مکہ معاہدہ کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنےکا فیصلہ

  • منگل 06 / اکتوبر / 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پائے جانے والے مکہ دفاعی اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر ان کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

مکہ اور مدینہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی اور ضرورت پڑنے پر فوجی قوت اور صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ خیال رہے سات اگست کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ریاض میں مکہ اتحاد برائے دفاع کی سٹریٹیجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات اور حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ سوموار کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق یہ تمام اقدامات طے شدہ انتظامات اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق ہوں گے۔

مکہ دفاعی اتحاد میں شامل فریقین کا کہنا تھا کہ اس سے فوجی تیاری، باہمی دفاعی تعاون اور خطرات سے نمٹنے کی مشترکہ صلاحیت مزید مضبوط ہو گی۔  پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق اس ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ اتحاد برائے دفاع کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تینوں ممالک نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اتحاد کے مقاصد کے حصول اور اسے مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق فریقین نے مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ ساتھ ہی سعودی عرب کے شہروں، شہری تنصیبات اور معاشی مراکز پر ہونے والے حملوں کو بھی قابلِ مذمت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا دھمکی کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔

کمیٹی نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر ان کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کے اختتام پر تینوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر رکن ملک کی سلامتی دراصل تینوں ممالک کی مشترکہ سلامتی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق فریقین کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع پر عملی اقدامات سے نہ صرف باہمی دفاعی تعاون مضبوط ہو گا بلکہ یہ بھی ثابت ہو گا کہ تینوں ممالک اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے متحد اور پُرعزم ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