ایک ڈاکٹر کی ڈائری

یہ کیفیت گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے مگر میں اسے کوئی نام نہیں دے سکا۔ پہلے پہل میں نے اسے وہم سمجھ کر جھٹک دیا تھا، سوچا کہ تھکن کا اثر ہو گا، دو چار دن میں جاتا رہے گا مگر جب اس کا دورانیہ بڑھنے لگا تو مجھے تشویش ہوئی۔

ابتدا میں یہ سب صرف نیند میں ہوتا تھا۔ رات کے پچھلے پہر، اچانک مجھے محسوس ہوتا کہ کسی نے میری گردن دبوچ لی ہے۔ سانس رکنے لگتا، میں پورا زور لگا کر ہوا اندر کھینچتا مگر وہ حلق سے نیچے نہ اترتی۔ سینے پر گویا کوئی بلا آ بیٹھتی جس کے بوجھ تلے پسلیاں چٹخنے لگتیں اور سارا بدن پسینے میں نہا جاتا۔ پھر کسی ایک لمحے میں وہ گرفت ڈھیلی پڑتی، میرے دم میں دم آتا اور ابھی میں سنبھلنے بھی نہ پاتا کہ وہی حالت دوبارہ طاری ہو جاتی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا، دیر تک ہانپتا رہتا، سرہانے رکھے گلاس سے پانی کے دو گھونٹ پیتا اور چھت پر گھومتے پنکھے کو تکتے ہوئے شکر کرتا کہ یہ محض خواب تھا۔ لیکن پھر سوچتا کہ یہ کیسا خواب تھا جس میں میرا بدن پسینے سے شرابور ہو جاتا ہے۔

رفتہ رفتہ یہ بلا رات کی قید سے آزاد ہو گئی اور دن دیہاڑے آنے لگی۔ میں کسی محفل میں بیٹھا ہوتا، کوئی بات کہنے کے لیے منہ کھولتا اور ٹھیک اسی لمحے مجھے لگتا کہ میرا گلا جکڑا گیا ہے۔ جملہ ادھورا رہ جاتا، آواز بیٹھ جاتی اور میں کھانسنے لگتا۔ اِسی دوران محفل میں کوئی اور بات شروع ہو جاتی۔ ایک دوست نے اسے میری بڑھتی ہوئی سگریٹ نوشی پر محمول کیا لیکن نہ جانے کیوں یہ سگریٹ نوشی والی بات مجھے قائل نہ کر سکی۔ یہ کیفیت کبھی کبھی یونہی اچانک وارد ہو جاتی، اِس کے لیے بولنا بھی شرط نہ ہوتا۔ میں صبح کا اخبار پڑھ رہا ہوتا یا راہ چلتے کوئی منظر دیکھ کر دل ہی دل میں کچھ کہنے کو ہوتا کہ حلق تنگ ہونے لگتا۔ میں نے اس کا ایک توڑ بھی ڈھونڈ نکالا۔ جونہی دم گھٹنے لگتا، میں یہ خیال ہی ذہن سے نکال دیتا کہ میرا سانس اُکھڑ رہا ہے۔ اس سے فوراً راحت مل جاتی، ایسے جیسے کسی نے شکنجہ کھول دیا ہو۔ لیکن مجھے اندازہ تھا کہ یہ آرام وقتی ہے۔ انہی دنوں میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ بازار میں، دفتروں میں، شادی بیاہ کی تقریبات میں، ہر جگہ وہ مجھے بھلے چنگے دکھائی دیتے۔ بظاہر انہیں سانس لینے میں کوئی دشواری نہ تھی۔ وہ تندرست آدمیوں کی طرح بے روک ٹوک بولتے، قہقہے لگاتے، مہنگائی کا رونا روتے، کرکٹ پر بحث کرتے اور کسی کی آواز ایک بار بھی نہ بھراتی۔ کم از کم دیکھنے میں تو ایسا ہی لگتا تھا۔ بعض اوقات مجھے شبہ سا ہوتا کہ اِن میں سے کچھ لوگ میری طرح اِس مرض میں مبتلا ہیں مگر پوچھنے کی ہمت نہ پڑتی۔ بھلا کوئی کسی سے کیسے پوچھے کہ کیا کوئی رات کو سوتے میں آپ کا گلا دباتا ہے؟

