پدّی استاد اور زِدّی استاد!
- تحریر سہیل وڑائچ
- سوموار 05 / اکتوبر / 2026
موسم بدلنے کے اشارے ہوں تو تیاریاں پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں۔ لاہور میں دس روزہ جشنِ بسنت کا اعلان ہو چکا ہے، پتنگوں کی باغ و بہار آنے کو ہے، بسنت کی آزادی منانےکیلئے اس وقت دو بڑے فریقوں کے اہم مذاکرات جاری ہیں۔
ایک گروپ کی قیادت پتنگ بازی کے بے تاج بادشاہ اور پیچوں کے کمانڈر پدّی استاد کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف زِدّی (اردو میں اسے ضدی لکھتے ہیں) استاد بسنت کے اصولوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا اعلانیہ حامی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ڈور پر پابندیاں ختم ہوں ، کوئی کیمیکل تار استعمال کرے، دھما چوکڑی مچائے، بینڈ بجائے یا کسی جگہ آگ لگائے کوئی تعرّض نہ کیا جائے۔ پدّی استاد اور زِدّی استاد میں مذاکرات کا حتمی فیصلہ فلکی شاہ نے کرنا ہے جو بسنت میں آزادیوں اور پابندیوں کا حتمی اختیار رکھتا ہے۔
پدّی استاد قد کا چھوٹا ہے عمر نے اسے اب لاغر بھی بنا دیا ہے، پدّی استاد نے سالہا سال پتنگی دنیا پر حکومت کی ہے مگر وقت کے ساتھ پتنگ بازوں میں اس کی مقبولیت کم ہو گئی ہے۔ مگر سرکار دربار میں اسی کی قبولیت ہے۔ پدّی استاد تجربہ کار ہے، پیچ لڑانے اور مخالف کی پتنگ کاٹنے کے ہنر میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا تھا۔ اب بھی وُہ بادشاہ کہلاتا ہے مگر خلقت اس سے روٹھی ہوئی ہے۔ دوسری طرف زدّی استاد ناتجربہ کار، نسبتاً طاقتور اور مقبول ترین ہے۔ مگر بسنت میں وہ پتنگوں کیلئے جو آزادیاں مانگتا ہے، اُن سے پہلے بھی کئی دنگے فساد ہوئے ہیں۔ خلقت پدّی استاد کی مصلحتوں سے باغی ہے اور چارو ناچاروہ زِدّی استاد کے پیچھے لگے ہوئی ہے۔ وُہ پتنگوں کے اوپر پابندیوں کو کھیل کے اصولوں کے خلاف سمجھتی ہے۔ وہ مئی میں ہونے والی بسنت کے نتیجے میں گرفتار قیدیوں کی رہائی کی خواہش مند ہے اور وُہ اس بات کی بھی آرزو رکھتی ہے کہ پدّی استاد، زِدّی استاد کو ملکی بسنت کا بادشاہ بنا دے۔
مذاکرات بڑی نیک نیتی سے جاری ہیں، دونوں فریق بسنت کو اچھے طریقے سے منانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مگر پدّی استاد کا دائرہ اختیار محدود ہے۔ وُہ نام کا بادشاہ ہے۔ کام کہیں اور سے ہونا ہے۔ اس لئے وُہ زِدّی استاد کے مطالبات ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ خود نہیں کر سکتا۔ مذاکرات میں جو بھی طے ہو، اصل فیصلہ تو فلکی شاہ نے کرنا ہے۔ بسنت پر بارش، ہوا یا دھوپ کا فیصلہ اسی کا ہوگا۔ ہلکی ہوا چلے گی تو بسنت ہو سکے گی۔ وگرنہ بارش اور بند ہوا میں تو گڈی اُڑ ہی نہیں سکتی۔ گویا مذاکرات کی میز پر گڈا گڈی کا جو بھی کھیل کھیلا جائے، حتمی رائے تو فلکی شاہ کی ہی ہو گی۔
پدّی اور زِدّی کا میز پر اکٹھے بیٹھنا خوش آئند اور خوش گوار ہے مگر یہ مذاکرات ایک محدود دائرہ رکھتے ہیں۔ دونوں فریق اس کو جتنی جلدی سمجھ لیں اسی قدر بہتر ہو گا ۔ استاد پدّی کو تاریخ کا یہ سبق یاد رکھنا ہو گا کہ مذاکرات کئی بار پھندہ بھی ثابت ہوتے رہے ہیں۔ فلکی شاہ کی مرضی سے بالاتر کوئی بھی راضی نامہ استاد پدّی کے زوال کوتیز تر کر دے گا۔ سیاست میں جنیوا مذاکرات فلکی شاہ کی مرضی کے خلاف ہوئے تو سندھی وزیراعظم جونیجو کی چھٹی ہو گئی، قومی اتحاد اور بھٹو مذاکرات میں فلکی شاہ اور قومی اتحاد نے مل کر ایسی کھچڑی پکائی کہ بھٹو کا دھڑن تختہ ہو گیا اور تو اور ایوب خان کی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں اپوزیشن کے مطالبات ماننے کے بعد نئے فلکی شاہ یحییٰ خان نے ایوب خان کو گھر بھیج دیا تھا۔
