وزیر اعظم نے تحریک انصاف کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش کر دی

  • منگل 06 / اکتوبر / 2026

وزیراعظم  شہباز شریف نے  کہا ہے کہ بدقسمتی سے دھرنوں اور لانگ مارچ کے بھیانک سائے دوبارہ نمودار ہورہے ہیں۔ اتفاق رائے سے طے کیا کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ سے بامعنی، بامقصد مذاکرات کریں۔ مل بیٹھ کر باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈیں۔

ایک تقریب سےخطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی سے سپیکر چیمبر میں 2 دن بات چیت کی، امید کی جارہی تھی بات چیت سے مثبت نتائج ظاہر ہوں گے۔  بلکہ پرامید تھے بات چیت کے بعد دھرنوں کی سیاست کو خیرباد کہا جائے گا۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی وفد نے طے شدہ چیزوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کو کہوں گا آپ ہوش کے ناخن لیں، لانگ مارچ اور دھرنوں کو ختم کریں گے توآپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔ قوم کی منشا ہے کہ پاکستان محنت، امانت اور دیانت کے ساتھ آگے بڑھے۔

اس دوران گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ یہ پنجاب کے ضلع اٹک سے آگے بڑھ پائے۔ نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ ’وہ اٹک سے آگے نہیں جا پائیں گے۔ یہ اُن کی خوش فہمی ہے مگر وہ اٹک سے آگے قدم تو رکھ کر دکھائیں۔ اُن میں اتنی سکت نہیں ہے۔ کہاں ہے وہ 20 لاکھ کا مجمع جس کی وہ بات کر رہے تھے۔ شاید اٹک تک آتے آتے دو ہزار لوگ بھی اُن کے ساتھ نہیں ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’جب بھی وفاق نے شدت پسندی کے معاملے پر خیبرپختونخوا کو سپورٹ کرنے کی بات اور کوشش کی تو انہوں (خیبرپختونخوا حکومت) نے ہمیشہ یہی کہا کہ فوج یہاں (صوبے) سے نکل جائے۔ یہ وفاق کو کہتے ہیں کہ ایسے ملک (افغانستان) سے بات کریں جو پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے۔‘

دوسری جانب پنجاب کے محکمہ داخلہ نے منگل کی صبح صوبے بھر میں اگلے دس روز کے لیے دفعہ 144کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ آئندہ دس روز کے لیے ہو گا جس کے تحت کسی بھی پبلک مقام، شاہراہ اور موٹر وے پر پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کو اکھٹا ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ملک دشمن اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے صوبے میں شدت پسندانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے جن میں پبلک مقامات پر خودکش حملوں کے علاوہ بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق شدت پسندوں کی ان ممکنہ کارروائیوں میں جلسے جلوس اور احتجاج آسان ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ ان اطلاعات کی روشنی میں پنجاب پولیس کے سربراہ کے علاوہانسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کی طرف سے کہا گیا کہ شدت پسند تنظیموں کی ایسی ممکنہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی جو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں، نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ملک کے کونے کونے سے لوگ صوابی پہنچیں۔ جہاں سے آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔  وزیر اعلی کی قیادت میں لانگ مارچ چار اکتوبر کو لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے شروع ہوا اور کرک سے ہوتا ہوا گزشتہ رات کوہاٹ کے علاقے لاچی پہنچا جہاں مظاہرین نے قیام کیا۔

پشاور کے بعد لانگ مارچ کا آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا اس بارے میں اب تک پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