ایک روز میں سرکاری ڈاکٹر کے پاس جا پہنچا۔ اس کا کمرہ خاصا کشادہ تھا۔ میز پر فائلوں کا ڈھیر لگا تھا اور دیوار پر ایک پرانا گھڑیال لٹک رہا تھا۔ فائلوں کے انبار کی مجھے سمجھ نہ آئی۔ وہاں نہ مریض کے لیٹنے کا بستر نظر آیا اور نہ دواؤں کی الماری۔ میرا خیال تھا کہ وہ نبض دیکھے گا، حلق میں روشنی ڈالے گا یا سینے پر آلہ لگا کر سانس کی آواز سنے گا مگر اس نے ایسی کوئی جلدی نہ دکھائی۔ معائنے سے پہلے اس نے دراز سے ایک موٹی سی ڈائری نکالی اور میرے کوائف پوچھنے لگا۔ نام، ولدیت، شناختی کارڈ کا نمبر، گھر کا پتا، تعلیم۔ میں بتاتا گیا اور وہ بڑی احتیاط سے لکھتا گیا۔ پھر اس نے میرے پیشے کی بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا، اس کے بعد وہ کرسی پر پیچھے ہو کر بیٹھ گیا اور پوچھنے لگا کہ میرے خیال میں ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ عجیب سوال تھا۔ اگر مجھے وجہ معلوم ہوتی تو میں اس کے پاس آتا ہی کیوں؟ مرض ڈھونڈنا تو اس کا کام تھا۔ بہرحال جو محسوس کرتا تھا وہ میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ کوئی بلا مجھ پر مسلّط ہے جو سانس لینے سے روکنا چاہتی ہے۔

ڈاکٹر نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ مجھے غور سے دیکھتا رہا جیسے مرض کو نہیں، مریض کو ٹٹول رہا ہو۔ اُس کی نظریں میرے اندر کھُبی جا رہی تھیں۔ پھر سوالوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ میں کن لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہوں، فارغ وقت میں کیا کرتا ہوں، کیا پڑھتا ہوں، رات کو کتنے بجے سوتا ہوں، یہ تکلیف پہلی بار کب ہوئی تھی اور اس وقت میں کیا سوچ رہا تھا۔ ہر جواب ڈائری میں درج ہوتا رہا۔ میں نے باتوں کے جواب تو دیے مگر کچھ سمجھ نہیں پایا کہ ان کا میرے گلے سے کیا تعلق ہے مگر میں کچھ کہہ نہ سکا۔ آخر میں اس نے نسخہ لکھ کر میری طرف بڑھایا اور تاکید کی کہ دوا ناغہ کیے بغیر کھاؤں، زیادہ سوچنے اور زیادہ بولنے سے پرہیز کروں، اور دو ہفتے بعد دوبارہ آؤں۔ میں نسخہ جیب میں ڈال کر دروازے تک پہنچا تو پلٹ کر ایک نظر ڈالی۔ وہ اب بھی سر جھکائے ڈائری میں کچھ لکھ رہا تھا۔

دوا میں نے پابندی سے کھائی مگر افاقہ تو کیا ہوتا، حالت پہلے سے بھی ابتر ہو گئی۔ وہ بلا جو اب تک کبھی کبھار آ کر گلا دباتی تھی، سائے کی طرح ہر وقت میرے پیچھے رہنے لگی۔ گلی میں چلتا تو قدموں کی چاپ سنائی دیتی لیکن مڑ کر دیکھتا تو کوئی نہ ہوتا۔ کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوتا تو گدی پر کسی کی نظریں چبھتی ہوئی محسوس ہوتیں۔ رات کو میں نے سونا تقریباً چھوڑ دیا۔ ڈر تھا کہ آنکھ لگی تو کہیں سوتے میں ہی دم نہ نکل جائے۔ رہی سہی کسر لکنت نے پوری کر دی۔ بات شروع کرتا تو لفظ حلق میں اٹک جاتے، سیدھا سادہ جملہ ادا کرنے میں کئی کئی بار رکنا پڑتا حالانکہ عمر بھر میری زبان کبھی نہ لڑکھڑائی تھی۔ اس بے بسی پر مجھے خود پر غصہ آنے لگا۔ سانس لینا انسان پیدا ہوتے ہی سیکھ لیتا ہے اور بولنا دو ڈھائی برس کی عمر میں اور ایک میں تھا کہ اس عمر کو پہنچ کر ان دونوں کاموں سے عاجز ہو گیا تھا۔

