جنگ کی آگ کے پھیلتے شعلے
- تحریر ایاز امیر
- بدھ 07 / اکتوبر / 2026
آٹھواں مہینہ ہے اس جنگ کا اور جب امریکی اور اسرائیلی حملے ایران پر ہوئے کوئی سوچ سکتا تھا کہ اس انداز سے اس جنگ کے شعلے پھیلتے جائیں گے؟ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز تو اس جنگ کے پہلے محاذ تھے۔ امریکی اڈے اور اسرائیلی ٹھکانے جنگ کے دائرے میں آئے۔ جی سی سی ممالک کی تنصیبات پر حملے ہوئے۔
تیل کی عالمی قیمتیں اوپر جانے لگیں۔ اس وجہ سے پوری دنیا پر اس جنگ کے اثرات آئے۔ مہینوں بعد یمن کا محاذ گرم ہو گیا اور اب سعودی ٹھکانوں پر حملوں کی پاداش میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ترکیہ اور پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی افواج اور دفاعی ساز وسامان سعودی عرب بھیجے جائیں گے۔ کہاں سے بات شروع ہوئی اور کہاں پہنچتی جا رہی ہے۔ہر طرف سے ترکیہ اور پاکستان کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ یہ تبصرے بھی ہو رہے ہیں کہ ان دو ممالک کی افواج کہاں ڈِپلائے ہوں گی اور ان کی ڈِپلائمنٹ کا مقصد کیا ہو گا۔
قیاس یہی ہے کہ ترکیہ اور پاکستانی دستے مکہ اور دیگر سٹرٹیجک مقامات پر دفاعی پوزیشنیں سنبھالیں گے۔ ایئر ڈیفنس رول ان کا نمایاں ہو گا۔ دونوں ممالک کے دستوں کے آنے سے سعودی افواج، خاص کر کے سعودی نیشنل گارڈز فری ہو جائیں گے یمن کے محاذ پر جانے کیلئے۔ ابھی سے سعودی فضائی حملوں کی وجہ سے سعودی حمایتی یمنی فورسز نے کچھ پیش قدمی کی ہے۔ خبریں تو یہ بھی ہیں کہ مایون کا جزیرہ اور باب المندب کے قریب دوسرے ٹھکانوں پر سعودی حمایتی فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔ سعودی فضائی حملوں میں امریکی کردار کلیدی ہے کیونکہ ٹارگٹنگ کی ساری انفارمیشن امریکی مہیا کر رہے ہیں۔ امریکی بتا رہے ہیں کہ کہاں کہاں حملے کرنے ہیں اور اس پر عمل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے میدان جنگ میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے۔
حوثیوں کے خلاف جنگ سعودیوں کیلئے کوئی معمولی جھڑپ نہیں۔ تبصرہ کار تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ سعودیوں کیلئے یہ بقا کی جنگ ہے۔ سعودی تنصیبات پر حملے کرکے حوثیوں نے سعودیہ کا بہت کچھ خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سعودی طاقت اور اثر کی بنیاد ایک چیز ہے:تیل کی دولت۔ یہ خطرے میں پڑ جائے تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ اور حوثیوں نے حملہ کیا ہے تو اس شہ رگ پر۔ لہٰذا یہ بات یہاں رکنے والی نہیں۔ سعودیوں کے سروں سے جب تک یہ خطرہ ٹلتا نہیں انہیں چین نصیب نہیں ہو سکتا۔
اندرونی سکیورٹی ڈیوٹیوں سے آزاد ہونے کا مطلب ہے کہ نیشنل گارڈ یمن میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ تبصرہ کار تو کہتے ہیں کہ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ کی فوج یمن میں دور تک جائے، تب صحیح معنوں میں حوثیوں کے خلاف جنگ کا رخ تبدل ہو سکتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کا فعال ہونا اس لیے اہم ہے کہ سعودی افواج کو اب موقع ملتا ہے کہ یمن میں زیادہ نمایاں طور سے آگے بڑھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حوثی زیادہ پیچھے دھکیل دیے گئے تو پھر ایران کیا کرے گا؟ اس سوال کا حتمی جواب دینا اس وقت مشکل ہے کیونکہ ایران کو اپنے دفاع کی پڑی ہوئی ہے اور کچھ پتا نہیں کہ آگے کیا ہونا ہے۔اسرائیل نے کیا کرنا ہے اور کس قسم کے خیالات صدر ٹرمپ کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔
