مکڑی کا جالا

برادرم یاسر پیرزادہ نے ’ایک ڈاکٹر کی ڈائری ‘ لکھ کر اپنی علالت کا احوال بیان کیا تو مجھے بھی اپنا پوشیدہ کرودھ بیان کرنے کا حوصلہ ہوا۔ عنوان دیکھ کر تو چینی ادیب لوہسون کا افسانہ ’پاگل آدمی کی ڈائری‘ کا خیال آیا تھا۔

یہ افسانہ لوہسون نے 1918میں لکھا تھا۔ تاریخ میں بارہا ایسے موڑ آتے ہیں جب اچھے بھلے انسان کا ناریل چٹخ جاتا ہے۔ اب 1918کے برس ہی کو لیجئے۔ 1911 میں Sun Yat-sen نے شہنشاہیت کا خاتمہ کر کے چین میں جمہوریہ قائم کر دی تھی لیکن عالمی صورتحال اور خود چین کی تاریخ ایسی پیچیدہ تھی کہ اسے کسی ایک اقدام سے سیدھی سڑک پر لانا ممکن نہیں تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں چینی وطن پرستوں نے محوری قوتوں کے مقابلے میں یورپی فریق کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ نومبر 1918 میں اتحادیوں کی کامیابی کی خبر آنے پر چین میں جشن منایا گیا۔ امید یہ تھی کہ عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد جرمنی سے چین کے مقبوضات واپس مل سکیں گے لیکن داخلی معاشی توانائی اور سیاسی استحکام سے محروم قومیں مذاکرات کی میز پر کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔

پیرس کی امن کانفرنس میں اہل چین کی امیدیں ڈوب گئیں ۔ ادھر انفلوانزا کی وبا میں تقریباً ایک کروڑ چینی ہلاک ہو گئے۔ چین کی سیاست اون کے گچھے کی طرح داخلی اختلافات اور عالمی طاقتوں کے کھیل میں الجھی ہوئی تھی۔ یہ تو رہا لوہسون کے اردو افسانے ’پاگل آدمی‘ کی ڈائری کا پس منظر۔ اس سے کوئی بیس برس بعد 1940 میں سعادت حسن منٹو نے بھی ’نعرہ‘ کے عنوان سے ایک افسانہ لکھا تھا۔ کیشو لال نام کا ایک غریب ہندو کلرک سیٹھ کے مکان کی سیڑھیاں چڑ ھ رہا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کا کرایہ ادا نہیں کیا اور اس مہینے بھی کرائے کی ادائی کا انتظام نہیں ہو سکا۔ کیشو لال منت سماجت کرکے سیٹھ کے دل میں کوئی نرم گوشہ دریافت کرنے کی امید میں ہے لیکن دو منزلہ مکان کی بالائی منزل پر بیٹھا بنیا تو شیکسپیئر کے کردار شائی لاک کی طرح ہندسوں سے بنا ہے۔ ہندسے تو لین دین کے بہی کھاتے پر کھنچے بے حس نشان ہوتے ہیں۔

انسانوں نے حرف اور لفظ کی زبان اسی لیے ایجاد کی کہ جذبہ اور احساس بیان کیے جا سکیں۔ کیشو لال کی منت و زاری سن کر سیٹھ دو بڑی گالیاں لڑھکا دیتا ہے۔ یہ گالیاں کیشو لال کے حلق میں پھنس جاتی ہیں۔ وہ ذلت سے بوجھل قدم اٹھاتا نیچے اترتا ہے اور سڑک پر پہنچ کر سیٹھ کو بلند آواز میں گالی دینا چاہتا ہے۔ یہ گالی اس کے حلق سے نعرے کی صورت میں برآمد ہوتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے لوہسون کے کردار نے اپنی بے بسی اور ذلت بے ربط ڈائری کی صورت میں لکھ رکھی تھی۔ انسانوں کی محرومیوں اور بے بسی کے پتھروں سے جو کونپلیں پھوٹتی ہیں، وہ بظاہر روزمرہ کی گالیاں ہوتی ہیں لیکن یہ گالیاں حتمی تجزیے میں سیاسی نعرہ بن جاتی ہیں۔ سیاسی احتجاج اختیار اور اقتدار کی فصیلوں پر برسائے گئے نعرے ہی تو ہوتے ہیں۔

