مذاکرات ناکام کیوں ہوتے ہیں؟
- تحریر خورشید ندیم
- سوموار 05 / اکتوبر / 2026
عقلِ عام رکھنے والوں کی بستی میں، یہ کیسے ممکن ہے کہ اجتماعی مسائل کا کوئی حل تلاش نہ کیا جا سکے؟ مفادات کا ٹکراؤ انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ ہے۔ اس سے مفر نہیں۔ مفادات کی کشمکش کس شعبۂ حیات میں نہیں ہوتی؟ کاروبار کی دنیا میں کیا ٹکراؤ نہیں ہو تا؟ فنونِ لطیفہ میں کیا مقابلہ بازی نہیں ہوتی؟
دنیا میں ہر میدان، میدانِ کارزار ہے۔ ہمارے ہاں بھی ہے۔ جہاں عقلِ عام کی حکمرانی ہو، وہاں کھیل کے آداب طے ہو جاتے ہیں۔ سب کو موقع دیا جاتا ہے اور پھر قانونِ فطرت کے مطابق جو جس کے حصے میں آتا ہے اسے مل جاتا ہے۔ لازم نہیں کہ سب معاملات انصاف کے مطابق طے ہوں۔ بے شمار عوامل مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو کیا ملنا ہے۔ عقلِ عام کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ان فیصلوں کو مان لیا جائے۔ یہ فیصلے دائمی نہیں ہوتے، وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اگر آج وقت نے الف کے حق میں فیصلہ دیا ہے تو کل اس کا انتخاب جیم بھی ہو سکتا ہے۔ کشمکش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ عقلِ عام کی حکمرانی ہو تو سماج کو نقصان پہنچائے بغیر سب کو کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔
ہم عام طور پر تمام شعبہ ہائے حیات میں اس اصول کو مانتے ہیں۔ انحرافات ہوتے ہیں اور ان سے المیے بھی جنم لیتے ہیں لیکن بالعموم عقلِ عام ہی کی حکمرانی مانی جاتی ہے۔ فنکاروں میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ تاجروں میں بھی ہوتا ہے۔ کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اس کا انجام کسی تصادم پر ہوا ہو۔ اس ملک میں بہت سی کمپنیاں سیمنٹ بناتی ہیں۔ سب مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کی کو شش میں لگی رہتی ہیں مگر دوسرے کے وجود کو تسلیم بھی کرتی ہیں۔ اس طرح سب کو ان کا حصہ مل جاتا ہے۔ کوئی خسارے میں نہیں رہتا۔ یہ سب سیاست میں کیوں نہیں ہوتا؟ یہاں عقلِ عام کی حکمرانی کیوں نہیں ہوتی؟ یہاں معاملات تصادم کی طرف کیوں بڑھتے ہیں؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب سیاست میں ایسے عناصر آ جاتے ہیں جو سیاست کے مفہوم سے ناواقف ہوتے ہیں تو پھر کھیل بگڑ جاتا ہے۔ جب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے کا وجود مٹ جائے اور تنہا ان کا اقتدار قائم ہو تو عقلِ عام اس مطالبے کو مسترد کر دیتی ہے۔ اس سے اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ ماحول خراب ہوتا ہے اور بعض اوقات کھیل سب کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ملک متاثر ہوتے ہیں اور عوام بھی۔ جب تک معاملات اُن کے ہاتھ میں رہتے ہیں جو سیاست کو سمجھتے ہیں، کشمکش جاری رہتی ہے مگر تعطل نہیں پیدا ہوتا۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ ان کے مابین مفادات کا ٹکراؤ آج بھی موجود ہے۔ مستقل میں بھی دونوں جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کے مدِمقابل ہوں گے۔ دونوں کے پاس وزارتِ عظمیٰ کا ایک ایک امیدوار موجود ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو پچھاڑنا چاہتے ہیں۔ دونوں مگر سیاست کو جانتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ کہاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنا ہے اور کہاں برسرِ پیکار ہونا ہے۔ ان کے درمیان یہ کشمکش جاری ہے اور ملک کا نظام بھی چل رہا ہے۔