ذرا غور تو کیجیے کہ جی سی سی ممالک جو کہ تیل کے سمندروں پر بیٹھے ہیں، نے سمجھ رکھا تھا کہ ان کی دنیا ایسے ہی قائم رہے گی اور ان پر کسی قسم کی آنچ آنے کا کوئی تصور بھی نہ ہو سکے گا۔ اونچی بلڈنگیں بنائے جاؤ، دنیا کی ہر فضول خرچی پر پیسے خرچ ہوتے رہیں تو کیا فرق پڑے گا کیونکہ تیل کی دولت نے ختم تو ہونا نہیں۔ دبئی کا ڈویلپمنٹ ماڈل دیکھ لیں،سعودی عرب کے خواب کیا تھے اور سعودی معیشت تیل سے ہٹ کر سیاحت اور دیگر چیزوں کی طرف مڑ جائے گی۔ اس فضول کی جنگ کی وجہ سے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ جہاں فضول خرچیوں کا سوچا جاتا تھا وہاں بقا کی بات آ گئی ہے۔ سارے ڈویلپمنٹ ماڈلوں کے پیچھے تکیہ امریکی طاقت اور امریکی ملٹری اڈوں پر تھا کہ ان کے ہوتے ہوئے ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ جب امریکی اڈے تباہ ہو گئے تو پیچھے کیا رہ جانا تھا۔ لیکن اتنے خطرات منڈلانے کے باوجود اب بھی جی سی سی ممالک اس پوزیشن میں نہیں کہ تھوڑی اونچی آواز میں امریکہ سے کہہ سکیں کہ جو تباہی کرنی تھی کر دی، اب تو بس کر جاؤ۔ ابوظہبی، کویت اور بحرین ویسے بیچ میں پھنسے ہیں۔ امریکی اڈے تباہ اور تیل کی ترسیل بند۔ خزانے ان کے بہت بڑے تھے اور انہی سے اب خرچہ چلایا جا رہا ہے۔ لیکن سوچتے تو ہوں گے کہ کس انجانی تباہی میں پھنس گئے ہیں۔
سعودی عرب کا مسئلہ سب سے الگ ہے کیونکہ اپنے جنوبی بارڈر پر ایک باقاعدہ جنگ چھڑ چکی ہے۔ کہنا تو آسان ہے کہ ایک لاکھ فوجی جائیں تو یہ ہو جائے گا لیکن فوجی بوٹوں کیلئے یمن کی سرزمین اتنی آسان نہیں۔ فضائی حملوں کی اہمیت تو اپنی جگہ لیکن ان کا اثر ایک حد تک ہی ہو سکتا ہے۔ ایران میں امریکیوں اور اسرائیلیوں نے فضائی بمباری اور میزائل حملے کیا کم کیے ہیں؟ ایران کی تباہی بہت ہوئی ہے لیکن ایران کی شکست تو نہیں ہوئی۔ ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ اب بھی جہاں چاہے حملہ کر رہا ہے۔ یہی مماثلت یمن پر فِٹ ہوتی ہے۔ حوثیوں کے پاس تو کوئی ہوائی جہاز نہیں لیکن ڈرون اور میزائل تو ہیں۔ پیچھے دھکیلے گئے تو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ یہاں پر ترکیہ اور پاکستان کا رول اہم ہو جاتا ہے۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ پہلی جنگ عظیم تک نجد اور حجاز پر حکمرانی سلطنتِ عثمانیہ یعنی ترکوں کی تھی۔ جنگ عظیم میں ترکوں نے شکست کھائی تو انگریزوں اور فرانسیسیوں نے خطے کا نقشہ سامنے رکھا‘ نقشے پر لائنیں کھینچیں اور یہ بیشتر ریاستیں جو جی سی سی کا حصہ بنیں، معرضِ وجود میں آئیں۔ اُردن،عراق،موجودہ کویت، حتیٰ کہ جی سی سی کا سب سے بڑا ملک، سب پہلی جنگ عظیم کے بعد جو علاقے کا بندوبست بنا اس سے یہ سلطنتیں ابھریں۔ اور آج امریکی اور اسرائیلی حملے کی وجہ سے وہ سارا بندوبست خطرے میں پڑا ہے۔ الزام ایران پر لگائے جاتے ہیں کہ ایران نے حملے کیے لیکن زبانوں پر امریکی اور اسرائیلی حملے کی مذمت نہیں لائی جاتی۔ یہ ہمارے ممالک کا مسئلہ ہے کہ اپنا وجود کمزور ہے اور بقا کیلئے غیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
شاہ ایران کی مثال بھی سبق آموز ہے۔ وزیراعظم محمد مصدق کے ہٹائے جانے کے بعد شاہ ایران کو تخت پر واپس امریکی اور برطانوی لائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب تیل کی دولت آنے لگی تو شاہ ایران بڑے خواب دیکھنے لگے۔ گھمنڈ ایسا آیا کہ مغربی دنیا کو بھی نصیحتیں کرنے لگے۔ جب اکتوبر 1971میں تختِ جمشید کے مقام پر شاہ ایران نے دنیا سے بلائے ہوئے سربراہان کیلئے ضیافت رکھی تو پیسہ ایسے بہایا گیا کہ دنیا حیرت میں ڈوب گئی۔ شاہ ایران یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کی حکمرانی ہمیشہ کیلئے رہے گی۔ 1979 میں ایران شورشِ انقلاب میں گھِرا تو شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اور پھر ملک ملک ٹھوکریں کھانی پڑیں۔
پچھلے سال کی بات ہے کہ عرب سربراہان نے کس انداز سے صدر ٹرمپ کا استقبال کیا۔ خوش کرنے کیلئے کیا کچھ نہ کیا۔ اس وقت کوئی سوچ سکتا تھا کہ کچھ ہی عرصے میں سارا خطہ ہل کے رہ جائے گا اور جنگ کے شعلے یوں بلند ہوں گے؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)