی آئی ہے اس سے متعلق نہ جانے عمران خان نے بھی اپنا بیانیہ تبدیل کیا ہے یا نہیں لیکن پی ٹی آئی کو تو ان کا وہ بیانیہ یاد ہے جو ان کےجیل جانے سے پہلے تھا۔ چنانچہ ریاست کے بیانیے میں جو تبدیلی آئی اس حساب سے پی ٹی آئی کا بیانیہ تبدیل نہیں ہوا۔
اسٹیبلشمنٹ کے ہاں یہ سوچ ہے کہ امن و امان کا مسئلہ بلوچستان میں بھی سنگین ہے لیکن وہاں پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی ریاستی اقدامات کو نہ صرف پوری طرح اون کررہے ہیں بلکہ وہ سیکورٹی فورسز سے بھی دو قدم آگے ہیں ۔ لیکن پختونخوا میں ایسی صورتحال نہیں اور پولیس کو بھی قیادت فراہم نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے بنوں اور لکی مروت میں پولیس بغاوت پر اتر آئی۔ وزیراعلیٰ دشت گردی کے مسئلے کو ترجیحات میں سرفہرست رکھ کر اس سے پہلو تہی کررہے ہیں اور اب لانگ مارچ کا اعلان کرکے خود امن و امان کا مسئلہ سنگین تر بنارہے ہیں۔
ان گزارشات سے میرا مقصود یہ واضح کرنا نہیں تھا کہ کس کا موقف درست اور کس کا غلط ہے ۔ زندگی نے مہلت دی تو اس سے متعلق اظہار خیال کروں گا لیکن سردست میں یہ نکتہ واضح کرنا چاہ رہا تھا کہ لانگ مارچ بھی ایک ایشو ہے لیکن پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے مابین اصل تنازع دہشت گردی سے متعلق ہے ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)