ایک قیدی سے ملاقات ٹرمپ کارڈ کیوں بن گئی؟

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ اب کرک سے کوہاٹ کی طرف روانہ ہوگیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے اس  احتجاجی ہجوم کو اٹک کے مقام پر پنجاب کی حدود میں  شداخل ہونے سے روکنے  کے لیے بیس ہزار پولیس فورس متعین کی ہے۔ اس دوران  پی ٹی  آئی اور  حکومت کے درمیان  مذاکرات کی ناکامی پر مزید معلومات  سامنے آئی ہیں۔

اب یہ واضح ہے کہ  خیبر پختون خوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی بنیادی تنازعہ کی وجہ تھی لیکن تحریک انصاف کا وفد عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کرتا رہالیکن   حکومت نے  اس سہولت کے بدلے اپنی   شرائط  منوانے کی کوشش کی۔ یہی ڈیڈ لاک کی اصل وجہ بنی۔  مذاکرات کے بارے میں فریقین مسلسل ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہے ہیں لیکن   حکومت اور تحریک انصاف ، دونوں طرف سے مستقبل کی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی  اعلان کرچکے ہیں کہ لانگ مارچ کو کسی صورت وفاقی دارالحکومت آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ  دوسری طرف  تحریک انصاف نے اپنا سارا سیاسی وزن اور عوامی قبولیت  لانگ مارچ کی کامیابی  میں صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ لیڈر بھی جو مذاکرات میں شامل تھے  اور وزیر داخلہ کے بقول   اعتدال پسند طریقے سے متفقہ معاہدے پر  راضی ہوگئی تھے، دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کا  سالار سہیل آفریدی  ہے اور وہ اس کی قیادت میں لانگ مارچ کی حمایت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے  آج اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب تحریک انصاف عمران خان کی شمولیت کے  بغیر حکومت سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔ وہی واحد لیڈر ہیں جو ریاست اور قوم  کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج پاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  تاہم ان کی پریس کانفرنس اور دیگر پارٹی لیڈروں کے بیانات کا مطالعہ کیا جائے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کا  واحد مطالبہ اب بھی  عمران خان سے ملاقاتیں بحال کرنے سے متعلق ہے۔ حکومت اگر آج پارٹی لیڈروں کو عمران خان سے ملاقات کرنے کی سہولت فراہم کردے تو تصادم کی کیفیت کم ہوسکتی ہے اور ایک دوسرے پر حملہ آور فریق شاید مذاکرات کی میز پر واپس آسکتے ہیں۔

حکومت کے پاس تحریک انصاف کو انگیج کرنے کے علاوہ صرف ایک ہی راستہ  ہے کہ کوئی آئینی عذر تلاش کرکے ایسا اقدام کیا جائے جس میں صوبائی حکومت  معطل ہوجائے اور خیبر پختون خوا کے معاملات براہ راست مرکزی حکومت کے ہاتھ میں آجائیں۔ ایسا اقدام اگرچہ حکومت کو صوبے میں دہشت گردی کے خلاف  کارروائی میں آزادی دے گا اور وہ من مانی کرسکے گی لیکن اس سے  عوام کے منتخب نمائیندوں اور  ریاست کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں گے اور کسی پر امن حل کا راستہ بھی مسدود ہوجائے گا۔ کسی صوبے کا انتظام براہ راست مرکز کے حوالے کرنے میں یہ قباحت بھی موجود رہے گی کہ  اسے  غیر معینہ مدت تک کے لیے جاری نہیں رکھا جاسکتا۔ مثال کے طور پر گورنر راج نافذ کرنے کی صورت میں صوبائی اسمبلی تحلیل نہیں ہوتی بلکہ اسے کام کرنے سے روک  دیاجاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے  کہ  آئین کی حقیقی منشا   کے مطابق کسی صوبے میں گورنر راج  فوری اور ہنگامی نوعیت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ہی نافذ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اس میں مدت کا تعین نہیں کیاگیا لیکن اسمبلی موجود رہنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ آئین چاہتا ہے کہ فوری مسئلہ سے نمٹنے کے بعد اسمبلی بحال ہوجائے اور صوبائی حکومت حسب معمول کام کرنے لگے۔

