تحریک انصاف! رک جاؤ

دہشتگردی والے نکتے میں ایسا کیا تھا کہ تحریک انصاف پیچھے ہٹ گئی اور مذاکرات ناکام ہو گئے؟ صرف اس سوال کا جواب سیاسی عصبیت سے بلند ہو کر تلاش کر لیا جائے تو باقی کی ساری گتھیاں خود بخود کھل جائیں گی۔

تحریک انصاف ہر اس چیز کو ٹارگٹ کرتی ہے جس سے ریاست کو زک پہنچائی جا سکے۔ اس کا خیال شاید یہ ہے کہ اس سے ریاست مجبور ہو جائے گی  اور تحریک انصاف سے معاملہ کر لے گی۔ یہ حکومت سے نہیں، ریاست کی مجبوریوں سے کھیلتی ہے۔ اسے بھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کھیل اس کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ریاست کی ایک مجبوری معیشت تھی۔ یہ کوئی معمولی بحران نہ تھا۔ قومی سلامتی داؤ پر لگی تھی ۔ تحریک انصاف نے اسے کمزور پہلو کو اپنے نشانے پر لے لیا ۔ بیرون  ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی رقوم پاکستانی ریاست کی لائف لائن تھیں۔ تحریک انصاف نے اسی لائف لائن کو نشانہ بنایا۔ اس نے اوورسیز سے کہنا شروع کر دیا کہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے رقوم پاکستان نہ بھیجی جائیں۔

اس بحرانی کیفیت میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا تو تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو باقاعدہ خط لکھ کر مالی معاملات کو پاکستان کی داخلی سیاست سے مشروط کرنے مطالبہ کیا۔ خیبرپختونخوا میں اپنے وزیر خزانہ کو کہا گیا کہ تم نے ایسا مؤقف اختیار کرنا ہے آئی ایم ایف سے معاملات کامیاب نہ ہو سکیں۔ تحریک انصاف کا خیال تھا کہ جب ریاست پر معاشی دباؤ بڑھے گا تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے اور یہ تحریک انصاف کے دباؤ کے آگے جھک جائے گی۔ یہ دونوں وار ناکام گئے۔ پاکستان سفارتی محاذ پر بھی تنی ہوئی رسی پر چل رہا تھا۔ خطے کی صورتحال نازک تھی۔ ایسے میں بیرون ملک لابنگ کرکے پاکستان کے خلاف حقوق انسانی اور جانے کون کون سے مقدمے کھڑے کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا خیال تھا کہ ٹرمپ آ جائے گا ایک 2 فون کال آئیں گی اور ریاست ان کے آگے جھک جائے گی۔ جمع تقسیم پوری تھی لیکن پھر حالات نے کچھ ایسی کروٹ بدلی کہ یہ داؤ بھی ناکام ہوا۔

آرمی چیف کی تعیناتی کا مرحلہ آیا تو انہوں نے ایک بار پھر نظام زندگی مفلوج کرنے کا فیصلہ کرلیا تاکہ ایسی افراتفری مچے کہ ریاست خان صاحب کے دردولت پر حاضر ہو کر، ہاتھ باندھ کر عرض کرے ، مہاراج  کیا حکم ہے؟ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ بھی اسی سوچ کا اظہار تھا کہ سب کچھ مفلوج کر دو یہاں تک کہ ریاست بے بس ہو کر خان صاحب کے حجرے میں حاضر ہو جائے کہ سرکار حکم آپ کا، راج آپ کا۔ ہمارے لیے کیا فرمان ہے۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے۔ دہشتگردی بھی اپنی نوعیت میں سنگین ترین۔ صرف بھارت نہیں، افغانستان بھی اس میں شریک ہے۔ پاکستان کو سینڈوچ بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ آئے روز فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے دیکھا کہ یہ تو ریاست الجھ چکی ہے اور اسے دہشتگردی سے نپٹنے کے لیے صوبائی حکومت سے تعاون کی ضرورت ہے چنانچہ اس نے حسب عادت اس پہلو کو بھی ویپنائز کر دیا۔

اس نے دہشتگردی کی مذمت کرنے کی بجائے اپنی ہی افواج اور سیکیورٹی کے اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ ایسا بیانیہ بنایا گیا کہ دہشتگردی کی نفی کرنے کی بجائے ان کے سوشل میڈیا کے وابستگان ریاست کے شہدا کی تضحیک کرنے لگے۔ ان کے قائد حزب اختلاف نے قومی فوج کو 4 اضلاع کی فوج کہنا شروع کر دیا۔ یہ شہدا کے جنازوں سے بھی لاتعلق ہو گئے۔ انہں نے اپنے ہی اداروں کے آرمی ایکشنز کو ہد ف تنقید بنا لیا۔ ان کا خیال تھا کہ ریاست یہاں پریشانی کا شکار ہے۔ ہم اگر ریاست ہی کو تھوڑا مزید پریشان کریں تو یہ مجبور ہو جائے گی۔ اس کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا اور گھبرا کر ہمارے حضور حاضر ہوگی اور ہماری بات مان لے گی لیکن ہمیشہ کی طرح ان کا یہ داؤ بھی ناکام گیا ہے۔

دہشتگردی کے خلاف ریاست نے آخر ان سے کیا مانگا تھا کہ انہوں نے مذاکرات کو وہیں چھوڑ دیا اور چادر جھاڑ کر واپس لوٹ گئے؟ کیا ریاست نے کوئی ناجائز مطالبہ کیا تھا؟ صرف گزشتہ 2 سالوں میں کے پی میں 700 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔ 2021 کے مقابلے میں سال 2025 میں دہشتگرد حملوں کی تعداد میں 4 گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔ یہ سال تو ابھی مکمل بھی نہیں ہوا اور 250 شہری اور 310 سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں ریاست اگر صوبائی حکومت سے تعاون مانگتی ہے تو اس میں کیا غلط ہے؟ یہاں اگر کوئی ریاست کو بلیک میل کر کے اپنے حساب برابر کرنا چاہتا ہے تو اس رویے کو کیا نام دیا جائے؟

تحریک انصاف کا معاملہ بھی عدیم ہاشمی والا ہے کہ ’کوئی بھی کام کم کرنا اسے ہرگز نہیں آتا‘۔ محبت کرتی ہے تو بے حد، محبوب کو قوم کا باپ ہی قرار دے ڈالتی ہے اور نفرت کرنے پر آتی ہے تو بے پایاں، ولن قرار دینے پر مچل جاتی ہے۔ سیاست تو اسے بالکل نہیں آئی، یا ناز دکھاتی ہے یا پھر برہم ہو جاتی ہے۔ نہ نازو ادا میں توازن قائم رکھ پاتی ہے نہ برہمی میں۔ اسی لیے تو معاملات یہاں تک پہنچے ہیں۔ تحریک انصاف جسے غزل سمجھتی ہے وہ  دراصل جواب آں غزل ہوتا ہے۔

ابھی بھی وقت ہے، تحریک انصاف کی خیر خواہی یہ نہیں ہے کہ اس سفر میں اسے ہلا شیری دی جائے۔ خیر خواہی یہ ہے کہ اسے کہا جائے رک جاؤ، آگے آگ ہے۔

(بشکریہ: وی نیوز)