بے صبری کے زخم!
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 06 / اکتوبر / 2026
جب کسی معاشرے میں بے صبری پھیل جائے تو اس کی حالت اُس گاڑی جیسی ہو جاتی ہے جس کے بریک فیل ہوگئے ہوں۔ پھر وہ بے تکان اور بلارکاوٹ چلتی جاتی ہے تاوقتیکہ کوئی حادثہ اسے روک نہ دے۔
بے صبری کا کیا دھرا ہے کہ ہمارے ہاں آج تک قطار میں لگ کر انتظار کرنا ہمارا بہت بڑا دکھ ہے جہاں کہیں لمبی قطار دیکھیں، سفارشیں ڈھونڈتے ہیں یا راستے نکالتے ہیں کہ کسی طرح لائن کو توڑ کر آگے نکل جائیں۔ ہماری اس بے صبری سے فائدہ اٹھا کر بعض اداروں نے لائن سے بچنے کے دوگنا ریٹ رکھ دیئے ہیں۔ پاسپورٹ جب قطار میں لگ کر بنوانے میں شرم آئے تو ہم ایگزیکٹو سنٹر چلے جاتے ہیں، جہاں دوگنا فیس بھر کر وی آئی پی طریقے سے کام کروا کے واپس آتے ہیں۔ ریلوے پھاٹک پر اپنی سائیڈ اور قطار میں کھڑے ہونے کی بجائے سامنے سے آنے والوں کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر جب ٹریفک پھنستی ہے تو گالیاں ریلوے پولیس یا وارڈنز کو دیتے ہیں۔
یہ ایک وتیراہے جو ہماری جان نہیں چھوڑ رہا۔ بے صبری کے مظاہر قدم قدم پر نظر آتے ہیں حتیٰ کہ دہی بھلے کی ریڑھی پر بھی ہماری بے صبری کم نہیں ہوتی اور ہم چاہتے ہیں دہی بھلے والا سب کو چھوڑ کر ہمیں دہی بھلے پہلے دے۔ ایسے میں لڑائی جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں۔ اب کوئی اُن سے پوچھے کیا دہی بھلے پہلے یا بعد میں کھانے پر جھگڑا بنتا ہے؟ بنتا ہو یا نہ بنتا ہو ہم نے بنا لینا ہے۔ بعض اوقات بات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بندہ تک مار دیتے ہیں۔ بے صبری کا فائدہ اٹھانے والے بھی بہت ہیں بلکہ ان کا تو کاروبار ہی لوگوں کی بے صبری سے چلتا ہے۔ دفاتر میں معمول کے مطابق بھی کام ہو جاتے ہیں مگر ہم جان بوجھ کر رشوت کیلئے اپنا کندھا پیش کرتے ہیں۔ اسی بے صبری کی وجہ سے کلرک بادشاہ فائل ایک دو دن روک دیتے ہیں، جس پر انہیں منہ مانگی مٹھائی دے کر فائل نکلوا لی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے بے صبری نظام نے ہمارے اندر ڈالی ہے یا خود ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔
میرا خیال ہے اس میں بڑا کردار ہماری بے صبری کا ہے۔ میں کل شمس آباد چوک ملتان سے گزر رہا تھا تو میں نے گرین بس دیکھی، جو سٹاپ پر کھڑی تھی اور چھ سات مسافر ہوں گے جنہوں نے بس میں سوار ہونا تھا مگر ایسے گیٹ پر دھکم پیل کر رہے تھے جیسے رہ گئے تو جنت سے محروم ہو جائیں گے۔ بس کے شیشوں سے صاف نظر آ رہا تھا کہ اس میں کافی گنجائش موجود ہے، مگر ہائے بے صبری وہ چین کہاں لینے دیتی ہے ۔جب ہم قطار توڑتے ہیں تو درحقیقت خود بھی ایک کرپشن کرتے ہیں۔ ہمارے اس رویے سے فائدہ اٹھانے والے کرپٹ مافیا کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ہمارے دفاتر، کچہریوں، پٹوار خانوں حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی ایک کردار جس کا نام ٹاؤٹ ہے پایا جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس بات کا فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ فلاں جگہ رش بہت تھا، تاہم ٹاؤٹ کو دو ہزار روپے دے کر جلدی کام کرالیا۔
