شاہ شمس رح کا بدلتا ملتان

دمشق اور ملتان کا شمار تاریخی زندہ شیروں میں ہوتا ہے جن کی کئی ہزار پرانی تاریخ ان کی قدامت اور ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ اب شاہ شمس رح کا شہر بھی قدامت کے ساتھ ساتھ جدید حسن میں ڈھلتا نظر آ رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دور میں ملتان کا انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہوا، پھر سابق وزیر اعلی پرویز الہی کے دور میں پرویز الہی انسٹی ٹیوٹ آ ف کارڈیالوجی کی سہولت میسر آئی۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی وزارت عظمیٰ میں موٹر وے کا تحفہ ملا جس سے طویل فاصلے سمٹ کررہ گئے اور یوں ملتان بھی مرکز کے ساتھ قومی دھارے میں شامل ہو گیا۔ سڑکیں اور شاہراہیں ہمیشہ ترقی کے در وا کرتی ہیں۔

اب وزیر اعلی مریم نواز شریف کے ویژن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدیم شہر ایک بار پھر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ لاہور کی طرز پر اس شہر میں بھی رنگ روڈ کا منصوبہ شروع ہونے کو ہے۔ ملتان ایونیو کا منصوبہ بھی شروع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے یہ شہر ایک کاروباری مرکز بنے گا۔ شہر کی متعدد سڑکیں اب کشادہ ہو چکی ہیں اور ان کے اردگرد کی گرین بیلٹ نے انہیں اور بھی خوبصورتی میں ڈھال دیا ہے۔

شمس کا شہر ملتان گرمی کے لئے مشہور ہے اور جب سے یہاں کے باغات کو کاٹ کر رہائشی کالونیوں کی تعمیر کا چلن عام ہوا ہے، گرمی کی شدت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ بارشیں بھی کم کم ہوتی ہیں مگر اب پرانے باغات اور پارکوں کی مناسب دیکھ بھال سے صورت حال بدلتی نظر آ رہی ہے۔ ملتان کے باغات بھی کئی سو سال پرانے ہیں۔ دریا اور شجر ہماری قدیم ثقافت کا ایک مضبوط استعارہ ہیں جن کی موجودگی پرندوں کی چہچہاہٹ کو قائم رکھتی ہے۔ لاہور اور فیصل آ باد کی طرح اب ملتان بھی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اس خطے کے لوگ ایک عرصے سے محرمیوں اور مراعات نہ ملنے کا رونا رو رہے ہیں۔ الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی صورت لولی پاپ تو دیا گیا مگر یہ منصوبہ بھی فعال نہ ہونے کی وجہ سے ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ اب جبکہ ملک میں ایک بار پھر نئے صوبوں کی بحث چل نکلی ہے، اس خطے کے مکین بھی اپنے الگ سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے ہم اواز ہو گئے ہیں۔

سیوریج اس شہر کا اہم مسئلہ ہے۔ خوش قسمتی سے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لئے اربوں روپے کے فنڈ سے یہ میگا پراجیکٹ بھی شروع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے شہر میں اکھاڑ پچھاڑ بھی جاری ہے، جو شہر کی ترقی کے لئے ضروری تھی۔
قدیم شہر میں میوزیم کاقیام، غریب اور محنت کش طبقے کے مفت کھانے کی فراہمی کے من و سلوی پوائنٹ، شہر کی شاہراہوں پر تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرتے مجسمے اور رات کو مختلف مقامات پر روشن قمقموں کی تنصیب بھی شمس رح کے شہر کو جدید حسن میں ڈال رہی ہے۔ کئی اہم اور مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کے اشارے اور آ نے والے دنوں میں ای جالان کا نظام بھی ٹریفک کے شعور کو مزید اجاگر کرے گا۔