دو ہفتے پورے ہوئے تو میں پھر ڈاکٹر کے سامنے بیٹھا تھا۔ میں نے سارا حال کہہ سنایا۔ اس نے بڑے تحمل سے میری بات سنی، ایک آدھ جگہ ڈائری میں کچھ لکھا بھی اور پھر اس لہجے میں، جس میں فیصلے سنائے جاتے ہیں، کہا کہ مرض بڑھ چکا ہے، گھر پر علاج ممکن نہیں رہا، مجھے اسپتال میں داخل ہونا پڑے گا۔ میں سٹپٹا گیا۔ کہنا چاہا کہ مجھے کچھ مہلت دی جائے، گھر والوں کو خبر تو کر دوں، دو جوڑے کپڑے ہی لے آؤں، مگر اس سے پہلے کہ میں اپنا مدعا بیان کر پاتا، دروازہ کھلا اور دو آدمی اندر آ گئے۔ یوں لگا جیسے وہ پہلے سے دروازے کے پیچھے کھڑے اسی اشارے کے منتظر تھے۔ انہوں نے کوئی بات نہ کی، بس دائیں بائیں سے میری بغلوں میں ہاتھ ڈالے اور مجھے کرسی سے اٹھا لیا۔ خدا جانے کیا ہوا کہ مجھ سے ذرا سی مزاحمت بھی نہ ہو سکی۔ زبان گنگ تھی، ٹانگوں میں جان نہ رہی تھی۔ اس کے وہ اہلکار مجھے راہداری سے گزار کر باہر لائے اور ایک ایسی گاڑی میں بٹھا دیا جس پر نہ کسی اسپتال کا نام لکھا تھا نہ کوئی نشان بنا تھا۔ خاصی دیر بعد گاڑی رکی، ایک آہنی پھاٹک چرچرا کر کھلا اور ہمارے پیچھے بند ہو گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ اسپتال آ گیا ہے۔

اب میں اسی اسپتال میں ہوں۔ مجھے یہاں آئے کتنے دن ہوئے، ٹھیک سے یاد نہیں کہ ان دیواروں پر نہ کیلنڈر ہے نہ گھڑی۔ میں اکیلا نہیں ہوں، میری طرح کے اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ ایک لمبے سے کمرے میں لوہے کے پلنگ قطار در قطار بچھے ہیں اور ہر پلنگ پر مجھ جیسا کوئی گم صم پڑا ہے۔ ان میں سفید بالوں والے بزرگ بھی ہیں اور وہ لڑکے بھی جن کی مسیں ابھی بھیگ رہی ہیں۔ سب کی شکایت ایک ہے۔ سب کا دم گھٹتا ہے، سب بولتے ہوئے اٹکتے ہیں۔ ہم آپس میں زیادہ بات نہیں کرتے، بس آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کا حال پوچھ لیتے ہیں۔ یہاں دواؤں کی وہ مخصوص بو نہیں جو شفاخانوں کی پہچان ہوتی ہے۔ کسی کا بخار نہیں دیکھا جاتا، کسی کو ٹیکا نہیں لگایا جاتا۔ کھڑکیاں اتنی اونچی ہیں کہ ان سے صرف آسمان کا ایک ٹکڑا دکھائی دیتا ہے اور دروازے باہر سے بند ہوتے ہیں۔ کوئی تیماردار نہیں آتا، کوئی پھل اور پھول لے کر مزاج پرسی نہیں کرتا۔

البتہ ہر ماہ ہم سب کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس دن صبح ہی سے ہمیں برآمدے میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ ایک ایک کر کے ہمیں اس کمرے میں بلایا جاتا ہے جہاں میز کے پیچھے ڈاکٹر بیٹھا ہوتا ہے اور اس کے سامنے ویسی ہی ایک ڈائری کھلی ہوتی ہے۔ وہ نہ زبان دیکھتا ہے نہ حلق، نہ یہ پوچھتا ہے کہ رات کیسی گزری۔ ہر مریض سے، ہر بار، صرف ایک سوال کیا جاتا ہے۔ ”کیا تمہاری ذہنی کیفیت وہی ہے یا اُس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے؟“ ہماری سمجھ میں یہ سوال نہیں آتا۔ سو ہم چپ رہتے ہیں۔ یوں بھی چپ رہنے کی ہمیں اب خاصی مشق ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر ہماری خاموشی بھی ڈائری میں لکھ لیتا ہے اور اگلے مریض کو آواز دے دی جاتی ہے۔

ہمارے اندر یہ خوف گھر کر گیا ہے کہ کہیں ہمیں تمام عمر تو ایسے نہیں گزارنی پڑے گی؟ لیکن اِس سوال کا جواب ڈاکٹر سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ اسپتال میں قیام ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر لامتناہی عرصے تک وہاں تعینات رہ سکتا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)