اس بے صبری نے معاشرے میں وی وی آئی پی کلچر کو پروان چڑھایا جو اختیار والے ہیں وہ سفارش کراکے کام نکلواتے ہیں، جو پیسے والے ہیں وہ پیسہ پھینک کر تماشا دیکھتے ہیں۔ رہ گیا عام آدمی تو وہ بے چارہ قطار میں لگ کر اپنا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دفتروں میں بیٹھے بابو ان سے بھی یہی چاہتے ہیں وہ پیسہ پھینکیں اور تماشا دیکھیں مگر غریبوں کے پاس دکھ، تکلیفوں اور محرومیوں کا تو بڑا سٹاک موجود ہے، پیسہ نہیں ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے قوم کی حالت جاننی ہو کہ وہ کتنی مہذب ہے تو اس کی ٹریفک کو دیکھ لیں۔ اگر ٹریفک ہموار ہے،قانون قاعدے کے مطابق چل رہی ہے، ہر ڈرائیور اپنی لین اور لائن کا خیال رکھ رہا ہے۔ کہیں ہڑبونگ ہے اور نہ ٹریفک جام تو سمجھو معاشرہ مہذب اور حسن ترتیب کا حامل ہے۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر معاشرے کے پُرانتشار ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ ٹریفک کو پُرانتشار بنانے میں بھی ہماری یہ بے صبری ہی سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آپ جس ٹریفک حادثے کو بھی دیکھیں اُس میں بے صبری کا کردار سب سے نمایاں ہوگا۔ اوورٹیک کرنے کا موقع نہیں ہوتا مگر ہم بے صبری کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسا کرتے ہیں اور سامنے سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا جاتے ہیں، حد رفتار کے بورڈ لگے دیکھتے ہیں مگر رفتار کم نہیں کرتے، کبھی آپ نے بسوں کے ڈرائیوروں کو خطرناک طریقے سے ریس لگاتے دیکھا ہے۔ بس خبط یہ ہوتا ہے کہ دوسری بس والا مجھ سے آگے نہ نکلے۔ اس خبط میں خطرناک حادثہ ہوتا ہے اور درجنوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ہائی وے اور ٹریفک پولیس والوں نے جگہ جگہ لکھ کر لگا رکھا ہوتا ہے کہ دیر سے پہنچنا نہ پہنچنے سے بہتر ہے۔ یا ڈرائیونگ بے صبری کا کام نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مگر کون سنتا ہے فغانِ درویش، ایسے بورڈ دیکھ کر ہمارے ڈرائیور حضرات ریس مزید بڑھا دیتے ہیں۔
ہم نے تو اپنی سیاست میں بھی بہت بے صبری کا استعمال کیا ہے۔ پانچ برس کیلئے منتخب ہونے والی حکومت کو سال ڈیڑھ سال بعد گھر بھیجنے کی جلدی ہم کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک بار نہیں یہ تماشا ہم نے بار بار دیکھا ہے۔ اس بے صبری کا کیا دھرا ہے کہ جمہوریت ہمارے ہاں پانی کا بلبلہ ہو رہی ہے۔ اونچا سانس لینے سے بھی یہ غبارہ یہ بلبلا پھٹتا رہا ہے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر سے حکومت بدلتے رہے ہوں۔ ہم سڑکوں پر لانگ مارچوں اور دھرنوں کے ذریعے حکومت کو جانے پر مجبور کرتے آئے ہیں۔ اسی بے صبری کانتیجہ ہے کہ آج ہم ایک سیاسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے مذاکرات میں بھی بے صبری ہوتی ہے اور مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرنا بھی ہمیں بے صبر رکھتا ہے۔ اتنے عرصے بعد اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے تو اس میں اتنی جلدی کیا تھی، کئی دن بھی سیشن ہوتے تو ہونے دیتے۔ بات کسی کنارے تو لگاتے، مگر یہاں تو ایسا لگا کہ حکومت چٹ منگنی پٹ بیاہ چاہتی ہے۔ اپنے مطلب کا معاہدہ کرنے کی کوشش کبھی کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔
چھوٹے چھوٹے مطالبات جو صرف ضد کے زمرے میں آتے ہیں ،مان لیتے تو بڑا بریک تھرو ہو جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا اور ایک بار پھر سیاسی سطح پر کشیدہ صورت حال بڑھ رہی ہے۔ اس موقع پر طاقت کا آپشن استعمال کرنا حالات کو بگاڑ سکتا ہے۔ سیاسی دانشمندی ہی واحد راستہ ہے جو منجدھار سے نکالے گا۔ تاہم اس کیلئے صبروتحمل سے کام لینا ہوگا جو اس وقت مفقود نظر آ رہا ہے۔ بے صبری کو اگر ہم اپنے معاشرے اور سیاست سے نکال دیں تو ایک مثالی جمہوری ملک بن سکتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)