ان تجربات کی روشنی میں پدّی استاد کو ’کیا پدّی اور کیا پدّی کا شوربہ‘ یاد رکھنا چاہئے وگرنہ یہ مذاکرات انہیں پھنسا بھی سکتے ہیں۔ دوسری طرف زِدّی استاد کو بھی پدّی استاد کے محدود دائرے کو سمجھنا چاہیے۔ زِدّی استاد کو سمجھنا چاہئے کہ بسنت پر مکمل پابندی عائد رہی ہے، بسنت پر پتنگوں کی بہار سجانےکیلئےجس ہوا کی ضرورت ہے وُہ فلکی شاہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ زِدّی استاد کو فلکی شاہ پسند بھی نہیں کرتا اور اسے اچھی طرح سے علم و یقین ہے کہ زِدّی استاد کو جتنی بھی آسانی ملے گی، وُہ نظام کیلئےاتنی ہی مشکل بنتی جائےگی ۔ زِدّی استاد شمشیر بے نیام بن کر میدانوں میں سیاست بے شک کرے مگر مذاکرات کی میز پر تھوڑا ملنے کو بہتیرا جانے۔ اس وقت زِدّی استاد کیلئےچھوٹا سا در کھلنا بھی باد صبا کا جھونکا ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے تنِ مردہ میں پھر سے جان پڑ سکتی ہے۔
برسوں سے رپورٹنگ کرنے کے باعث قلم گھیسٹیے کو اندازہ ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں عمران خان کی اسپتال آمدورفت شروع ہو سکتی ہے، بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے، بہنوں کو رہا کیا جا سکتا ہے۔ یہ وُہ حدود ہیں جن سے باہر نکلنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ عمران خان کی رہائی یا سیاست میں واپسی کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔ بشریٰ عمران کی بنی گالہ منتقلی دراصل ایک نئی اسٹرٹیجی کا حصہ ہو گی جس میں علیمہ خانم اور بشریٰ عمران دونوں گروپوں کو الگ الگ کرنا ہے۔ بشریٰ عمران کے بنی گالہ منتقل ہونے سے علیمہ خانم کی طاقت کمزور ہوگی کیونکہ عمران خان اپنی بہن کی نسبت اپنی مرشد بیوی کی بات زیادہ مانتے ہیں۔ حکومت اور مقتدرہ دونوں یوٹیوبرز کی بیانیہ سازی سے بہت تنگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف اوورسیز اور تحریک انصاف کے دو واضح دھڑے بن جائیں۔ مقتدرہ اور اہل سیاست ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے دونوں کی عزت اور ساکھ میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اگر مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوگئے تو مایوسی اور اندھیرا مزید بڑھنے کابھی احتمال ہے ۔
پدّی اور زِدّی دونوں کو ملک کی بہتری اور خوشحالی کیلئے مصلحت اور مصالحت سے کام لینا ہو گا۔ فلکی شاہ کو مکمل اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔ زِدّی استاد دھرنا ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کرے اور مشترکہ طور پر یہ اصول طے کیا جائے کہ آئندہ اسلام آباد میں کوئی بھی دھرنا نہیں دیا جائے گا۔ پدّی اور زِدّی کے مذاکرات میں جو تھوڑی بہت پیشرفت ممکن ہے وُہ صرف اور صرف فلکی شاہ پر منحصر ہے کہ پدِی ہو یا زِدّی دونوں حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔ تھوڑے کو بہت جانیں اور کشتی کو سیاسی منجدھار سے نکالیں۔ ماضی قریب میں پدّیوں اور زِدّیوں کی لڑائی نے معاملات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ سیاسی اور جمہوری آزادیاں محدود ہو گئی ہیں، خود سیاسی ورکرز کیلئے زمین تنگ ہو گئی۔ بولنے اور لکھنے پر بھی پابندیاں ہیں۔ اہل سیاست، سیاست تب ہی کر سکتے ہیں اگر جمہوری آزادیاں میسر ہوں گی۔ اگر اظہار رائے پر پابندیاں نہیں آزادیاں ہوں گی۔ سیاسی کارکن سانس لیں گے تو سیاست اور جمہوریت تب ہی ممکن ہو گی۔
پدّی، زِدّی مذاکرات سے بہت زیادہ امیدیں باندھنے کی ضرورت نہیں، کوئی انقلاب نہیں آنے والا، نہ حکومت بدلنے والی ہے۔ تاہم اگر ماحول ٹھنڈا ہو جائے، پارلیمان کام کرنا شروع کر دے حکومت اور اپوزیشن کا ملنا جلنا شروع ہو جائے، عمران خان کے اسپتال میں معائنے اور قیدی خواتین کے ساتھ نرمی کا سلوک شروع ہو جائے تو یہ مذاکرات کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ وگرنہ سوئی وہیں کی وہیں اٹکی رہے گی!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)