پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: سہیل آفریدی کی قیادت میں ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی

اتوار کی  صبح قومی اسمبلی میں حکومت اور تحریک انصاف کے وفود کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد طرفین نے  حسب توقع ایک دوسرے پر  الزام تراشی  کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے  مذاکرات کی ناکامی کا الزام خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی  پر عائد کیا اور کہا کہ ان کے احتجاج میں اگر کوئی جانی نقصان ہوتا ہے تو اس کی ساری ذمہ داری  ان ہی پر عائد ہوگی۔

حکومتی ذرائع بتا رہے ہیں کہ  ڈیڈ لاک کی اصل وجہ  خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کے پی حکومت کی لاتعلقی اور مختلف حکمت عملی ہے۔ جبکہ تحریک  انصاف کے وفد کے ارکان نے دعویٰ کیا ہے کہ  حکومت عمران خان سے ملاقات  اوران  کی ذاتی معالج تک رسائی کے معاملہ میں تعاون پر آمادہ نہیں تھی۔ تاہم   جیسا کہ وزیر داخلہ نے اسلام آباد کی پریس کانفرنس میں  بتایا ہے کہ اصل معاملہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے متعلق تھا۔ حکومت خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے صوبائی حکومت سے غیر مشروط  تعاون کا  مطالبہ کررہی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی تبدیل کی جائے اور وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو صوبائی حکومت عمران خان کے ’ویژن‘ کے مطابق تجویز کررہی ہے۔

سہیل آفریدی نے مذاکرات ختم ہونے  کے بعد آج حسب پروگرام لکی مروت سے لانگ مارچ کا  آغاز کردیا ہے جو پشاور سے ہوتا ہؤا ایک بڑے ہجوم کی صورت میں اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت واضح کرچکی ہے کہ پر امن احتجاج کا حق تسلیم کرنے کے باوجود کسی بھی پارٹی کو  تصادم کی اجازت  نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی احتجاجی جلوس کو اسلام آباد میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ اس طرح ایک طرف  ’میرے لوگوں پر میزائل اور ڈرون پھینکنے بند کرو ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے خیبر  پختون خوا کے پرجوش وزیر اعلیٰ موجودہ حکومت کو گرانے  اور عمران خان کو رہا کرانے کے لیے لانگ مارچ کا  آغاز کرچکے ہیں  اور دوسری طرف وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے  بات چیت کے بعد پشاور میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ہے ۔ اس بارے  میں  گورنر ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے تحریک انصاف کے اسلام آباد مارچ کے دوران  دہشت گردوں کو سکیورٹی چیک پوسٹوں سے محفوظ طریقے سے گزرنے میں سہولت فراہم کیے جانے کے  اندیشے پر تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب بھی صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم یہ سمجھیں کہ صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری ہے تو گورنر ہاؤس اپنا مکمل آئینی کردار ادا کرے گا‘۔

تصادم کی اس صورت حال میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی لانگ  مارچ کی  قیادت کرتے ہوئے جتنے قدم  بھی  اسلام آباد کی طرف بڑھاتے ہیں اور ان کی زبان سے جتنے سخت الفاظ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مسترد کرنے کا وتیرہ  اختیار کیا جاتا ہے، وہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔  کسی بھی سیاسی پارٹی کو ایسے سنسنی خیزتصادم سے گریز کرکے وفاق اور اس کی اکائی کے درمیان   فاصلے بڑھانے سے بچنا چاہئے۔ بدقسمتی سے خیبر پختون خوا  میں تحریک انصاف کی حکومت البتہ یہ خطرناک راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔  اس افسوسناک حکمت عملی کا انجام کسی کو معلوم نہیں ہے۔ خاص طور سہیل آفریدی یا تحریک انصاف کے دیگر لیڈر ، ان مضمرات سے قطعی لاتعلق دکھائی دیتے   ہیں جن کا پارٹی کو ملک کے واحد صوبے میں اپنی حکومت ختم ہونے کی صورت میں  سامنا کرنا پڑے گا۔  ایسی حالت  میں سہیل آفریدی سمیت بعض اہم لیڈر گرفتار ہوسکتے  ہیں اور ان کے خلاف سنگین جرائم میں مقدمات قائم ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود پارٹی نے مذاکرات کے ذریعے مفاہمت کا ایک اہم موقع ضائع کرکے یہ راستہ چنا ہے۔