وزیر اعلی پنجاب نے ملتان کے حالیہ دورے کے دوران جہاں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا ہے وہاں طلبہ و طالبات اور شہریوں کی سفری سہولتوں کے لئے ڈیڑھ سو سے زاہد الکٹرانک گرین بسوں کا تحفہ بھی دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 45 بسیں شہریوں کو سہولت پہنچا رہی ہیں۔ اس شہر بے مثال کی انہی سڑکوں پر ہم نے ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلتی دیکھی ہیں۔ کسی بھی شہر کی مقامی انتظامیہ اس شہر کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر انتظامیہ اور اس کا سربراہ فعال ہو مسلسل نگرانی اور فالو اپ رکھنے والا ہو تو ترقی ہوتی نظر آ تی ہے۔ عدم دلچسپی اور چشم پوشی کی وجہ سے معاملات الجھے اور منصوبے تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ خوشی قسمتی سے اس شہر کو ایسا انتظامی سربراہ ملا ہے جو کسی تعریف ستائش اور صلے کے بغیر اپنا فرض منصبی اور ڈیوٹی سمجھ کر شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
کئی سالوں سے بدحالی کا شکار شاہ شمس رح جھیل اب بحال ہو کر شہریوں کو تفریح کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

ملتان کے تاریخی قلعہ کہنہ پر واقع پرانی میونسپل لائبریری کو جدید خطوط پر استوار کر دیا گیا ہے اور یہاں پر چائے خانوں کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے ایک چائے خانہ بھی قائم کیا گیا ہے۔ مختلف شاہراہوں پر شہریوں کی سہولت کے لئے سایہ دار انتظار گاہیں بن گئی ہیں، کمشنر ملتان عامر کریم خان مختلف محکموں اور مخیر حضرات کے تعاون سے شہر کے لئے کئی ایسے منصوبے بھی شروع کئے ہوئے ہیں جن پر حکومت پر بھی کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ بلکہ اپنی مدد آ پ کے فارمولے پر عمل کیا گیا ہے۔ اپنی مادر علمی کی ترقی کے لئے امداد اور من و سلویٰ کا منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جبکہ اس خطے کے اہل قلم دانشوروں اور فنون لطیفہ کے افراد کے لئے اعتراف فن اور لوح اعزاز کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔

اب اس شہر کے قائم ہونے والے ایوان صنعت و تجارت کی نئی انتظامیہ سے یونیورسٹی کے طلبہ کے لئے وظائف، صاف پانی کے فلٹر پلانٹ اور شہریوں کے تفریحی پارکوں میں سہولیات کی فراہمی کے لئے تعاون بھی حاصل کیا جارہا ہے۔
ملتان ایک قدیم شہر ہے۔ اس کا قلعہ اس کی فصیلیں دمدمہ اور قدیم تاریخی دروازے شہر کی قدامت اور تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان حوالوں اور نقوش کو محفوظ کیا جائے۔ آ ثار قدیمہ اور تاریخ ورثہ ڈویژن کی وزارت کو بھی اس سلسے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس وزارت کے وفاقی وزیر محترم اورنگ زیب کچھی جنوبی پنجاب کے خطے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے قبل اٹلی کے تعاون سے قدیم ملتان کو جدید حسن میں ڈھالنے کے پراجیکٹ پر عملدرآمد کیا گیا تھا۔ اب بھی اسی طرح کے کسی اور پراجیکٹ کا آ غاز بھی کیا جا سکتا ہے۔

محترم عامر کریم خان نے کم وقت میں شہر کے متعدد شروع اور مکمل کرنے والے منصوبوں کی تفصیل اور تعارف کو بدلتا ملتان کے نام سے کتابی صورت میں شائع کرایا ہے جو دیگر شہروں اور انتظامی افسران کی رہنمائی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس کتاب میں رنگین تصاویر کے ذریعے تکمیل پانے والے منصوبوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ سو اس شہر کے سبھی طبقات کو دامے درمے سخنے اہنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ یہ شہر شمس رح ملک کے دوسرے شہروں کی طرح ترقی یافتہ شہروں میں بھی شامل ہو۔ اور اپنے قدیم تاریخی ثقافتی حوالوں کی بدولت سیاحوں کے لئے بھی مرکز نگاہ بنا رہے۔