اے آئی کا خاتمہ کیسے ہوگا؟

اگر انسان کی تخلیق کا کوئی مقصد ہے تو وہ بہرحال مائیکروسافٹ ایکسل پر کام کرنا نہیں۔ انسان شاعری کرے، گلوں میں رنگ بھرے، گیت لکھے، نغمے گائے اور کسی کو سنائے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ صبح آنکھ کھلتے ہی واٹس ایپ کھولا اور مکروہاتِ دنیاوی میں الجھ گئے؟

رہی سہی کسر مصنوعی ذہانت نے پوری کر دی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ٹیکنالوجی ہمارے لیے آسانی پیدا کرتی مگر لگتا یوں ہے کہ الٹا کام بڑھ گیا ہے۔ امام غزالی محض باون برس زندہ رہے اور بغیر کسی اے آئی کے ستّر کتابیں لکھ ڈالیں۔ سعادت حسن منٹو نے بیالیس برس کی عمر پائی اور تیس کتابیں چھوڑ گئے، جن میں بائیس افسانوی مجموعے ہیں۔ آج کے دور میں یہ باتیں کسی اور ہی سیارے کی داستان معلوم ہوتی ہیں۔ ہم نے سوچا تھا کہ اے آئی ہمارا وقت بچائے گی، وقت شاید بچتا بھی ہو مگر اتنے ہی اضافی کام نکل آتے ہیں۔ باس دس دن کا کام دے کر کہتا ہے کہ ایک گھنٹے میں لے آؤ، آخر چیٹ جی پی ٹی کس مرض کی دوا ہے۔ اور اگر ایک گھنٹے میں کرکے دکھا دو تو کہے گا کہ یہ تو آپ اے آئی سے بنوا لائے، اپنا مائنڈ اپلائی نہیں کیا۔ بندہ پوچھے میں کتھے منجی ڈاہواں!

بہرحال یہ ایک ایسا نشہ ہے جس سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ میں ذاتی طور پر اس صورتِ حال سے زار و قطار تنگ ہوں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہمیں بچوں سے سیکھنا چاہیے۔ جس انہماک سے وہ اپنے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس میں مگن ہوتے ہیں، وہ اب بڑے بڑے پروفیشنلز میں بھی نظر نہیں آتا۔ بچے جس چیز پر فوکس کرلیں، اس سے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ لیکن ہمارا فوکس ہی ختم ہو چکا ہے۔ یہاں پڑھنے کیلئے کتاب اٹھائی، اور وہاں فون پر نوٹیفکیشن آ گیا، اُس کے بعد چل سو چل۔

ہماری روزمرہ زندگی الگورتھم کی اس قدر پابند ہو چکی ہے کہ اب ہمیں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ آخری بار ہم نے بغیر اسکرین کے کب سکون کا سانس لیا تھا۔ ایک شخص دوسرے سے دس فٹ کے فاصلے پر بیٹھا ہے لیکن وہ بالمشافہ بات کرنے کے بجائے ٹیکسٹ میسج بھیج رہا ہے۔ ماضی میں جب لوگ سفر پر نکلتے تھے تو راستے دریافت کرتے تھے، مقامی لوگوں سے پتا پوچھتے تھے، غلط موڑ مڑتے تھے اور اس پورے عمل میں نئے مقامات اور نئے لوگوں سے آشنا ہوتے تھے۔ آج محلے کی دکان تک بھی جانا ہو تو گوگل میپ آن کر لیتے ہیں۔ اور اگر معاملہ دو چار کلومیٹر کا ہو تو خود کو جی پی ایس والی خاتون کے سپرد کر دیتے ہیں، وہ کہتی ہے مڑ جاؤ، ہم بلا چون و چرا مڑ جاتے ہیں چاہے گاڑی کھیتوں میں ہی کیوں نہ چلی جائے۔ حالانکہ کبھی کبھی انسان کو جی پی ایس کے بغیر بھی نکلنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ تھوڑی دیر کے لیے گُم ہی ہو جائیں گے۔ گم ہو جانا بھی دراصل خود کو دریافت کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