اس میں شاید تحریک انصاف کے بیشتر لیڈروں کا بھی کوئی قصور نہیں ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے  پریس کانفرنس میں  مذاکراتی وفد میں شامل تمام ارکان کی تعریف کی ہے اور واضح کیا ہے کہ انہوں نے مثبت رویہ اختیار کیا اور ایک مسودے پر اتفاق رائے ہوگیا تھا جس کے تحت خیبر پختون خوا کی حکومت دہشت  گردی کے خلاف مرکزی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون  پر آمادہ تھی۔ اس کے بدلے میں حکومت عمران خان  سے ملاقاتوں اور ان کے علاج کے بارے میں متعدد  سہولتیں دینے پر تیار تھی۔ تاہم سہیل آفریدی نے  آخری لمحے میں متفقہ مسودہ مسترد کرکے دہشت گردی   کے حوالے ہر قسم کے تعاون کو مسترد  کردیا۔  مذاکرات کی ناکامی کا اعلان سامنے آنے کے بعد سہیل آفریدی نے  ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں ان نکات  کو شائع کیا جو انہوں نے حکومت کے ساتھ معاہدے کے لیے پیش کیے تھے۔ اور  ان کے خیال  میں ان نکات پر حرف بہ حرف عمل  درآمد ہی کسی مفاہمت کا سبب بن سکتا تھا۔ اس ٹوئٹ میں سہیل  آفریدی کا دعویٰ تھا کہ ’وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے کوئی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے‘۔ انہوں نے  سیاسی   نکات کے علاوہ عمران خان سے ملاقاتوں کے  لیےمتعدد مطالبے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد  ہی پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی‘۔  انہوں نے یہ مطالبہ بھی پیش کیا کہ  وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے مسلسل مشاورت کریں اور 72 گھنٹوں میں اجلاس کرکے ایک واضح اور قابل عمل حکمتِ عملی مرتب کریں۔

گویا صوبائی وزیر اعلیٰ ایک ایسی  فوجی کارروائی سے قطعی لاتعلقی کا اعلان کررہے ہیں جس میں روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز کے عہدیدار جاں بحق ہورہے ہیں۔   نہ جانے سہیل آفریدی کس آئین  و قانون کے تحت وفاقی حکومت کے اختیارات اور فوجی کارروائیوں کو مسترد کرکے  ایسے عناصر  اور ہمسایہ ملک کی ایسی حکومت کے ساتھ مفاہمت بلکہ سرنگوں کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں جو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ۔اور اس کے بعض وزیر پاکستانی  علاقوں پر قبضہ کرلینے کے دعوے  کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو ’میرے عوام کی ہلاکت‘ قرار دے کر سہیل آفریدی  نے متوازن سیاست  اور  صوبائی حکومت کی قانونی حدود سے انحراف کیا ہے۔

دہشت گردی کے بارے میں حکومتی پالیسی سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور اس پر  بحث میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن کسی صوبائی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ حالت جنگ میں ایک ایسے ملک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے جس کے ساتھ پاکستان اس وقت  برسر پیکار ہے۔ یا ایسے عناصر کو تحفظ دینے کے لیے مؤقف اختیار کرے جو  مسلح افواج کے خلاف تشدد میں مصروف ہوں۔ بدقسمتی سے سہیل آفریدی خود اپنی حکومت کے خلاف وفاق کا مقدمہ مضبوط کرنے کا سبب بن  رہے ہیں۔

تحریک انصاف میں زیرک اور ہوشمند  لیڈروں کی کمی نہیں ہے لیکن کسی میں  بھی یہ ہمت نہیں ہے  کہ وہ پارٹی کے وسیع تر مفاد میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ اور حکومت کو درست پالیسی اختیار کرنے پر آمادہ کرسکیں۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بھی یہ لوگ اتفاق کرنے کے باوجود اپنے ہی  ایک  ساتھی کی ضد کی وجہ سے مفاہمت و مصالحت کا ایک اچھا موقع ضائع کرچکے ہیں۔ یہ قیاس کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ  یہ لیڈر اب کسی تصادم کو روک پائیں گے یا  خیبر پختون خوا میں وفاقی حکومت کے کسی انتہائی اقدام سے بچنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جاسکے گا۔ حالات و شواہد سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن)  کی حکومت نے تحریک انصاف کو سیاسی سپیس دینے  کی بجائے پیپلز پارٹی کو ساتھ ملائے رکھنے کے لیے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ اب پیپلز پارٹی پر بھی واضح  ہوچکا ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف کسی کارروائی کی حمایت کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔  پیپلز پارٹی بھی ایسی صورت میں  تحریک انصاف کی سیاسی مدد میں ناکام رہے گی۔

پاکستان تحریک انصاف نے عاقبت نااندیشی کی وجہ سے  خود اپنی سیاست کے لیے راستے مسدود کیے ہیں اور ملک کو بھی ایک مشکل اور خطرناک بحران کی طرف دھکیلنے کا سبب بنی ہے۔   اس پالیسی  سے نہ عمران خان کو سہولت  ملے گی اور نہ ہی ملک میں امن و سکون بحال ہوسکے گا۔   تجزیہ نگار  سامنے دکھائی دینے والے تصادم  کی تمام ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں کرسکے گا۔