سیاسی شہید بننے کی تمنا ، مفاہمت میں رکاوٹ ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 03 / اکتوبر / 2026
حکومتی پارٹیوں اور تحریک انصاف کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات رات گئے تک بے نتیجہ تھے۔ اگرچہ اس بارے میں سوشل میڈیا پر متعدد خبریں گشت کرتی رہی ہیں۔ تاہم ان میں زیادہ تر غیر مصدقہ اور بے بنیاد ہیں۔ ان مذاکرات کا محور اتوار سے شروع ہونے والا احتجاجی مارچ ہے جسے بالآخر اسلام آباد پہنچنا ہے۔ تحریک انصاف کسی واضح اور قابل قبول پیش کش کے بغیر یہ احتجاج ختم کرنے سے انکار کررہی ہے۔
ایک اطلاع کے مطابق اس بات پر اتفاق پیدا ہؤا تھا کہ حکومت خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے لیڈروں کی ملاقات اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے کرا دے تو پارٹی احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردے گی۔ البتہ نہ تحریک انصاف احتجاج ختم کرنے کا واضح اعلان کررہی ہے اور نہ ہی حکومت یہ واضح کر پائی ہے کہ وہ کن کن لیڈروں کی عمران خان سے ملاقات کرا ئے گی۔ حکومت یوں بھی اس معاملہ میں زیادہ بااختیار نہیں ہے لیکن تحریک انصاف یہ دعویٰ کرکے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے کہ احتجاج سمیت مستقبل کی حتمی سیاسی حکمت عملی کا فیصلہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔
اس دوران مشترکہ اعلامیہ کا مسودہ بھی زیر غور رہا ہے جسے لے کر وزیر داخلہ ایون صدر اور وزیر اعظم ہاؤس میں مشاورت بھی کرچکے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ فریقین کی ترجیحات میں بہت فاصلہ ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے علاوہ تحریک انصاف کی بھی یہ امید و توقع ہے کہ کسی بھی طرح حکومت کو خیبر پختون خوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے سے باز رکھا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سہیل آفریدی سمیت بعض ایسے لیڈر بھی سرگرم ہیں جو شاید سیاسی شہید بن کر اپنے مستقبل کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہیں۔
اوّل تو حکومت اور تحریک انصاف نے مذاکرات شروع کرنے میں بہت دیر کردی۔ حالانکہ طرفین کے درمیان کافی مدت سے رابطے بحال تھے لیکن پی ٹی آئی کی صفوں میں بے یقینی اور مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب یہ رابطے باقاعدہ مذاکرات کی شکل اختیار نہیں کرسکے۔ اس تگ و دو میں 27 ستمبر کو شروع ہونے والا لانگ مارچ 4 مارچ تک ملتوی ہؤا لیکن تحریک انصاف کے اعتدال پسند لیڈروں کو باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی اور دونوں طرف کے وفود جمعہ کے روز پہلی بار ایک دوسرے سے ملاقات کرپائے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والی اس ملاقات میں ایک د وسرے سے گلے شکووں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔ ہفتہ کے روز ہونے والی بات چیت میں بھی یہ صورت حال برقرار رہی۔ تحریک انصاف کی مشکل اس وقت زیادہ قابل رحم لگتی ہے۔ وہ احتجاج کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا انتظام کرنے میں ناکام ہے۔ خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی بھی صوبے سے پارٹی تنظیم کارکنوں کو باہر نکالنے یا جلوس کی صورت میں اسلام آباد لانے پر آمادہ نہیں کرسکی۔ لے دے کے بس خیبر پختون خوا کی حکومت اور سہیل آفریدی کی صلاحیت کا سہارا تھا لیکن صوبائی انتظامیہ پر وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کی گرفت کمزور ہے ۔ اس پر مستزاد اسلام آباد ہائی کورٹ نے کے پی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے یہ حلف نامے لے رکھے ہیں کہ وہ اپنے صوبے میں کسی غیر قانونی کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔ صوبائی حکومت کے مالی وسائل یا سرکاری ملازمین کو اس احتجاج میں استعمال نہیں کیاجائے گا۔ نومبر 2024 میں علی امین گنڈا پور احتجاجی لانگ مارچ لے کر اسلام آباد آئے تھے تو اس وقت انہیں صوبائی وسائل پر پورا اختیار تھا۔ تاہم اس کے باوجود اس وقت بھی لوگوں کی بڑی تعداد کو گھروں سے باہر نہیں نکالا جاسکا تھا۔