اس تناظر میں حکومت کی پوزیشن کو دیکھا جائے تو گورنر راج خیبر پختون میں موجود صورت حال کا مناسب حل فراہم نہیں کرے گا۔ مختصر مدت کے دوران حکومت دہشت گردی کے بارے میں ضرور یک طرفہ فیصلے نافذ کرسکے گی لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ان عناصر کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے گا۔ اس طرح جوں ہی صوبائی حکومت بحال ہوگی ، وہ دوبارہ اپنی موجودہ پوزیشن بیان کرکے دہشت گردی کے خلاف سرکاری پالیسی کو چیلنج کرے گی۔ اس  دوران صوبائی قیادت اور مرکز کے درمیان مزید دارڑیں اور بدگمانیاں بھی پیدا ہوجائیں گی اور معاملات پیچیدہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے دھمکیاں دینے کے باوجود خیبر پختون خوا میں کوئی آئینی انتظام کرنے کا اقدام نہیں کیا لیکن  غیر مفاہمانہ پالیسی کی وجہ سے تحریک انصاف کے ساتھ غیر ضروری تنازعہ کو ہوا ضرور دی ہے جو اب لانگ مارچ کی صورت میں مرکز کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس مسئلہ کی جڑ عمران خان  کے ساتھ  ملاقات سے متعلق ہے۔ دو سال پہلے تک تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کررہی تھی۔ اس وقت حکومت کا یہی مؤقف تھا کہ یہ معاملات عدالتوں میں زیر غور ہیں اور حکومت ان پر کوئی رعایت نہیں دے سکتی۔  اسی تناؤ میں نومبر 2024 کا تصادم ہؤا اور کشیدگی  میں  اضافہ کے ساتھ فریقین   کے درمیان فاصلے قائم رہے۔ اس بار تحریک انصاف کا مطالبہ قانونی حدود اور  بنیادی انسانی حقوق کے عین مطابق ہے۔ کسی بھی قیدی سے ملاقات اس کے عزیزوں اور  دوستوں کا بنیادی حق ہے ۔ عمران خان کو اس حق سے کیوں کر محروم کیا جاسکتا ہے۔ یادش بخیر اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان سے  ہفتہ میں  دو بار عزیزوں اور وکلا کی ملاقات کرانے کا حکم دے چکی ہے۔ بعد میں سپریم کورٹ نے بھی ایسا ہی حکم جاری کیا تھا لیکن حکومت نے ان احکامات کو ماننے سے انکار کیا  ۔ اب لانگ مارچ کو پر امن رکھنے کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کا حوالہ دے  کر خود کو جائز اور درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوال ہے کہ جس حکومت نے خود عدالتی احکامات کی پیروی نہیں کی، وہ اپوزیشن سے ان پر عمل کا کیسے تقاضہ کرسکتی ہے؟

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ  نے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے کہا تھا کہ’ عمران خان سے ملاقات اور علاج کی سہولیات آج کے مذاکرات میں چھوٹے ایشو تھے۔اصل ایشو خیبر پختون خوا میں دہشتگردی کے خلاف وفاق سے صوبائی حکومت کا تعاون تھا جس پر تحریک انصاف تعاون پر تیار نہیں ہوئی‘۔ ایسے میں سوال تو  یہ ہے کہ ایک قیدی کے بنیادی حقوق کو ملک میں کسی بڑے سیاسی یا سکیورٹی معاملہ کے ساتھ ملاکر کیسے دیکھا جاسکتا ہے۔ یا حکومت عمران خان کے ساتھ ملاقات کا معاملہ کسی سیاسی اتفاق رائے سے کیسے منسلک کرسکتی ہے۔ اگر تحریک انصاف  یا خیبر پختون خوا کی حکومت دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر اتفاق نہیں کرتیں تو اس کی سزا ایک ’قیدی‘ کو کیسے دی جاسکتی ہے؟   جیسا کہ رانا ثنااللہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے ، اگر حکومت نے عمران خان سے ملاقات کی اس شرط پر کرانے کی پیش کش کی تھی کہ دہشت گردی کے معاملہ پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تو یہ  ایک متاثرہ فریق کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے جس  کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں ہے۔

حکومت  کے پاس اب بھی یہ امکان موجود ہے کہ وہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیاں ختم کرکے سیاسی تناؤ کم کرنے کی کوشش کرے۔ ایسی سہولت کسی پیشگی شرط کے بغیر فراہم ہونی چاہئے کیوں کہ یہ عمران خان کا قانونی حق اور عدالتوں کے فیصلوں کے عین مطابق ہے۔ حکومت  ملاقاتوں کے معاملہ میں  اگرسخت پوزیشن  تبدیل کرلےتو اس سے اس کی اتھارٹی  کے بارے میں شبہات بھی کم ہوں گے۔ ورنہ تو یہی سمجھا جارہا ہے  کہ شہباز شریف کی حکومت عمران خان سے متعلق کوئی رعایت دینے کا اختیار ہی نہیں رکھتی!