اور پھر ہم نے بوریت کو عذاب سمجھ لیا ہے۔ جیسے ہی دو منٹ کا فارغ وقت ملتا ہے، ہاتھ فوراً جیب کی طرف جاتا ہے اور فون باہر نکل آتا ہے۔ ہم اپنے دماغ کو کبھی خالی رہنے ہی نہیں دیتے حالانکہ تمام تخلیقی صلاحیتیں بوریت ہی کے لمحات میں جنم لیتی ہیں۔ میں نے تو اکثر یہ تجربہ کیا ہے کہ جب لکھنے کیلئے کچھ سوجھ نہ رہا ہو تو آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ہوں۔ خالی دماغ میں غیب سے کوئی نہ کوئی مضمون نازل ہو ہی جاتا ہے۔ دراصل ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ اس نے رفتار کو ’پیداواری صلاحیت‘ اور پیداواری صلاحیت کو ’معنویت‘ سمجھ لیا ہے۔ جب ایک الگورتھم آپ کو یہ بتاتا ہے کہ اگلے پانچ منٹ میں کون سا گانا سننا ہے، کون سی کتاب پڑھنی ہے یا کس قسم کی خبریں دیکھنی ہیں تو وہ آپ سے آپ کا ’انتخاب‘ چھین رہا ہوتا ہے جبکہ آنجہانی سارتر فرما گئے ہیں کہ انسان اپنے انتخاب میں آزاد ہے۔ ’اے پئی جے آزادی‘۔

انسان نے مصنوعی ذہانت اس لیے بنائی تھی تاکہ وہ انسان کی طرح سوچ سکے لیکن انسان نے خود مشین کی طرح سوچنا شروع کر دیا ہے۔ کمپیوٹر کی طرح تیزی سے کام کرنا، ڈیٹا کی صورت میں سوچنا اور ہر جذبے کی ایک ریاضیاتی قیمت متعین کرنا! ہمارے دماغ میں یہ بات نقش ہو چکی ہے کہ اگر آپ کچھ نہیں کر رہے تو آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ جبکہ تصوف اور مشرقی فکر میں ’فراغت‘ یا ’خلوت‘ کا ایک خاص مقام رہا ہے۔ بلھے شاہ، سچل سرمست يا غالب کے ہاں فکر کا نزول اس وقت ہوتا تھا جب وقت ٹھہر جاتا تھا لیکن آج کا ڈیجیٹل دور ’ٹھہراؤ‘ کو ’حرام‘ سمجھتا ہے۔ اگر آپ کچھ نہیں کر رہے تو آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔

اے آئی سے ایک اور گلہ مجھے یہ بھی ہے کہ یہ چاہتی ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو، کوئی غلط موڑ نہ مڑا جائے، کوئی ٹائپو نہ ہو، کوئی غلط انتخاب نہ ہو۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ اے آئی بناتے وقت معشوقاؤں کی کچھ خصلتیں بھی اِس میں شامل کردی گئی تھیں۔ جب مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں سے غلطی کی گنجائش کو ختم کر دےگی تو وہ اس کے ساتھ ہی انکشاف اور غیر متوقع دریافت کا پورا حسن بھی ختم کر دے گی۔ اے آئی کے اِس دور میں اگر کوئی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو انسان ہی رہنے دے گی تو وہ محبت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یار لوگوں نے مصنوعی گرل فرینڈز بھی بنا دی ہیں جو نہ نخرے کرتی ہیں اور نہ کوئی حکم عدولی، بلا چون و چراہر بات مانتی ہیں۔ اسے مردانہ خود پسندی کی معراج ہی کہیں گے۔

ہو سکتا ہے اے آئی کے بازار میں حکم بجا لانے والے مرد بھی دستیاب ہوں مگر اُن کی مانگ کم ہوگی کیونکہ جب معاشرے میں ایسے اصل مرد مفت میں مل رہے ہوں تو پیسے دے کر نقل خریدنے کی کیا ضرورت! خیر بات محبت کی ہو رہی تھی۔ اے آئی آپ کیلئے طویل مضامین لکھ سکتی ہے، پیچیدہ کوڈنگ کر سکتی ہے، دلکش تصاویر تخلیق کر سکتی ہے لیکن وہ بے لوث محبت نہیں کر سکتی۔ انسانی تعلقات میں خطرہ مول لینا اور کسی کی محبت میں گرفتار ہو جانا صرف اور صرف انسان کا طُرّۂ امتیاز ہے۔

باقی رہی یہ بات کہ اے آئی انسانیت کیلئے خطرہ ہے تو میں یہ نہیں مانتا کیونکہ مستقبل میں اے آئی عورت کو بھی بتائے گی کہ وہ کہاں اور کیسے غلط ہے اور وہ بالآخر اے آئی کے خاتمے کا دن ہوگا۔ (آخری جملہ انٹرنیٹ سے مستعار ہے)۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)