سگمنڈ فرائیڈ کے بعد کارل یونگ ایک بڑے نفسیات دان گزرے ہیں۔ فرائیڈ کی مفروضہ مادی نفسیات سے بیزار قدامت پسند ذہنوں نے یونگ کی نیم رس روحانیت میں فرائیڈ کی نفسیات سے نجات کا امکان دیکھا۔ یورپ میں تو علمی ارتقا قابل تصدیق مکالمے کی صورت اختیار کرتا ہے۔ ہمارے منطقے میں یہ مکالمہ مناظرے میں ڈھل جاتا ہے۔ بات صرف اتنی تھی کہ فرائیڈ نے خواب کو ہماری دبی ہوئی خواہشات کا اظہار قرار دیا۔ کارل یونگ نےاس قضیے کو الٹ کر یوں بیان کیا کہ خواب اپنے استعاروں اور علائم کی صورت میں ہمارا نفسیاتی توازن استوار رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور مجموعی طو ر پر ہمارے نفسیاتی خلفشار کو پاگل پن میں بدلنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ دونوں اساتذہ میں کچھ ایسا بنیادی اختلاف نہیں۔ فرائیڈ انفرادی تحت الشعور کی اکائی سے جو کام لینا چاہتا تھا، کارل یونگ نے اسے اجتماعی لاشعور کا رنگ دے دیا کیونکہ جدیدیت میں انفرادیت کو خاص مقام حاصل ہے اس لیے ریوڑ کی صورت چلنے والی بھیڑ بکریوں کو کارل یونگ میں اپنا ہمزاد نظر آیا۔ یاسر پیرزادہ کی ضیق النفس پر مبنی کیفیت سے شروع ہونے والا یہ قصہ درویش تک پہنچتا ہے تو وہ خواب کی عبا اتار کر کچھ سامنے کی باتیں کہنا چاہتا ہے۔

عمرگزشتہ کے چھ عشرے مداہنت کے قلم میں منافقت کی روشنائی کا زیاں رہے۔ آج ارادہ ہے کہ خواب سے حقیقت کی طرف سفر کیا جائے اور کھل کر بتایا جائے کہ میری حب الوطنی محض سانس کی ڈوری قائم رکھنے کا عذر لنگ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے ملک کے سیاسی بندوبست ، یہاں رہنے والوں کی اقدار اور یہاں کے اہل دانش کی اخلاقی پسماندگی سے سخت اذیت میں ہوں۔ ایک مدت یہ خیال رہا کہ اس زمین سے بزرگوں کے ہاڑ کا رشتہ بندھا ہے، اب وہ بہانہ بھی جاتا رہا۔ چھتنار پیڑ کٹ گئے۔ جہاں تک نظر جاتی ہے محرومی، ناانصافی ، جہالت اور زور آوری کی دھوپ کانٹوں کی صورت ہر بن مو میں چبھتی ہے ۔ میں جس ملک میں رہتا ہوں یہاں کا سیاسی بندوبست مکڑی کا جالا ہے۔ یہاں کے فیصلہ ساز تدبر سے خالی ہیں۔ یہاں کے سرمایہ دار کیشو لال کا سیٹھ ہیں۔ یہاں کے اہل دانش ایسے رذیل ہیں کہ ان کی زر بافتہ ٹوپیاں تخت پادشاہی کے زینوں پر گری پڑ رہی ہیں۔ یہاں کے صحافی خبر اور علم سے عاری بکاؤ نقارچی ہیں۔ یہاں کا تاجر ٹیکس چور ہے۔ یہاں کے اہل ثروت کو مذہبی ظواہرکا سرسام ہے۔ یہاں کے علما روباہی کے اس درجے پر ہیں جہاں انہیں علم کی سطوت اور حریت کی بلند نگاہی سے کوئی نسبت نہیں۔ یہاں کے استاد خلعت فاخرہ کے دست فروش ہیں۔ یہاں کے افسر سورج مکھی کی زرد فصل ہیں۔ یہاں کا شریف شہری عزت نفس سے محروم، کرم و خاشاک سے بھی کم مایہ مخلوق ہے۔

یہاں ماؤں کے آنسو بے نمک ہو چکے۔ یہاں بوڑھوں کے پائے لرزاں کا زمین سے رشتہ کٹ چکا۔ ہمارے بچوں کی ہنسی کہیں خلا میں گم ہوگئی ہے۔ یہاں کے نوجوان خواب نہیں دیکھتے ۔ان کی آرزوئیں سگمنڈ فرائیڈ کے تحت الشعور پر کدال کا کوئی نشان چھوڑتی ہیں اور نہ کارل یونگ کے اجتماعی لاشعور کی کوئی لوح سلامت ہے۔ درویش نے ساٹھ برس ایک ایسی صبح کے انتظار میں اس زمین پر سجدہ ہائے الفت ثبت کیا، جس کی کرن اب کہیں دور دور نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے میری غداری ابھی کسی سرکاری فائل ہی میں کارِ آمدہ کے انتظار میں رکھی ہو لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ میرا گمان یقین میں بدل رہا ہے کہ میں حب الوطنی کے قطعہ سبز سے غداری کی سطح مرتفع پوٹھوہار کی طرف بڑھ رہا ہوں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)