تحریک انصاف میں جو سیاست کو سمجھتے ہیں، وہ عقلِ عام سے کام لیتے ہیں۔ اگر آج پی ٹی آئی کے پاس کچھ ہے تو وہ عقلِ عام کے اسی استعمال کا نتیجہ ہے۔ ان کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے۔ اسی حکومت نے انہیں یہ حیثیت دی ہے کہ ریاست ان کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے۔ اسی حکومت کو بنیاد بنا کر وہ سیاست میں اپنے مقاصد کی آبیاری کر سکتے ہیں۔ اگر کل وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کر نے سے عملاً انکار کر دیتے تو آج در بدر ہوتے۔ صوبائی حکومت ہوتی نہ پارلیمنٹ میں نمائندگی۔ وہ چاہیں تو اپنی کارکردگی سے پورے ملک کے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ انہیں سیاست نے ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس کا تعلق اب عقلِ عام کے ساتھ ہے کہ وہ اس موقع سے کتنا اور کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس وقت مگر صورتِ حال یہ ہے کہ وہ عقلِ عام کہیں کار فرما دکھائی نہیں دے رہی۔ جو عقل کی بات کرتا ہے‘ اس کو دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔
عقلِ عام کا تقاضا ہے کہ تحریک انصاف کو جو کچھ میسر ہے وہ اس کی حفاظت کرے اور موجود مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ عقل کہتی ہے کوئی ریاست کسی سیاسی یا مذہبی قوت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ نظمِ مملکت کو مفلوج کر دے۔ کوئی ریاست یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے دارالحکومت میں انتشار ہو ۔ وہ اس کے معمولات کو برقرار رکھنے کے لیے کسی حد تک جا سکتی ہے۔ یہ صرف پاکستان کی بات نہیں، اس معاملے میں ہر ملک کا رویہ یہی ہو گا۔ کیا امریکہ اجازت دے گا کہ واشنگٹن بند ہو جائے؟ کیا ریاض، تہران، پیرس،کوالالمپور، انقرہ یا دنیا کے کسی ملک کے دارالحکومت میں کاروبارِ زندگی کو روکا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ دارالحکومت کے امن کے لیے ایک ریاست کچھ بھی کر سکتی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کو اگر غیر مذہبی نظر سے دیکھا جائے تومعلوم کیا جا سکتا ہے کہ ریاست کہاں تک جا سکتی ہے۔
تحریک انصاف میں اگر عقلِ عام کی حکمرانی ہوتی تو وہ اس بات کا ادراک کرتے ہوئے حکومت سے مذاکرات کرتی اور اس کے بدلے میں وہ مواقع حاصل کرتی جو اس کے لیے سیاسی سفر کو آسان بنا دیتے۔ مثال کے طور پر وہ اسلام آباد کے ساتھ لاہور ، فیصل آباد، کراچی اور دوسرے شہروں میں جلسوں کا مطالبہ کرتی۔ آنے والے انتخابات کے طریقہ کار کی بات کرتی۔ عمران خان سے رابطے کا راستہ نکالتی۔ اڑھائی برس بعد لازماً انتخابات ہونے ہیں۔ دو اڑھائی سال کا دور،سیاست میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ بے شمار راستے تھے جو ایک دھرنے سے دستبردار ہو کر کھلوائے جا سکتے تھے۔ تحریک انصاف کو یہ ثابت کرنے کا موقع ملا تھا کہ وہ خود کو ایک سیاسی قوت کے طور پر منواتی جو سیاسی عمل پر یقین رکھتی ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتی کہ وہ تصادم پر آمادہ ایک گروہ ہے۔تحریک انصاف کی قیادت مگر مذاکرات سے یہ فائدہ نہ اٹھا سکی۔ اس نے ایک بار پھر خود کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ لگتا ہے وہ صوبائی حکومت سمیت،بہت سے موجود مواقع بھی گنوا بیٹھے گی۔ تحریک انصاف کا نظم، جتنا باقی ہے، وہ بھی نہیں رہے گا۔
اس سوچ کے لیے مگر عقلِ عام کی حکمرانی ضروری ہے۔ اس بات کا ادراک کہیں نہیں کہ ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ یہ سیاست کا پہلا سبق ہے۔ تحریک انصاف کا یہ کلچر بن چکا ہے کہ عقل کی ہر بات کی مذمت کرنی ہے اور اگر خود پارٹی کی صفوں میں کوئی عقلِ عام کی دہائی دے تو اسے دیوار سے لگا دینا چاہیے۔ سہیل آفریدی صاحب نے کئی بار اس طرف آنا چاہا۔ نظام کا حصہ ہوتے ہوئے انہیں معلوم ہے کہ ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کا نقصان سیاسی جماعتوں ہی کو ہوتا ہے۔ ان کو بھی مگر اس جانب نہیں آنے دیا گیا۔ انہیں بھی یہ گمان ہوا کہ پارٹی میں خود کو زندہ رکھنے کا راستہ یہی ہے کہ تصادم کی راہ پر چلا جائے۔
میرا تاثر ہے کہ یہ تحریک انصاف کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ اس نظام سے اپنے لیے خیر کشید کر ے۔ وقت شاید پھر یہ موقع ارزاں نہ کرے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)