تحریک انصاف کا لانگ مارچ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا
تحریک انصاف کا لانگ مارچ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا، شرکا آج کوہاٹ روانہ ہوں گے۔سہیل آفریدی کی زیر قیادت مارچ میں جنید اکبر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔
بنوں اورکرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک میں لانگ مارچ کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نےکہا کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے، دو دن بعد اسے ٹی ٹوئنٹی میچ بنائیں گے۔ یہ جنگ صرف پشتونوں کی نہیں پورے پاکستان کی جنگ ہے۔میرے لیڈر نے امریکا اور میں نے بند کمروں کے فیصلہ سازوں کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا، کل شام بانی پی ٹی آئی اور پشتونوں کے وزیراعلیٰ نے ملٹری آپریشنز اور ڈرون اٹیکس کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا ہے۔اب خیبر پختونخوا کے عوام کے فیصلے صوبے میں ہی ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بار بار کہتے ہیں کہ 22 سال سے جو پالسی آپ نافذ کر رہے ہیں اس سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ ہم نے امن صرف بانی پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالوں میں دیکھا ہے۔ہم ہراس پالیسی کو ایبسلوٹلی ناٹ کہیں گے جو عوام کے حق میں نہیں ہوگی۔سہیل آفریدی نےکہا کہ میرے پاس بندوقیں نہیں صرف عوامی طاقت ہے، ساؤتھ ریجن کے عوام نے ہر اس پالیسی کو مسترد کیا جو ان کے حق میں نہیں۔ پوری قوم چاہتی ہے بانی پی ٹی آئی باہر آئیں اور ملک کی قیادت سنبھالیں۔
ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔ پشاور سے لکی مروت تک سہیل آفریدی کا ہیلی کاپٹر پر سفر غالباً سرکاری امور کے لیے تھا۔
بی بی سی کے مطابق اس موقع پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرے تو اسے ناسمجھ قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ عوام ایسے ہی نظریات کے حامی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں حکمران طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک سمجھدار وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں جو کرپشن کریں اور قومی مفادات پر سمجھوتے کریں۔ انہوں نے پشتونوں کے مسائل، فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق لانگ مارچ کا اگلا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا، جبکہ صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو ’طاقتوروں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی‘۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بار ان کی تحریک کا مقصد کامیابی حاصل کرنا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا کو آزاد کرانا ہے۔