اب صورت حال کئی لحاظ سے تبدیل ہوچکی ہے۔ تحریک انصاف اور سہیل آفریدی اگرچہ پی ٹی آئی کو ملک کی سب سے بڑی اور مقبول پارٹی قرار دیتے ہیں اور کسی حد تک عوام میں عمران خان کے لیے ہمدردی بھی موجود ہے لیکن یہ ہمدردی باقاعدہ احتجاج کی شکل میں تبدیل ہونے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ سہیل آفریدی کو خیبر پختون خوا میں بھی پارٹی کارکنوں کی حد تک ویسی ہی صورت حال کا سامنا ہے جو انہیں سندھ اور پنجاب کے دوران دیکھنے کو ملی تھی۔ خیبر پختون خوا کے عوام کو ایک تو تحریک انصاف کی حکومت کوئی سہولتیں نہیں دے سکی ، دوسرے دہشت گردی کی موجودہ صورت حال بھی ان کے لیے پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ سہیل آفریدی اور ان کی صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے میں عوام کی بے چینی کو سمجھنے کی بجائے، اس معاملہ کو اسٹبلشمنٹ کے خلاف محاذ آرائی کے لیے استعمال کرنے کے خواہاں ہیں۔ قومی اسمبلی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی اصل تنازعہ دہشت گردی کے معاملہ پر خیبر پختون خوا حکومت اور تحریک انصاف کا بیانیہ رہاہے۔ پارٹی کا وفد اس معاملہ پر کوئی دو ٹوک رائے دینے پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ دوسری طرف خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ 4 مارچ کے احتجاج کو کامیاب بنانے کی دھن میں دہشت گردی جیسے حساس موضوع پر سیاست کرنے سے باز نہیں آتے۔
اسی لیے سہیل آفریدی نے آج صبح ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں نہ صرف اتوار کو لانگ مارچ شروع کرنے پر اصرار کیا بلکہ ایک بار پھر صوبے میں رونما ہونے والی دہشت گردی کو فوج اور حکومت کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا۔ شدید تشدد اور دہشت گرد حملوں کا شکار کسی صوبے کی حکومت کو اگر پالیسی معاملہ پر مرکزی حکومت سے اختلاف ہو بھی تو اسے پبلک بیانات میں ظاہر کرنے کی بجائے ، دو بدو ملاقاتوں میں پیش کرکے کسی قابل قبول حل تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ اس بارے میں کسی مفاہمت پر آمادہ نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کے باقی لیڈر اس تنازعہ میں محض تماشائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سہیل آفریدی نے آج اپنے ٹوئٹ میں لانگ مارچ کے علاوہ دہشت گردی جیسے حساس معاملہ پر جیسے غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی ہے۔ اس سے ان کی بے بسی و لاچاری کے علاوہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ شاید ذہنی طور سے وفاقی حکومت کے کسی انتہائی اقدام کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس راستے کو ’سیاسی شہید‘ بننے کا موقع سمجھنے لگے ہیں۔
سہیل آفریدی شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملک کے واحد صوبے میں حکومت سے محروم ہوجانے کے بعد تحریک انصاف بالکل بے دست و پا ہوجائے گی۔ اور اس کے پاس حکومت کو دباؤ میں لانے کا کوئی بھی ذریعہ موجود نہیں رہے گا۔ سہیل آفریدی کا خیال ہے کہ ایسے اقدام سے وہ شاید عمران خان کے زیادہ قریب ہوجائیں گے اور ناقص کارکردگی کے باوجود نئے انتخابات میں پارٹی کو جتوانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ لیکن ایسا سوچنا دیوانے کے خواب جیسا ہے کیوں کہ تحریک انصاف سمیت ملک میں کوئی بھی نئے انتخابات کی تو بات ہی نہیں کرتا۔ سہیل آفریدی کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کم از کم کون سے مطالبات کے لیے اسٹبلشمنٹ یا وفاقی حکومت سے ٹکرانے کی بات کررہے ہیں۔
آج بھی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ’جدوجہد آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گی‘۔ یہ نعرہ اس قدر مبہم ہے کہ جسے کسی بھی سنجیدہ مذاکرات میں بنیادی مطالبہ کے طور پر پیش کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف نے یہ طرز عمل برقرار رکھا تو موجودہ مذاکرات بے نتیجہ ہی رہیں گے۔